چین کی 3 سالہ لڑکی، گو جیانگ اپنی فطری سنہری بالوں اور نیلی آنکھوں کی وجہ سے حال ہی میں توجہ کا مرکز بنی ہے، جو عام طور پر قفقازی خصوصیات سے جڑی ہوئی ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:کنڈوم کی مدد سے معدے سے لائٹر نکالنے کا انوکھا طبی عمل

یہ بچی مئی 2022 میں ایک چینی جوڑے کے ہاں پیدا ہوئی تھی اور ابتدائی طور پر ایک عام چینی بچی لگتی تھی۔ لیکن 8 ماہ کی عمر میں اس کی آنکھیں نیلی ہو گئیں اور ایک سال کی عمر تک اس کے بال سنہری اور گھنگریالے ہو گئے۔

گو جیانگ کے والدین نے کہا کہ اس غیر معمولی شکل کی وجہ سے وہ شروع میں سوچتے رہے کہ کہیں aسپتال میں ان کے بچے کو تبدیل تو نہیں کر دیا گیا۔ تاہم متعدد ڈی این اے ٹیسٹ کے بعد یہ تصدیق ہوئی کہ بچی واقعی ان کی جینیاتی اولاد ہے۔

یہ بھی پڑھیں:برطانیہ میں آگ جلانے کے سب سے قدیم آثار دریافت، انسانی تاریخ کی ٹائم لائن بدل گئی

بچی کے والدین کے مطابق گو جیانگ کی یہ خصوصیات اس کے  پردادا سے منتقل ہوئی ہیں، جو روسی تھے۔ یہ پردادا ہینان صوبے کی ایک خاتون سے شادی کرکے چین میں مقیم ہوئے اور 1985 میں وفات پا گئے۔

گو جیانگ کے والد جن کا خاندانی نام یانگ ہے، نے بتایا کہ یہ قفقازی خصوصیات مرد اولاد میں ظاہر نہیں ہوتیں اور یہ خصوصیات ماضی میں صرف خواتین میں منتقل ہوئیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ خاندان کا ایک دور کا رشتہ دار سربیا میں بھی رہتا ہے، لیکن ان کا رابطہ بہت کم ہوتا ہے۔

یہ واقعہ جینیاتی خصوصیات اور خاندانی تاریخ کے دلچسپ امتزاج کو واضح کرتا ہے اور گو جیانگ کو عالمی میڈیا کی توجہ کا مرکز بنا دیا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

چین چینی بچی روس قفقاز.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: چین چینی بچی گو جیانگ

پڑھیں:

سیٹلائٹ تصاویر نے کوٹلی ستیاں جنگلات میں لگنے والی بھیانک آگ کی تباہی کی تفصیلات ظاہر کر دیں

سیٹلائٹ تصاویر نے کوٹلی ستیاں کے جنگلات میں لگنے والی حالیہ بھیانک آگ کی تباہی کی تفصیلات ظاہر کر دیں۔

سپارکو کی جانب سے پر جاری کردہ سیٹلائٹ ڈیٹا کے مطابق گرمی کی حالیہ شدید لہر کے باعث جنگلات میں لگنے والی ہولناک آگ نے پنجاب کے ماحولیاتی لحاظ سے حساس علاقے 'کوٹلی ستیاں' کے 25 مقامات پر پھیلے ہوئے تقریباً 3,037 ہیکٹر (7,504.7 ایکڑ) پر مشتمل قدرتی جنگلات کو خاکستر کر دیا ہے۔

9 مئی سے 29 مئی 2026 تک کی سیٹلائٹ تصاویر کا موازنہ کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ آگ لگنے کے بعد 'چِیڑ' کے جنگلات کو شدید نقصان پہنچا ہے، جو کہ دریائے سندھ اور دریائے جہلم کے اہم ذیلی آبی ذخائر کے لیے انتہائی ضروری ہیں۔

ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اس کے ماحولیاتی اثرات صرف آگ سے جھلسنے والے فوری نقصانات تک محدود نہیں ہیں؛ بلکہ اس آفت نے مقامی پرندوں اور جنگلی حیات کی افزائشِ نسل کے عروج کے سیزن کو شدید متاثر کیا ہے۔

نئے اگنے والے پودوں اور پنیریوں کو تباہ کر دیا ہے، اور اس متاثرہ زمین پر ایسی جڑی بوٹیوں اور جھاڑیوں کے پھیلنے کی راہ ہموار کر دی ہے جو آگ کو برداشت کرنے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔

اگرچہ مقامی آبادی اور محکمہ جنگلات کے عملے نے کئی علاقوں میں آگ پر کامیابی سے قابو پا لیا ہے، لیکن تیز اور گرم ہواؤں کے باعث ہمسایہ ڈھلوانوں پر اب بھی آگ پھیل رہی ہے، جس سے ماحول کو مزید نقصان پہنچنے کا خطرہ ہے۔

متعلقہ مضامین

  • پنکی ڈرگ والی پر ڈرامہ بنانےکا اعلان کیا گیا، اس موضوع پر فلم بننی چاہیے تھی، عظمیٰ بخاری
  • وسیم اکرم، مصباح اور فخر عالم نے اپنی حج کی پوسٹس پر ہونے والی تنقید کا جواب دے دیا
  • فیفا ورلڈکپ 2026 ، کونسی ٹیم فیورٹ؟، اوپٹا سپر کمپیوٹر نے حیران کن پیشگوئی کردی
  • سیٹلائٹ تصاویر نے کوٹلی ستیاں جنگلات میں لگنے والی بھیانک آگ کی تباہی کی تفصیلات ظاہر کر دیں
  • شوگر ملز ایسوسی ایشن کا چینی برآمد کرنے کا مطالبہ، ماضی میں اس فیصلے سے کیا نقصان ہوا؟
  • کراچی: واش روم میں بچے کی پیدائش، تحقیقاتی رپورٹ ڈائریکٹر جناح اسپتال کے حوالے