کراچی ملک کی لائف لائن ہے‘ پیپلز پارٹی کی صوبائی حکومت نے کھنڈر بنادیا ٗ منعم ظفر
اشاعت کی تاریخ: 31st, October 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
251031-01-14
کراچی (اسٹاف رپورٹر) امیر جماعت اسلامی کراچی منعم ظفر خان نے کہا ہے کہ کراچی پورے ملک کی لائف لائن ہے لیکن اسے دانستہ نظر انداز کیا جا رہا ہے۔ پیپلز پارٹی کی صوبائی حکومت کی نااہلی اور کرپشن نے شہر کو کھنڈر بنا دیا ہے، سڑکیں ٹوٹی ہوئی ہیں، پانی ناپید ہے، سیوریج کا نظام درہم برہم ، انفرا اسٹرکچر تباہ حال ہے اور ای چالان کے نام پر شہریوں کی جیبوں پر ڈاکا ڈالا جا رہا ہے۔ صرف گزشتہ 24 گھنٹے میں ساڑھے 6 کروڑ روپے کے چالان کر کے ظلم کی انتہا کر دی گئی۔ وفاقی و صوبائی حکومتوں نے مل کر کراچی کو تباہ کیا ہے۔سندھ حکومت نے کراچی کے ترقیاتی فنڈز اور2010تا 2025تک کراچی کے حصے کے 3ہزار 360ارب روپے ہڑپ کرلیے ۔ انفرااسٹرکچر سیس کے نام پر ایک ہزار ارب روپے وصول کیے گئے مگر شہر کی تعمیر پر خرچ نہیں کیے گئے ،جماعت اسلامی اقامت دین، عدل کے قیام اور ظلم کے نظام کے خاتمے کی جدوجہد کر رہی ہے۔ پاکستان کلمے کی بنیادپر حاصل کیا گیا تھا، مگر آج ملک میں ظلم، ناانصافی، مہنگائی اور بے روزگاری نے عوام کا جینا دوبھر کر دیا ہے۔ حکمرانوں کے چہرے بدلتے ہیں مگر نظام وہی استحصالی رہتا ہے۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے جماعت اسلامی ضلع جنوبی کے تحت شاہ عبدالطیف بھٹائی ہال موسیٰ لین لیاری میں عوامی کمیٹیوں کی تقریب حلف برداری و ممبرز کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔تقریب سے امیر ضلع جنوبی سفیان دلاور،سابق ایم پی اے سید عبدالرشید، نائب امیرضلع جنوبی و رکن سٹی کونسل سید جواد شعیب ودیگر نے بھی خطاب کیا ۔اس موقع پر سابق رکن صوبائی اسمبلی غلام حسین بلوچ ، فضل الرحمن سمیت بڑی تعداد میں نوجوان، معززین علاقہ اور جماعت اسلامی کے ذمے داران بھی موجود تھے ۔ منعم ظفر خان نے مزیدکہاکہ جماعت اسلامی واحد جماعت ہے جو کراچی کے عوام کے حق کی جدوجہد کر رہی ہے۔ اختیارات و وسائل نہ ہونے کے باوجود2 سال میں 171 سے زاید پارک بحال اور 43 سرکاری اسکولوں کی تعمیر نو کی، ایک لاکھ سے زاید اسٹریٹ لائٹس نصب کیں اور 6 لاکھ افراد تک پانی پہنچایا۔ یہ سب اس عزم کا مظہر ہے کہ جماعت اسلامی خدمت کو عبادت سمجھتی ہے۔انہوں نے کہا کہ لیاری میں قائم ہونے والی 200 عوامی کمیٹیاں محلے اور گلی کی سطح پر عوامی خدمت کا فریضہ انجام دیں گی۔ یہ کمیٹیاں صفائی ستھرائی کی بہتری ، قانون شکنی کی روک تھام اور منشیات کے خاتمے کے لیے فعال کردار ادا کریں گی۔منعم ظفر خان نے شرکا کو جماعت اسلامی کے اجتماعِ عام لاہور میں شرکت کی دعوت دیتے ہوئے کہا کہ 21، 22 اور 23 نومبر کومینار پاکستان لاہور میں ہونے والا اجتماعِ عام ملک میں رائج ظلم و استحصال کے نظام کی تبدیلی کی تحریک کا آغاز ثابت ہوگا۔ اجتماع عام کا پیغام ہے’’بدل دو نظام کو‘‘۔انہوں نے کہا کہ پورے ملک سے نوجوان، خواتین، بچے اور مختلف شعبہ ہائے زندگی سے وابستہ افراداس میں شریک ہوں گے۔ سفیان دلاور نے کہاکہ جماعت اسلامی ظلم کے مقابلے میں عدل و انصاف کے نظام کے قیام کی جدوجہد کر رہی ہے۔ لیاری کے عوام بجلی، پانی، سڑکوں اور منشیات جیسے سنگین مسائل سے دوچار ہیں مگر حکمرانوں نے عوامی مسائل سے چشم پوشی اختیار کر رکھی ہے۔ جماعت اسلامی خدمت، امانت اور دیانت کی علامت ہے، کراچی کے عوام کے چہروں پر مسکراہٹ لوٹانا ہمارا مشن ہے۔
امیر جماعت اسلامی کراچی منعم ظفر خان ، سفیان دلاور، سید عبد الرشید، سید جواد شعیب جماعت اسلامی ضلع جنوبی کے تحت موسیٰ لین لیاری میں عوامی کمیٹیوں کی تقریب حلف برداری و ممبرز کنونشن سے خطاب کررہے ہیں
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: جماعت اسلامی کراچی کے
پڑھیں:
گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
فیصل کریم کنڈی نے خط میں کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔ اسلام تائمز۔ گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے وزیراعظم پاکستان کے نام خط لکھ کر ضم شدہ قبائلی اضلاع اور پاٹا کے لیے وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے اور اس میں توسیع کی درخواست کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کر کے انضمام کے وقت کیے گئے وعدوں کی پاسداری کی جائے۔ گورنر فیصل کریم کنڈی نے خط میں مطالبہ کیا کہ قبائلی اضلاع اور پاٹا میں انکم ٹیکس، سیلز ٹیکس اور دیگر وفاقی محصولات کے نفاذ پر نظرثانی کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔
انہوں نے تجویز دی کہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں پر مشتمل مشترکہ کمیٹی قائم کر کے قبائلی اضلاع کی معاشی صورتحال کا جائزہ لیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ نئے ٹیکسوں کے نفاذ سے قبل ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کی معاشی و مالی صورتحال کا جائزہ لینا ضروری ہے، جبکہ ٹیکسوں کا معاملہ مشترکہ مفادات کونسل یا کسی مناسب آئینی فورم پر فوری طور پر پیش کیا جائے۔
گورنر خیبر پختونخوا نے کہا کہ قبائلی عوام نے پاکستان کے امن، استحکام اور سلامتی کے لیے بے مثال قربانیاں دی ہیں۔ وفاق اور صوبے کی یکساں ٹیکس پالیسی قبائلی عوام کا ریاست پر اعتماد بحال کرنے میں مددگار ثابت ہوگی، جبکہ ٹیکس ریلیف سے ضم شدہ اضلاع کی سماجی و معاشی ترقی اور قومی دھارے میں انضمام کا عمل مزید تیز ہوگا۔