یکساں نصاب تعلیم، سقوطِ ڈھاکہ اور تاریخ کا جبر
اشاعت کی تاریخ: 14th, December 2025 GMT
اسلام ٹائمز: ہم ماہرین تعلیم کی خدمت میں یہ عرض کرنا چاہتے ہیں کہ نصاب تعلیم میں آیات و روایات کی تعداد بڑھانے یا تاریخ کو کسی ایک فرقے کی منشا کے مطابق ڈھال کر پیش کرنے، یا درود شریف جیسی مقدس عبارات میں کسی فرقے کی دھونس کی بنیاد پر کسی طرح کا اضافہ کرنے سے نصابِ تعلیم اسلامی نہیں ہو جائے گا۔ نصابِ تعلیم کو اسلامی کرنے کیلئے ضروری ہے کہ تعلیم کو دینی تعلیمات سمیت تمام مضامین میں جبری اطاعت کے بجائے تحقیق و تجربے، فیکٹ چیکنگ اور کھوج و تلاش سے جوڑا جائے۔ تحریر: ڈاکٹر نذر حافی
بات صرف پاکستان کی نہیں اور نہ ہی ماضی کے مسلمانوں کی ہے۔ تاریخ کو چھوڑیں اور آپ آج کے مسلمانوں کا مزاج ہی دیکھ لیں۔ مسلمانوں نے بحیثیت قوم اپنے دین سے شہید ہونے، غازی بننے اور فتوحات و دفاع کے علاوہ متحد ہونا سیکھا ہی نہیں۔ پاکستان کی قومی تعلیمی پالیسیوں کے ارتقاء، تاریخی پس منظر اور عملی اثرات کا تجزیہ کریں۔ 1947ء سے 2025ء تک مختلف پالیسیاں آئیں، جن میں کبھی نظریاتی اغراض کو ترجیح دی گئی، کبھی سائنسی اور تکنیکی تعلیم کو اور کبھی نصاب میں یکسانیت اور قومی شناخت کی ضرورت پر زور دیا گیا۔ یہ سارا زور زبانی کلامی ہی رہا، جبکہ عملاً ہر دور میں تعلیم کو اکثر سیاسی اور فرقہ وارانہ ترجیحات کے تابع رکھا گیا۔ قیام پاکستان کے تین ماہ بعد نومبر 1947ء میں پہلی آل پاکستان ایجوکیشن کانفرنس منعقد ہوئی۔ وزیرِ تعلیم فضل الرحمن نے تعلیم کو روحانی، سماجی اور پیشہ وارانہ نکات کے تحت اصلاح کا ذریعہ قرار دیا۔ اسی کانفرنس میں زبان کی پالیسی طے کی گئی اور فیصلہ کیا گیا کہ اردو کو ذریعہ تعلیم اور لازمی مضمون کے طور پر پڑھایا جائے گا۔
1948ء میں اردو کمیٹی قائم کی گئی اور 1950ء میں اس نے مغربی پاکستان کے اسکولوں میں اردو کو ذریعہ تعلیم کے طور پر اپنانے کی تجویز دی۔ یہ تجویز جہاں پاکستان ٹوٹنے کے اسباب میں سے ایک ہے، وہیں یہ سوال بھی موجود ہے کہ اگر یہ تجویز کسی سیاسی مفاد یا دباو کے پیشِ نظر نہیں تھی تو پھر باقی بچ جانے والے پاکستان میں ہی اردو کو سرکاری زبان کے طور پر نافذ کیوں نہیں کیا گیا۔؟ اس کے بعد ایک چھ سالہ تعلیمی منصوبہ 1952ء میں بنایا گیا، جو ناکام ہوا، یہ ناکامی اس حقیقت کی عکاسی کرتی ہے کہ تعلیمی مقاصد کو صرف منصوبہ بندی سے نہیں بلکہ وسعتِ قلبی اور قومی دھارے کے ساتھ حقیقی معنوں میں مل کر حاصل کیا جا سکتا ہے۔ 1959ء میں کمیشن برائے قومی تعلیم نے نصاب اور تعلیمی اہداف پر نظرثانی کی سفارش کی، جس میں شخصیت سازی اور مادری زبان کو ذریعہ تعلیم بنانے پر زور دیا گیا۔
1970ء میں صدر جنرل یحییٰ خان نے وزارت تعلیم ائیر مارشل نور خان کو سونپی۔ نور خان نے ابتدائی کلاسوں سے سائنسی تعلیم اور نظریاتی تربیت دونوں پر زور دیا۔ 1972ء میں وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو نے نصاب میں قومی ہم آہنگی اور یکساں نصاب کی ضرورت پر زور دیا۔ تاریخی تجربہ بتاتا ہے کہ یہ سارا زور بھی بنگلہ دیشیوں کو زِچ کرنے کے علاوہ کسی اور کام نہیں آیا۔ وہ آبادی میں مغربی پاکستان سے زیادہ تھے اور اپنی مادری زبان میں تعلیم حاصل کرنے کے خواہاں تھے۔ اس تجربے سے ثابت ہوا کہ نصابِ تعلیم میں ہم آہنگی پیدا کرنے کے نام پر زمینی حقائق کو نظر انداز کرنا اور لسانی، سماجی و مذہبی تنوع کو قبول نہ کرنا حکمتِ عملی نہیں بلکہ سوئے تدبیر ہے۔ یہ سوئے تدبیر بعدازاں بھی حکمتِ عملی کے نام سے جاری رہی۔ 1979ء میں ضیاء الحق کے دور میں نصاب کی اسلامائزیشن کی گئی اور تعلیم میں مذہبی شدت پسندی داخل ہوئی۔
اب بنگلہ دیشیوں کو ٹھکانے لگانے کے بعد دیگر ادیان و مسالک کی شامت آگئی۔ اس کا خمیازہ ہم آج تک بُھگت رہے ہیں۔ 1992ء اور 1998ء کی پالیسیاں مرحومین کے فکری جانشینوں نے مرتب کیں اور نصاب تعلیم کی دنیا میں عملی طور پر فرقہ وارانہ بیانیہ غالب رہا۔ 2009ء کی پالیسی نے سب کے لیے معیاری تعلیم، خواتین کی تعلیم اور سائنس و ٹیکنالوجی پر زور دیا، لیکن نصاب میں یک رخی تاریخِ اسلام اور فقہی اثرات برقرار رہے۔ 2017ء سے 2025ء تک اصلاحاتی اقدامات، ڈیجیٹل تعلیم اور خصوصی تعلیم میں توسیع کی گئی اور ساتھ ہی ساتھ بنیادی چیلنج یعنی فرقہ وارانہ غلبہ، تاریخی حقائق کو مسخ کرنے اور علمی تنوع کے بجائے متشدد مذہبی بیانیے کا فروغ بھی حاکم رہا۔ اس کی چھوٹی سی مثال درسی کتابوں میں زبردستی درود شریف میں "اصحابہ" کا اضافہ کرنا ہے۔
درود شریف میں یہ اضافہ نبیؐ کے دور میں بھی نہیں تھا اور خلافتِ راشدہ سے لے کر کسی صحابی یا تابعی نے بھی اپنی زبان پر نہیں لایا اور نہ ہی امّت مسلمہ نے کسی بھی زمانے میں نبی ؐ کے نام کے ساتھ ایسا درود لکھا یا پڑھا ہے۔ اب یہ نئی نویلی بدعت درسی کتابوں میں لکھ کر روزانہ مسلمان بچوں کی زبانوں سے زبردستی ادا کروائی جا رہی ہے۔ کیا ہمارے ماہرین تعلیم یہ نہیں سمجھتے کہ یہ زور و زبردستی کے روییّے مسلمانوں کو کسی بھی پلیٹ فارم پر جمع نہیں ہونے دیتے۔ ہمیں یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ بحیثیت قوم مسلمانوں کو اپنے دین سے شہید ہونے، غازی بننے اور فتوحات و دفاع کے علاوہ تعلیم و تربیّت، تہذیب و تمدّن، سائنس و ٹیکنالوجی اور نصابِ تعلیم پر بھی متحد ہونے کی ضرورت ہے۔ ہمیں اگر جدید دنیا میں باوقار طریقے سے داخل ہونا ہے تو نصابِ تعلیم کے میدان میں ہر طرح کے غیر علمی یعنی سیاسی و فرقہ وارانہ سوچ کی برتری پر مبنی رویّوں سے ہاتھ اٹھانا ہوگا۔
کیا اب ماہرین تعلیم کو یہ بھی سمجھانے کی ضرورت ہے کہ تعلیم لوگوں کے عقائد تبدیل کرنے، انہیں مطیع و فرمانبردار بنانے، ان سے سچ کو چھپانے کا ہتھکنڈہ ہے یا فکری و روحانی آزادی و حُریّت کی مشعل ہے۔ پاکستان میں یکساں نصاب میں فرقہ وارانہ غلبہ علمی ترقی اور سماجی ہم آہنگی کے خلاف ایک خطرناک ہتھیار ہے۔ اتنا خطرناک کہ جتنا ایٹم بم ہے۔ کیا ہمارے ماہرینِ تعلیم اس خطرے کو نہیں سمجھتے۔؟ کیا نصاب تعلیم بنانے والے یہ جانتے ہیں کہ تعلیم کو سیاسی و فرقہ وارانہ بنیادوں پر کسی کی وفاداریوں کو تبدیل کرنے، کسی کے عقائد کو بدلنے اور کسی کو تعلیم کی نکیل ڈال کر اُسے کسی کی اطاعت و تعظیم پر مجبور کرنے سے وہ کس جرم کے مرتکب ہو رہے ہیں۔؟
اس سلسلے میں ہماری کچھ تجاویز ہیں، جو نصاب تعلیم میں موجود میٹھے زہر کو کم کرنے کے حوالے سے یقیناً ارباب حل و عقد کیلئے مفید ہونگی۔
1۔ نصاب میں فقہی اور فکری تنوع کو یقینی بنایا جائے، تاکہ طلباء کی ذہنی آزادی محفوظ رہے۔
2۔ دینی نصاب میں مشترکہ اصول، اخلاقیات اور سماجی ذمہ داریوں پر زور دیا جائے۔
3۔ نصاب میں تاریخی شخصیات کا ٹھوس حقائق پر مبنی ایسا جامع اور متوازن تعارف شامل کیا جائے، جو تعلیمی معیارات کے عین مطابق ہو۔
4۔ نصاب سازی میں سچائی کو جانچنے والے ماہرین کو شامل کیا جائے۔
5۔ اساتذہ کی تربیت میں فرقہ وارانہ حساسیت کے خاتمہ اور تحقیقی تدریس کی مہارت شامل کی جائے۔
6۔ نصاب پر آزاد اور شفاف تعلیمی نگرانی کا نظام قائم کیا جائے۔
7۔ مذہبی تعلیم کو تنقیدی فہم اور تحقیقی زاویئے سے جوڑا جائے۔
8۔ تعلیمی بجٹ میں اضافہ اور معیاری تعلیم، تحقیق اور ٹیکنالوجی کو ترجیح دی جائے۔
9۔ ڈیجیٹل تعلیم اور دیہی علاقوں میں تعلیم کے وسائل میں غیر مسلموں کیلئے بھی مساوات کو یقینی بنایا جائے۔
آخر میں ہم ماہرین تعلیم کی خدمت میں یہ عرض کرنا چاہتے ہیں کہ نصاب تعلیم میں آیات و روایات کی تعداد بڑھانے یا تاریخ کو کسی ایک فرقے کی منشا کے مطابق ڈھال کر پیش کرنے، یا درود شریف جیسی مقدس عبارات میں کسی فرقے کی دھونس کی بنیاد پر کسی طرح کا اضافہ کرنے سے نصابِ تعلیم اسلامی نہیں ہو جائے گا۔ نصابِ تعلیم کو اسلامی کرنے کیلئے ضروری ہے کہ تعلیم کو دینی تعلیمات سمیت تمام مضامین میں جبری اطاعت کے بجائے تحقیق و تجربے، فیکٹ چیکنگ اور کھوج و تلاش سے جوڑا جائے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: ماہرین تعلیم فرقہ وارانہ ہے کہ تعلیم نصاب تعلیم کی گئی اور پر زور دیا درود شریف تعلیم اور تعلیم میں کی ضرورت تعلیم کو تعلیم کی فرقے کی کرنے کے میں یہ
پڑھیں:
اے جی پی آر کا کلیمز جمع کرانے کی آخری تاریخ کا اعلان
تصویر، فیس بکاکاؤنٹنٹ جنرل آف پاکستان ریونیو (اے جی پی آر) نے مالی سال 26-2025 کی ادائیگیوں کے کلیمز جمع کرانے کی آخری تاریخ کا اعلان کردیا۔
اے جی پی آر کے اعلامیے کے مطابق تمام ڈرائینگ اور ڈسبرسنگ آفیسرز کو حالیہ کلیمز 12 جون تک جمع کرانا ہوں گے۔
اعلامیے کے مطابق 12 جون 2026ء تک جاری کردہ ٹوکنز پر تمام غیرمنظور شدہ بلوں کو دوبارہ جمع کرانے کی تاریخ 15 جون ہوگی۔
اعلامیے کے مطابق اے جی پی آر اسلام آباد اور ذیلی دفاتر کےاسائنمنٹ اکاؤنٹس کےلیے ریلیز جمع کرانے کی آخری تاریخ 19 جون ہوگی۔
اے جی پی آر کے اعلامیے کے مطابق 12 جون 2026ء کے بعد اعزازیہ کا کوئی کلیم قبول نہیں کیا جائے گا۔ موجودہ مالی سال سے متعلق تنخواہ کے چیک رواں مالی سال کے اختتام پر زائد المعیاد ہوجائیں گے۔
اے جی پی آر کے اعلامیے کے مطابق 30 جون 2026ء کے بعد موجودہ مالی سال کےلیے کوئی متبادل چیک جاری نہیں کیا جائے گا۔