Jasarat News:
2026-06-02@23:02:57 GMT

منشیات کا خاتمہ پولیس کرسکتی ہے!

اشاعت کی تاریخ: 14th, December 2025 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

کسی بھی معاشرے میں پولیس کا کردار نہایت ہی اہم ہوتا ہے، معاشرے میں موجود افراد کی جان و مال، جرائم کی روک تھام، معاشرتی برائیوں کا خاتمہ، قانون کا نفاذ اور امن و امان قائم رکھنے کی اہم ذمہ داری ان کی ہوتی ہے۔ ہم یہ بات کہہ سکتے ہیں کہ پولیس کسی بھی معاشرے میں شہ رگ کی حثیت رکھتی ہے۔پولیس بڑے سے بڑے مجرم کو پکڑ کر سزا دلا سکتی ہے، دہشت گردی، قدرتی آفات، بچوں اور خواتین پر تشدد کی روک تھام اور معاشرے میں سرایت کرتی ہوئی منشیات کو جڑ سے ختم کر کے جنت کا نمونہ بنا سکتی ہے۔

ہمارے معاشرے میں جو اس وقت سب سے بڑی برائی ہے وہ وطن عزیز میں منشیات کا استعمال ہے یہ پھیلاؤ روز بروز بڑھتا ہی جارہا ہے، لاکھوں گھرانے تباہ و برباد ہوگئے ہیں، نوجوان نشے کی لت میں سر عام زندہ درگور پڑے ہوئے ہیں، چرس، ہیروئن، نشہ آوار گولیاں، کرسٹل آیس، شراب اور الیکٹرانک سگریٹ بآسانی فروخت ہو رہی ہے، منشیات کے عادی نشہ کر کے صرف چوری چکاری نہیں کرتے ہیں بلکہ یہ جان لینے سے بھی دریخ نہیں کرتے ہیں، گزشتہ سال ان نشی افراد نے کراچی میں اسٹریٹ جرائم مزاحمت پر 110، معصوم افراد کو قتل کر دیا، رواں سال اسٹریٹ جرائم کے 69، ہزار واقعات رپوٹ ہوئے، مزاحمت کرنے پر 83، افراد اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے اور 286، افراد زخمی ہوئے ، سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ منشیات کی روک تھام میں ہمیں پولیس کا نمایاں کردار کیوں نظر نہیں آتا ہے؟

اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ پولیس میں کالی بھیڑیں موجود ہیں جو اسلامی تعلیمات اور حب الوطنی کے جذبے سے دور ہیں، یہ ہی وجہ کہ کراچی میں روز آنہ 42، ٹن چرس کا استعمال اور خرید وفروخت ہوتی ہے، بدقسمتی کراچی دنیا بھر میں چرس کے استعمال میں سہرفہرست ہے۔ ہماری اینٹی نارکوٹکس فورس( اے این ایف) کا کام سرحدی علاقوں سے منشیات کی روک تھام کا اہم کام ہے لیکن اس کے باوجود وہ شہری علاقوں سے بڑی مقدار میں منشیات پکڑتی ہے،اے این ایف کے مطابق تعلیمی اداروں میں منشیات کا استعمال مسلسل بڑھ رہا ہے،اس فورس نے دو سالوں میں پاکستان کے تعلیمی اداروں سے 41، من منشیات پکڑی ہے، دیکھا جائے تو یہ کام ہماری پولیس کا تھا۔ ڈان نیوز کے مطابق ہمارے 60، فیصد تعلیمی ادارے منشیات کی زد میں ہیں، 50، فیصد طلباء ریگولر منشیات استعمال کر رہے ہیں۔

5،دسمبر 2025 کو کسٹم حکام نے 30 کروڑ مالیت کی نشہ کرنے والی ساڑھے نو ہزار گولیاں ضبط کرلی، ہمارے معاشرے میں ہر طرف سے منشیات کی آمد ہو رہی ہے لہذا اس طرح کے حالات میں پولیس کا کردار اور اہم ہو جاتا ہے،سن 2020 میں خیبر پختونخوا کے اس وقت کے آئ جی ثنا اللّہ عباسی نے منشیات فروشوں کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی بنائی جس سے نہ صرف پوست کی کاشت کا خاتمہ ہوا بلکہ منشیات فروشوں کا بھی خاتمہ ہوا۔محکمہ ایکسائز پولیس سندھ کا کام منشیات کی روک تھام ہیں لیکن بد قسمتی سے فروغ منشیات کا کام بھی کر رہا ہے یکم دسمبر 2025 کو ایکسائز آفیسر جاوید رشید کے گھر سے 508، کلو گرام منشیات برآمد کی گئی جس کی مالیت قریباً 28، کروڑ بنتی ہے۔کراچی میں 111، تھانے ہیں اگر یہ چاہیں تو مکمل طور پر شہر کو منشیات سے پاک کرسکتے ہیں، ضرورت اس امر کی ہے کہ پولیس میں اوپر سے نیچے تک کڑا احتساب ہونا چاہیے، عوام الناس سے اپنا اعتماد کا رشتہ مضبوط کرنا چاہیے، سیاسی وابستگی سے بالا تر ہو کر سچے، پکے مسلمان اور وطن سے محبت کرنے والے نوجوانوں کی بھرتی ہونی چاہیے، پولیس کے کام میں کسی کو مداخلت کی اجازت نہیں ہونی چاہیے، پولیس غیر قانونی افغانیوں کو پکڑ کر نکالے تو منشیات کے پھیلاؤ میں حیرت انگیز کمی آے گی، پولیس اہلکاروں کے خون اور پیشاب کا ٹیسٹ کیا جائے، منشیات کے استعمال اور خرید وفروخت میں ملوث پولیس والوں کو گرفتار کر کے معطل اور سزا دی جائے، انسدادِ منشیات ٹاسک فورس کو فعال کیا جائے، منشیات کی روک تھام کرنے والے اہلکاروں کو ترقی اور انعامات سے نوازا جائے۔ ایکسائز پولیس کو اے این ایف کے حوالے کیا جائے۔ پولیس جو منشیات پکڑے اس سے عوام الناس کے سامنے جلایا جاے، پولیس کے اعلیٰ حکام تعلیمی اداروں کے سربراہان اور سماجی تنظیموں کی مدد سے طلبہ میں منشیات کے خلاف شعور و آگہی کی مہم شروع کرے۔محکمہ پولیس میں اب بھی بے شمار محب وطن اہلکار موجود ہیں جو پاکستان کو منشیات سے پاک چاہتے ہیں۔

رفیع احمد گلزار.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: منشیات کی روک تھام میں منشیات منشیات کے منشیات کا پولیس کا

پڑھیں:

ٹک ٹاکر حکیم بابر کیس میں ملزمان کا موقف بھی سامنے آگیا

سیالکوٹ(نیوز ڈیسک) ٹک ٹاکر حکیم بابر سے متعلق مبینہ زہر خوری کیس میں نامزد ملزم صفدر کے بھائی ملک سلیم کھوکھر کا ویڈیو بیان منظر عام پر آگیا جس میں انہوں نے تمام الزامات کو مسترد کر دیا ہے۔

ویڈیو بیان میں ملک سلیم کھوکھر نے دعویٰ کیا کہ محمد افضل عرف حکیم بابر نے سوشل میڈیا پر ویوز حاصل کرنے کیلئے خود کو زہر خورانی کا شکار ظاہر کرنے کا ڈرامہ رچایا، اسپتال کی رپورٹ میں بھی یہ بات سامنے آئی ہے کہ حکیم بابر کو کسی قسم کا زہر نہیں دیا گیا۔

انہوں نے کہا کہ حکیم بابر نشے کے عادی ہیں اور کسی مبینہ اوور ڈوز کے واقعے کو ان کے خاندان پر ڈالنے کی کوشش کی جا رہی ہے، ان کے خاندان کا حکیم بابر کے ساتھ کسی قسم کا کوئی ذاتی تنازع یا دشمنی موجود نہیں۔

ملک سلیم کھوکھر انکشاف کیا کہ حکیم بابر کا اصل نام افضل ہے اور وہ کوئی مستند حکیم نہیں بلکہ تعلیمی طور پر بھی میٹرک پاس نہیں ہیں، جھوٹے مقدمے کی وجہ سے میرا خاندان شدید ذہنی دباؤ اور پریشانی کا شکار ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ رات کے وقت پولیس کی جانب سے دو بار گھر پر چھاپے مارے گئے، کو ہراساں مت کیا جائے۔

انہوں نے ڈی پی او سیالکوٹ اور آئی جی پنجاب سے اپیل کی کہ کیس کی شفاف اور میرٹ پر انکوائری کی جائے اور حقائق کی روشنی میں فیصلہ کیا جائے۔

مزید پڑھیں۔مشرق وسطیٰ کی صورتحال، خام تیل کی قیمتوں میں 2 فیصد اضافہ

متعلقہ مضامین

  • گلگت میں ن لیگ کے ترقیاتی کاموں کا کوئی جماعت مقابلہ نہیں کرسکتی، احسن اقبال
  • ہمارا ایک مطالبہ ہے بانی کو شفا انٹرنیشنل منتقل کیا جائے، سہیل آفریدی
  • بانی سے ملاقات تک خیبرپختونخوا کا بجٹ پاس نہ کیا جائے، علیمہ خان کی سہیل آفریدی کو تنبیہ
  • متوسط اور تنخواہ دار طبقہ پس رہا ہے، حکومت بجٹ میں سہولیات دے، حافظ نعیم الرحمن
  • چاہتا ہوں کرنسی سے قائداعظم کی تصویر ہٹا دی جائے، شہزاد نواز نے ایسا کیوں کہا؟
  • پنکی کے بعد کراچی سے ایک اور منشیات فروش خاتون گرفتار
  • وفاقی بجٹ5جون کو پیش نہیں کیا جائے گا
  • لاہور: محکمۂ قانون پنجاب نے بجٹ کی تاریخ تبدیل کرنے کی تجویز دے دی
  • لاہور کی رہائشی خاتون کی منشیات برآمدگی کیس میں ضمانت منظور
  • ٹک ٹاکر حکیم بابر کیس میں ملزمان کا موقف بھی سامنے آگیا