اسلام آباد (عترت جعفری) آئی ایم ایف نے ای آبیانہ ایریگیشن سروس چارج کولیکشن سسٹم  شروع  کرنے کی ہدایت کی ہے، سندھ کے پی کے اور بلوچستان کی حکومتیں اس پر عمل کریں گی، اس شرط کی تکمیل کا جائزہ قرضہ پروگرام کے چھٹے ریویومیں لیا  جائے گا، آئی ایم ایف کا کہنا ہے کہ  اس  کے  نتیجے میں پانی کے متعلق ریونیو کولیکشن بڑھے گی۔ ورلڈ بنک اس سلسلے میں تکنیکی سپورٹ دے گا۔ پنجاب اور سندھ  کو واٹر ٹیرف ایڈجسٹمنٹ میکنزم بنانے کے لیے کہا گیا ہے تاکہ اریگیشن انفراسٹرکچر کے آپریشنل اور مرمت کے اخراجات کو اس ٹیرف کی آمدن سے  پورا کیا جا سکے، دونوں صوبوں کو اس شرط پر عمل فروری 27 سے پہلے  کرنا ہوگا، آئی ایم ایف نے پاکستان کے لیے مانیٹرنگ اور رپورٹنگ کے تقاضوں کو بھی بیان کیا ہے۔ سٹیٹ بنک آف پاکستان کو ہدایت کی گئی ہے کہ 34 معاملات میں آئی ایم ایف کو کسی معاملہ میں روزانہ کسی معاملہ میں ایک ہفتے میں اور کسی معاملہ میں 60 دن میں ڈیٹا فراہم کرے۔ وزارت خزانہ کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ 13 امور میں مقررہ شیڈول کے مطابق اسے رپورٹ دیا کرے، ایف بی آر کو 10 امور پر مقررہ شیڈیول کے مطابق ڈیٹا دینے کے لیے کہا گیا ہے۔ اس میں ریونیو کلیکشن، ٹیکس کریڈٹ، ٹیکسوں کے ریفنڈ کے کلیم اور بقایا جات ، جی ایس ٹی ریفنڈز، بڑے ٹیکس گزاروں کا ڈیٹا ریٹیلرز کا ڈیٹا جو ٹیکس دہندہ بنیں، ٹریک اور ٹریس سسٹم کی رپورٹ شامل ہے ،، ان میں سے کچھ کی رپورٹیں سہ ماہی اور کچھ کی ماہانہ بنیاد پر مانگی گئی ہیں۔ وزارت پانی اور پاور، وزارت پٹرو لیم اور قدرتی وسائل، بی آئی ایس پی، پاکستان پبلک پروکیورمنٹ اتھارٹی کو بھی مقررہ شیڈول کے مطابق رپورٹیں آئی ایم ایف کو دینا ہوں گی، حکومت نے نے ائی ایم ایف کو بتایا ہے کہ کہ وہ جنوری سے  مارچ   تک کے عرصے میں 700 ملین ڈالر اور اپریل سے جون تک کے عرصے میں 1200 ملین ڈالر کی کمرشل باروئنگ کرے گی  ،یہ قرضے غیر ملکی بینکوں کی مقامی شاخوں سے فارن کرنسی کی شکل میں لیے جائیں گے، پاکستان کے لیے ایکسٹرنل وسائل کے حصول  کے ضمن میں 30 جون تک سرکاری تحویل کے اثاثوں کی فروخت سے کوئی آمدن ظاہر نہیں کی گئی ہے، موسمیاتی تبدیلی کے حوالے سے یہ شرط عائد کی گئی ہے کہ پی ایس ڈی پی کے  کال سرکلر پر نظر ثانی کی جائے گی اور ایسے تمام منصوبے جن کے لاگت ساڑھے سات ارب روپے سے زائد ہوگی ان میں سے صرف وہ پروجیکٹ منتخب کیے جائیں گے جن کی موسمیاتی ضرب پذیری، اڈاپٹیشن کی سکریننگ، بجٹ کے اندر موجود ہو اور ایسے تمام منصوبوں کی سکریننگ کی اسیسمنٹ کی رپورٹ شائع کی جائے گی، اس  شرط پر عمل کا جائزہ اگست 27 میں لیا جائے گا، اس معاملے میں اے ڈی بھی مدد کرے گا اور عالمی بنک بھی بجٹ کی تیاری میں ٹیکنیکل امداد فراہم کرے گا۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Nawaiwaqt

کلیدی لفظ: ا ئی ایم ایف کی گئی ہے کے لیے

پڑھیں:

گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست

فیصل کریم کنڈی نے خط میں کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔ اسلام تائمز۔ گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے وزیراعظم پاکستان کے نام خط لکھ کر ضم شدہ قبائلی اضلاع اور پاٹا کے لیے وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے اور اس میں توسیع کی درخواست کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کر کے انضمام کے وقت کیے گئے وعدوں کی پاسداری کی جائے۔ گورنر فیصل کریم کنڈی نے خط میں مطالبہ کیا کہ قبائلی اضلاع اور پاٹا میں انکم ٹیکس، سیلز ٹیکس اور دیگر وفاقی محصولات کے نفاذ پر نظرثانی کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔

انہوں نے تجویز دی کہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں پر مشتمل مشترکہ کمیٹی قائم کر کے قبائلی اضلاع کی معاشی صورتحال کا جائزہ لیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ نئے ٹیکسوں کے نفاذ سے قبل ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کی معاشی و مالی صورتحال کا جائزہ لینا ضروری ہے، جبکہ ٹیکسوں کا معاملہ مشترکہ مفادات کونسل یا کسی مناسب آئینی فورم پر فوری طور پر پیش کیا جائے۔

گورنر خیبر پختونخوا نے کہا کہ قبائلی عوام نے پاکستان کے امن، استحکام اور سلامتی کے لیے بے مثال قربانیاں دی ہیں۔ وفاق اور صوبے کی یکساں ٹیکس پالیسی قبائلی عوام کا ریاست پر اعتماد بحال کرنے میں مددگار ثابت ہوگی، جبکہ ٹیکس ریلیف سے ضم شدہ اضلاع کی سماجی و معاشی ترقی اور قومی دھارے میں انضمام کا عمل مزید تیز ہوگا۔

متعلقہ مضامین

  • کراچی میں 2 سال قبل شروع ہونیوالی مفت شٹل سروس کمرشل بنیاد پر چلائی جارہی ہے
  • گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
  • آزاد کشمیر کے شہر میرپور میں 45 روز بعد موبائل فون اور انٹرنیٹ سروس بحال ہونا شروع
  • آزادکشمیرکے ضلع میرپور میں انٹرنیٹ سروسز مرحلہ وار بحال ہونا شروع
  • فیصل آباد:حکومت سے مذاکرات ناکام ہونے پر پیٹرول پمپ مالکان کا پمپس بند رکھنے کا اعلان
  • عوامی مسائل کے حل میں تاخیر برداشت نہیں کی جائے گی، ضیاء الحسن لنجار
  • پاکستان کو درپیش خطرات کا باعث بننے والے دہشتگردوں اور ان کے سہولتکاروں کا ہر قیمت پر خاتمہ کیا جائے گا، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر
  • آزاد کشمیر کے شہر میرپور میں 45 روز بعد موبائل فون اور انٹرنیٹ سروس بحال ہونا شروع
  • دبئی ایئرپورٹ پر اے آئی امیگریشن سسٹم متعارف، 3.4 سیکنڈ میں کلیئرنس
  • آزاد کشمیر میں ڈیڑھ ماہ بعد انٹرنیٹ سروس بحال ہونا شروع