data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

کراچی (کامرس رپورٹر) پاکستان وناسپتی مینوفیکچررز ایسوسی ایشن (پی وی ایم اے) کے چیئرمین شیخ عمر ریحان نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ یوٹیلیٹی اسٹورز کارپوریشن پر گھی ملوں کے 6.5 ارب روپے کی رقم فوری طور پر واپس کی جائے، جو گزشتہ ایک سال سے واجب الادا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس معاملے پر بارہا توجہ دلانے کے باوجود تا حال رقم کی ادائیگی نہیں کی گئی، جس سے گھی و کوکنگ آئل انڈسٹری شدید مالی مشکلات سے دوچار ہے۔شیخ عمر ریحان نے کہا کہ ملک بھر کی گھی ملیں 6.

5 ارب روپے مالیت کا گھی اور کوکنگ آئل یوٹیلیٹی اسٹورز کو فراہم کر چکی ہیں، تاہم واجبات کی عدم ادائیگی کے باعث ان اداروں کو لیکویڈیٹی کے شدید مسائل کا سامنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ صنعت کار اپنے آپریشنل اخراجات اور خام مال کی درآمد کے لیے سرمایہ کی قلت کا شکار ہیں، جس سے پیداواری عمل متاثر ہو رہا ہے اور اگر فوری اقدامات نہ کیے گئے تو صنعت کی پائیداری خطرے میں پڑ سکتی ہے۔ چیئرمین پی وی ایم اے نے واضح کیا کہ یہ مسئلہ صرف انڈسٹری کا نہیں بلکہ حکومتی ساکھ کا بھی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم گزشتہ ایک سال سے وزارت خزانہ اور وزارت صنعت و تجارت کو اس اہم مسئلے سے آگاہ کر رہے ہیں، مگر کوئی عملی پیشرفت نہیں ہوئی۔ واجبات کی مسلسل عدم ادائیگی نے نہ صرف کاروباری برادری کا اعتماد متاثر کیا ہے بلکہ معیشت میں غیر یقینی صورتحال کو بھی جنم دیا ہے۔شیخ عمر ریحان نے وزیر خزانہ سینیٹر محمد اورنگزیب اور وزیر اعظم کے مشیر برائے صنعت و تجارت ہارون اختر خان سے اپیل کی کہ وہ ذاتی دلچسپی لیتے ہوئے اس معاملے کی فوری تحقیقات اور رقم کی واپسی کے لیے مؤثر اقدامات کریں۔شیخ عمر ریحان نے کہا کہ گھی و کوکنگ آئل انڈسٹری ملک کی فوڈ سیکیورٹی اور روزگار کے تسلسل میں اہم کردار ادا کر رہی ہے، اس لیے حکومت پر لازم ہے کہ وہ صنعتکاروں کے واجبات کی بروقت ادائیگی یقینی بنائے تاکہ یہ شعبہ استحکام کے ساتھ ملکی معیشت میں اپنا کردار ادا کرتا رہے۔

کامرس رپورٹر گلزار

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: نے کہا کہ

پڑھیں:

گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست

فیصل کریم کنڈی نے خط میں کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔ اسلام تائمز۔ گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے وزیراعظم پاکستان کے نام خط لکھ کر ضم شدہ قبائلی اضلاع اور پاٹا کے لیے وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے اور اس میں توسیع کی درخواست کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کر کے انضمام کے وقت کیے گئے وعدوں کی پاسداری کی جائے۔ گورنر فیصل کریم کنڈی نے خط میں مطالبہ کیا کہ قبائلی اضلاع اور پاٹا میں انکم ٹیکس، سیلز ٹیکس اور دیگر وفاقی محصولات کے نفاذ پر نظرثانی کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔

انہوں نے تجویز دی کہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں پر مشتمل مشترکہ کمیٹی قائم کر کے قبائلی اضلاع کی معاشی صورتحال کا جائزہ لیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ نئے ٹیکسوں کے نفاذ سے قبل ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کی معاشی و مالی صورتحال کا جائزہ لینا ضروری ہے، جبکہ ٹیکسوں کا معاملہ مشترکہ مفادات کونسل یا کسی مناسب آئینی فورم پر فوری طور پر پیش کیا جائے۔

گورنر خیبر پختونخوا نے کہا کہ قبائلی عوام نے پاکستان کے امن، استحکام اور سلامتی کے لیے بے مثال قربانیاں دی ہیں۔ وفاق اور صوبے کی یکساں ٹیکس پالیسی قبائلی عوام کا ریاست پر اعتماد بحال کرنے میں مددگار ثابت ہوگی، جبکہ ٹیکس ریلیف سے ضم شدہ اضلاع کی سماجی و معاشی ترقی اور قومی دھارے میں انضمام کا عمل مزید تیز ہوگا۔

متعلقہ مضامین

  • گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
  • فیصل آباد:حکومت سے مذاکرات ناکام ہونے پر پیٹرول پمپ مالکان کا پمپس بند رکھنے کا اعلان
  • عوامی مسائل کے حل میں تاخیر برداشت نہیں کی جائے گی، ضیاء الحسن لنجار
  • پاکستان کو درپیش خطرات کا باعث بننے والے دہشتگردوں اور ان کے سہولتکاروں کا ہر قیمت پر خاتمہ کیا جائے گا، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر