ابھیشیک بچن نے ایشوریا رائے سے طلاق کی افواہوں پر خاموشی توڑ دی، صحافیوں کو کیا کہا؟
اشاعت کی تاریخ: 14th, December 2025 GMT
ابھیشیک بچن نے ایشوریا رائے کے ساتھ طلاق کی افواہوں پر خاموشی توڑ دی ہے اور ایسی خبروں کو بے بنیاد اور من گھڑت قرار دیا ہے۔
شوبز انڈسٹری میں رہنے کا ایک منفی پہلو یہ بھی ہے کہ ذاتی زندگی ہر وقت عوامی بحث کا موضوع بنی رہتی ہے۔ ابھیشیک بچن کا کہنا ہے کہ وہ طویل عرصے سے اس صورتحال سے آگاہ ہیں اور ان کی نجی زندگی کو اکثر ٹیبلوئڈز میں مذاق کا نشانہ بنایا جاتا رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: طلاق کی افواہوں کی تردید، ایشوریا رائے کی ابھیشیک بچن کے ساتھ نئی پوسٹ وائرل
ایک انٹرویو میں ابھیشیک بچن نے واضح طور پر طلاق کی خبروں کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ وہ ایسی افواہوں کو زیادہ اہمیت نہیں دیتے۔ ان کے مطابق جب آپ ایک مشہور شخصیت ہوتے ہیں تو لوگ ہر بات پر قیاس آرائیاں کرتے ہیں، جبکہ لکھی جانے والی بہت سی باتیں حقیقت پر مبنی نہیں ہوتیں بلکہ بدنیتی اور غلط معلومات پر مشتمل ہوتی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ان کے رشتے پر بحث و تجزیہ کوئی نئی بات نہیں۔ شادی سے پہلے بھی لوگ یہ طے کرنے میں لگے رہتے تھے کہ شادی کب ہوگی اور اب شادی کے بعد یہ فیصلہ کرنے لگے ہیں کہ طلاق کب ہوگی۔ ان کے بقول یہ سب فضول باتیں ہیں، وہ اور ایشوریا ایک دوسرے کی سچائی جانتے ہیں اور آخرکار ایک خوشحال اور مضبوط خاندان کی طرف ہی لوٹتے ہیں، جو سب سے اہم ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ایشوریا اور ابھیشیک کے درمیان طلاق، امیتابھ بچن نے خاموشی توڑ دی
ابھیشیک بچن نے میڈیا پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ وہ میڈیا کو قوم کا ضمیر سمجھتے ہوئے بڑے ہوئے ہیں اور اخبار میں لکھی بات پر یقین کرنا چاہتے ہیں، لیکن محض خبر سب سے پہلے دینے کی دوڑ میں اگر تصدیق کو نظرانداز کیا جائے تو پھر صحافت کی اصل حیثیت کیا رہ جاتی ہے۔
انہوں نے دوٹوک انداز میں کہا کہ ان کے خاندان سے متعلق جھوٹی اور گھڑی ہوئی خبروں کو وہ برداشت نہیں کریں گے۔ ان کے مطابق صحافیوں کو یہ سمجھنا چاہیے کہ وہ کسی انسان کے بارے میں لکھ رہے ہوتے ہیں جو کسی کا بیٹا، بیٹی، ماں، باپ یا شریکِ حیات ہوتا ہے۔ اگر بات ان کے خاندان تک آئے گی تو انہیں خود اس کا سامنا کرنا ہوگا کیونکہ یہ ایک حد ہے جسے عبور نہیں کیا جا سکتا۔
یہ بھی پڑھیں: ایشوریا اور ابھیشیک کا گوگل اور یوٹیوب کو 4 کروڑ کا قانونی نوٹس، وجہ کیا بنی؟
ابھیشیک بچن نے آخر میں کہا کہ وہ اپنی ذات یا خاندان کے بارے میں کسی بھی قسم کی من گھڑت اور جھوٹی بات کو برداشت نہیں کریں گے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
we news ابھیشیک بچن ایشوریا رائے بچن بالی ووڈ طلاق میڈیا.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: ابھیشیک بچن ایشوریا رائے بچن بالی ووڈ طلاق میڈیا ابھیشیک بچن نے ایشوریا رائے طلاق کی یہ بھی کہا کہ
پڑھیں:
مری میں بیچلرز کے داخلے پر پابندی؟ حقیقت سامنے آگئی
سوشل میڈیا پر یہ دعویٰ وائرل ہورہا تھا کہ پنجاب کے سیاحتی مقام مری میں 31 مئی تک غیر شادی شدہ مردوں (بیچلرز) کے داخلے پر سرکاری پابندی عائد کردی گئی ہے، تاہم فیکٹ چیک کے بعد یہ واضح ہوا ہے کہ یہ دعویٰ گمراہ کن ہے اور مکمل طور پر درست نہیں۔
فیس بک سمیت مختلف پلیٹ فارمز پر شیئر کی جانے والی پوسٹس میں کہا جا رہا تھا کہ عید سے قبل مری میں دفعہ 144 نافذ کرتے ہوئے بیچلرز کے داخلے پر پابندی لگا دی گئی ہے اور صرف فیملیز کو ہی شہر میں جانے کی اجازت ہوگی۔ ان دعوؤں میں یہ تاثر دیا گیا کہ مبینہ پابندی پورے مری شہر پر لاگو ہے۔
حقیقت اس کے برعکس ہے۔ حکام کے مطابق مری میں غیر شادی شدہ مردوں کے داخلے پر کوئی مکمل پابندی عائد نہیں کی گئی۔ صرف مخصوص ہدایت کے تحت مال روڈ پر ایک تبدیلی کی گئی ہے، جہاں اکیلے آنے والے مردوں یا بیچلرز گروپس کو داخلے کی اجازت نہیں ہوگی، جبکہ فیملیز بدستور وہاں جا سکتی ہیں۔
ضلع مری کے ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر (جنرل) کامران صغیر کے مطابق 31 مئی تک دفعہ 144 نافذ تھی، جس کا اطلاق صرف مال روڈ تک محدود تھا۔ ان کے مطابق مری شہر میں بیچلرز کے داخلے پر کوئی پابندی نہیں، البتہ مال روڈ پر صرف فیملیز کو جانے کی اجازت دی گئی ہے تاکہ سیاحتی نظم و ضبط بہتر بنایا جا سکے۔
انہوں نے مزید وضاحت کی کہ ’’مال روڈ کے اوپر اکیلے مردوں کو اجازت نہیں، صرف فیملیز جا سکتی ہیں، پورا مری بند نہیں ہے، بیچلرز کی انٹری پر مکمل پابندی نہیں ہے۔‘‘
ڈپٹی کمشنر مری کے سرکاری فیس بک اکاؤنٹ سے بھی 20 مئی کو جاری نوٹیفکیشن شیئر کیا گیا تھا، جس میں کہا گیا تھا کہ پولیس کی سفارش پر مال روڈ پر صرف فیملیز کو داخلے کی اجازت دینے کا فیصلہ کیا گیا ہے تاکہ سیاحوں کو بہتر سہولت فراہم کی جا سکے۔
یہ دعویٰ کہ مری میں بیچلرز کے داخلے پر مکمل پابندی عائد ہے، غلط ثابت ہوا۔ حقیقت یہ ہے کہ پابندی صرف مال روڈ کے مخصوص حصے تک محدود ہے، جبکہ مری شہر بدستور تمام سیاحوں کے لیے کھلا ہے۔