پشاور، الخدمت کے تحت 31 یتیم اور نادار بچیوں کی اجتماعی شادیوں کا انعقاد
اشاعت کی تاریخ: 30th, October 2025 GMT
بچیوں کو لاکھوں روپے مالیت کے گھریلو استعمال کی اشیاء فراہم کی گئیں، امیرالعظیم کا تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہنا تھا کہ جماعت اسلامی اور الخدمت عملی طور پر حقیقت پر مبنی اسلامی فلاحی معاشرے کے قیام کے لیے کوشاں ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ الخدمت فاؤنڈیشن کے تحت "آسان نکاح پروگرام" میں پشاور کے مختلف علاقوں سے تعلق رکھنے والی مزید 31 یتیم اور نادار بچیوں کو لاکھوں روپے مالیت کے روزمرہ گھریلو استعمال کی ضروری اشیاء پر مشتمل جہیز سیٹ فراہم کیے گئے۔ اس سلسلے میں الخدمت فاؤنڈیشن پشاور کے تحت پیراماؤنٹ شادی ہال نادرن بائی پاس پشاور میں جماعت اسلامی کے ضلعی امیر بحراللہ خان ایڈوکیٹ کی زیر صدارت اجتماعی شادیوں کی پُروقار تقریب کا انعقاد کیا گیا۔ اس موقع پر سیکرٹری جنرل جماعت اسلامی پاکستان امیرالعظیم مہمانِ خصوصی تھے۔ تقریب میں الخدمت فاؤنڈیشن کے مرکزی نائب صدر ذکراللہ مجاہد، پیپلز پارٹی کے سابق صوبائی وزیر سید ظاہر علی شاہ، جماعت اسلامی کے صوبائی امیر عبدالواسع، الخدمت کے صوبائی صدر خالد وقاص، ضلعی صدر ارباب عبدالحسیب، اے ڈی سی ریلیف عظمیٰ مکرم اور سرحد چیمبر آف کامرس صدر جنید الطاف سمیت معززینِ شہر اور مخیر افراد نے شرکت کی۔
اس موقع پر جماعت اسلامی کے صوبائی امیر عبدالواسع نے 31 جوڑوں کا نکاح پڑھایا۔ الخدمت فاؤنڈیشن کی جانب سے 31 یتیم بچیوں اور مستحق جوڑوں کو فی جوڑا ڈھائی لاکھ روپے مالیت کا روزمرہ گھریلو استعمال پر مشتمل امدادی سامان فراہم کیا گیا، جس میں ڈبل بیڈ، واشنگ مشین، پیڈیسٹل فین، استری، جوسر، ہاٹ پاٹ، واش روم سیٹ، کوکر، پتیلہ سیٹ، ڈنر، ٹی اور واٹر سیٹ، کچن سیٹ اور بستروں پر مشتمل ونٹر پیکیج شامل تھا۔ الخدمت فاؤنڈیشن کے صوبائی صدر خالد وقاص نے خطاب کرتے ہوئے معاشرے کے اہلِ خیر اور صاحبِ ثروت افراد سے اپیل کی کہ وہ استطاعت نہ رکھنے والے مستحق نوجوانوں کی شادیِ خانہ آبادی کے لیے الخدمت فاؤنڈیشن کے "آسان نکاح پراجیکٹ" میں دل کھول کر عطیات دیں تاکہ دکھی انسانیت کی بلا تفریق خدمت کے مشن کو جاری رکھا جا سکے۔
تقریب سے خطاب کرتے ہوئے مہمانِ خصوصی جماعت اسلامی پاکستان کے مرکزی سیکرٹری جنرل امیرالعظیم نے کہا کہ میاں بیوی خاندان کی بنیاد ہے، یہ بنیاد جتنی مضبوط اور مستحکم ہوگی، معاشرے میں بھی اتنا ہی استحکام پیدا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ مغربی معاشرے میں طلاق کے بڑھتے ہوئے اثرات اب ہمارے معاشرے پر بھی پڑ رہے ہیں، طلاق کے اس تباہ کن کلچر سے اپنے معاشرے کو بچانے کے نتیجے میں ہی ہم ایک اچھے اور پاکیزہ معاشرے کا قیام ممکن بنا سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ الخدمت فاؤنڈیشن حقیقی معنوں میں فلاحی معاشرے کے قیام کے لیے کوشاں ہے اور اس مقصد کے لیے الخدمت رنگ، نسل، زبان اور مذہب سے بالاتر ہو کر عوام کی بلا تفریق خدمت پر یقین رکھتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملک اور قوم کو درپیش چیلنجز سے نمٹنے کے لیے بلا تفریق اجتماعی کاوشیں وقت کی ضرورت ہیں، اور الخدمت فاؤنڈیشن اسی مقصد کے لیے جدوجہد کر رہی ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: الخدمت فاؤنڈیشن کے جماعت اسلامی کے صوبائی نے کہا کہ کے لیے
پڑھیں:
ٹرمپ پر قاتلانہ حملے کے بعد منسوخ ہونے والے وائٹ ہاؤس پریس ڈنر کے دوبارہ انعقاد کا فیصلہ
واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ پر قاتلانہ حملے کے بعد منسوخ کر دیے گئے وائٹ ہاؤس پریس ڈنر کو دوبارہ منعقد کرنے کا اعلان کر دیا گیا ہے۔ تقریب اب 24 جولائی کو منعقد ہوگی اور صدر ٹرمپ اس میں شرکت کریں گے۔
امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے تقریب میں شرکت کی دعوت قبول کر لی ہے۔ یہ تقریب واشنگٹن میں صحافیوں اور میڈیا نمائندوں کے اعزاز میں منعقد کی جاتی ہے اور امریکی سیاسی و میڈیا حلقوں کی اہم تقریبات میں شمار ہوتی ہے۔
صدر ٹرمپ نے اس حوالے سے اپنے بیان میں کہا کہ وہ ’پاگل عناصر‘ کو اپنی طرزِ زندگی یا اپنے شیڈول میں تبدیلی لانے کی اجازت نہیں دے سکتے۔ ان کا کہنا تھا کہ عوامی سرگرمیاں اور سرکاری تقریبات معمول کے مطابق جاری رہیں گی۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ فی الحال یہ کہنا مشکل ہے کہ آیا وہ تقریب میں پہلے کی طرح سخت اور دوٹوک انداز میں خطاب کریں گے یا نہیں، تاہم اس بارے میں جلد ہی صورتحال واضح ہو جائے گی۔
صدر ٹرمپ کے مطابق یہ تقریب پنسلوانیا ایونیو پر واقع والڈورف آسٹوریا کے بال روم میں منعقد ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ اس مقام کی تعمیر میں ان کا بھی کردار رہا ہے۔
یاد رہے کہ رواں سال اپریل میں واشنگٹن میں وائٹ ہاؤس کے میڈیا نمائندوں کے اعزاز میں منعقدہ عشائیے کے دوران فائرنگ کا واقعہ پیش آیا تھا۔ اس واقعے میں صدر ٹرمپ محفوظ رہے جبکہ حملہ آور کو موقع پر گرفتار کر لیا گیا تھا۔
بعد ازاں امریکی حکام نے ملزم پر صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو قتل کرنے کی کوشش کا باضابطہ الزام عائد کیا تھا، جس کے بعد سکیورٹی خدشات کے پیش نظر پریس ڈنر کو منسوخ کر دیا گیا تھا۔
اب تقریب کی دوبارہ میزبانی کے اعلان کو صدر ٹرمپ کی معمول کی سرگرمیوں کی بحالی اور سکیورٹی اداروں کے اعتماد کا اظہار قرار دیا جا رہا ہے۔