Juraat:
2026-07-24@14:35:37 GMT

جب خاموشی محفوظ لگنے لگے!

اشاعت کی تاریخ: 12th, December 2025 GMT

جب خاموشی محفوظ لگنے لگے!

محمد آصف

انسانی تاریخ کے ہر دور میں آزادیِ اظہار کی جدوجہد دراصل وقار، شناخت اور طاقت کی جدوجہد رہی ہے ، مگر شاید کسی دور میں یہ جدوجہد اتنی پیچیدہ، خاموش اور خطرناک نہیں رہی جتنی آج ہے ۔ جدید دنیا، جو بظاہر حقوق، جمہوریت اور ڈیجیٹل آزادی کے نعروں سے سجی ہوئی ہے ، درحقیقت آزادیِ اظہار کے خلاف ایک غیر اعلانیہ جنگ کی گواہ بن چکی ہے ۔ایسی جنگ جو بظاہر عوامی تحفظ، ملکی مفاد، سماجی ہم آہنگی یا اخلاقی تحفظ کے نام پر لڑی جاتی ہے ، مگر اس کا اصل نتیجہ انسانی زبان، ذہن اور سوچ کو محدود کرنا ہے ۔ اس جنگ میں نہ جیلیں ہمیشہ نظر آتی ہیں نہ بندوقیں؛ بلکہ یہ جنگ کینسل کلچر، ڈیجیٹل پروپیگنڈا، منتخب غصے ، سوشل میڈیا ہجوم، جدید نگرانی، اور ایسے قوانین کے ذریعے لڑی جا رہی ہے جو اختلاف کو بدعنوانی اور سوال کو غداری بنا دیتے ہیں۔ ایسے ماحول میں بولنے کے بجائے خاموش رہنا زیادہ محفوظ لگتا ہے ، سچ کہنے کے بجائے چلن کا ساتھ دینا آسان لگتا ہے ، اور زندہ رہنے کی خواہش سچائی پر غالب آ جاتی ہے ۔ اس بدلتے ہوئے عالمی ماحول میں انسان ایک تلخ حقیقت کو محسوس کرتا ہے : بہت سی جگہوں پر لوگ قوت کے زور سے نہیں، بلکہ خوف کے باعث خاموش ہیں۔ ملازمت کھونے کا خوف، غلط سمجھے جانے کا خوف، کردار کشی کا خوف، قانونی کارروائی کا خوف، یا سماجی بائیکاٹ کا خوف ، یہ سب انسانی زبان کو قید میں رکھنے کے نئے ہتھیار ہیں۔ پہلے ظالم حکومتوں کو لوگوں کو خاموش کرانے کے لیے طاقت استعمال کرنا پڑتی تھی، مگر آج معاشرہ خود اپنے اندر ایسے خوف پیدا کر چکا ہے جو انسان کو اپنی زبان پر خود ہی تالے لگا دینے پر مجبور کرتا ہے ۔
ٹیکنالوجی، جسے کبھی آزادیِ اظہار کا سب سے بڑا ذریعہ سمجھا گیا تھا، آج ستم ظریفی سے سب سے مضبوط ہتھیار بن چکی ہے ۔ سوشل میڈیا پلیٹ فارمز، جو ایک وقت میں ہر آواز کو جگہ دینے کا وعدہ کرتے تھے ، اب نفرت، پروپیگنڈا، الگورتھم کنٹرول، حکومتی نگرانی اور ڈیجیٹل ہجوم کے میدانِ جنگ بن گئے ہیں۔ یہاں ایک پوسٹ، ایک غلط فہم جملہ، یا ایک اختلافی رائے انسان کی نوکری، شہرت یا سلامتی کو خطرے میں ڈال سکتی ہے ۔ جب رائے عامہ غصے کے جذبات سے بھری ہو، تو آزادیِ اظہار بہادر افراد کا حق بن جاتا ہے اور عام لوگوں کے لیے ایک خطرہ۔یہ مسئلہ صرف آمرانہ ریاستوں تک محدود نہیں؛ جمہوریتیں بھی اس بیماری سے متاثر ہو چکی ہیں۔”نفرت انگیز تقریر”، ”غلط معلومات” اور ”قومی سلامتی” جیسے عنوانات کے تحت ایسے قوانین نافذ کیے جا رہے ہیں جو اصل میں ناقدین، صحافیوں اور مخالفین کو خاموش کرنے کے لیے استعمال ہوتے ہیں۔ ریاستیں شہریوں کو نقصان دہ مواد سے بچانے کے نام پر وہ مواد بھی فلٹر کر دیتی ہیں جو حکومتی بدانتظامی، کرپشن یا ناانصافی کو بے نقاب کرتا ہو۔ ڈیجیٹل دنیا کا عوامی میدان اب عملی طور پر جسمانی میدان سے زیادہ پابند ہو گیا ہے ، اور آزادانہ بولنا حساب کتاب کا محتاج ہو چکا ہے ۔اس کے ساتھ ساتھ معاشرے نے بھی خاموشی تھوپنے میں بڑا کردار ادا کیا ہے ۔ سیاسی اور سماجی تقسیم نے لوگوں کو ایسے گروہوں میں بانٹ دیا ہے جہاں اختلافِ رائے دشمنی بن جاتا ہے ۔ ہر شخص اپنے جیسے سوچنے والوں میں گھرا ہوا ہے ، اور معمولی اختلاف بھی شدید ردعمل کا باعث بنتا ہے ۔
غلط سمجھ لیے جانے کا خوف، حملہ کیے جانے کا خوف، یا مذاق بن جانے کا خوف لوگوں کو سوچنے سے نہیں بلکہ بولنے سے ڈراتا ہے ۔ نتیجہ یہ ہے کہ ہزاروں اہلِ فکر لوگ اس لیے خاموش ہیں کہ انہیں معلوم ہے کہ ان کی بات کو سنے بغیر مسترد کر دیا جائے گا۔ جب ہر اختلاف ذاتی حملہ سمجھا جائے اور ہر سوال نظریاتی دشمنی قرار دیا جائے ، تو مکالمہ مر جاتا ہے ۔ خاموشی کے اس بڑھتے ہوئے رجحان میں سب سے خوفناک بات یہ ہے کہ جب لوگ بولنا چھوڑ دیتے ہیں تو معاشرے سوچنا چھوڑ دیتے ہیں۔ ترقی، انصاف اور اصلاح ہمیشہ سوال اٹھانے اور سچ
بولنے سے جنم لیتے ہیں۔ جب معاشرے میں خاموشی چھا جاتی ہے تو جھوٹ پھلتا پھولتا ہے ، کرپشن بڑھتی ہے اور ظلم معمول بن جاتا ہے ۔ تاریخ گواہ ہے کہ کوئی معاشرہ ترقی نہیں کرتا جہاں زبانیں خوف سے بند ہوں۔ آزادیِ اظہار کا خاتمہ فکری موت کا آغاز ہوتا ہے ۔ پھر بھی امید مکمل ختم نہیں ہوئی۔ دنیا بھر میں ایسے صحافی، لکھاری اور کارکن موجود ہیں جو خطرات کے باوجود سچ لکھتے ہیں، حکمرانوں کو چیلنج کرتے ہیں، اور عوام کی آنکھیں کھولتے ہیں۔ لیکن صرف بہادری کافی نہیں؛ معاشروں کو برداشت، مکالمے ، اختلاف کی عزت، اور سننے کی
تہذیب دوبارہ سیکھنا ہوگی۔ حکومتوں کو سمجھنا ہوگا کہ زبانیں باندھنے سے ملک مضبوط نہیں ہوتے بلکہ کمزور ہوتے ہیں۔ اداروں کو یہ تسلیم کرنا ہوگا کہ آزادیِ اظہار صرف بولنے کا حق نہیں، بلکہ دوسروں کی آواز کو برداشت کرنے کی ذمہ داری بھی ہے ۔
آزادیِ اظہار پر یہ جنگ کسی ایک قانون، تحریک یا انقلاب سے ختم نہیں ہوگی۔ یہ تب ختم ہوگی جب معاشرے یہ سمجھ لیں گے کہ خاموشی حفاظت نہیں بلکہ شکست ہے ۔ جب لوگ سمجھ جائیں گے کہ سچ بولنا خطرناک ہو سکتا ہے ، مگر سچ چھوڑ دینا جان لیوا ہے ۔ اصل نقصان آواز اٹھانے میں نہیں، بلکہ ہمیشہ کے لیے خاموش ہو جانے میں ہے ۔ کیونکہ جس دن انسان خوف کے باعث چپ ہو جائے ، اُس دن صرف اس کی آواز نہیں مرتی اس کی انسانیت بھی مر جاتی ہے ۔
٭٭٭

.

ذریعہ

ذریعہ: Juraat

کلیدی لفظ: جانے کا خوف جاتی ہے جاتا ہے کے لیے

پڑھیں:

وزیراعظم کا  آئی ٹی برآمدات 4.6 ارب ڈالر تک پہنچنے پر اطمینان کا اظہار

سٹی42: وزیراعظم محمد شہباز شریف کی زیرِ صدارت آئی ٹی شعبے کے اسٹرٹیجک روڈ میپ پر پیش رفت کا جائزہ لینے کے لیے اعلیٰ سطح کا اجلاس منعقد ہوا، جس میں وزارتِ انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کام کی کارکردگی اور ڈیجیٹل معیشت کے فروغ سے متعلق اقدامات پر بریفنگ دی گئی۔

پاکستان کے ماحولیاتی نمونوں میں پولیو وائرس کی مثبت شرح میں کمی آگئی

اجلاس میں وزیراعظم نے پاکستان کی سالانہ آئی ٹی برآمدات میں 21 فیصد اضافے کے ساتھ 4.6 ارب امریکی ڈالر تک پہنچنے پر وزیرِ انفارمیشن ٹیکنالوجی اور متعلقہ ٹیم کو مبارکباد دی۔ انہوں نے کہا کہ آئی ٹی برآمدات میں نمایاں اضافہ حکومت کی ڈیجیٹل معیشت کے فروغ کے لیے اختیار کی گئی پالیسیوں کا نتیجہ ہے اور آئی ٹی شعبے کی ترقی حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے۔ وزیراعظم نے ہدایت کی کہ آئی ٹی سے متعلق تربیتی کورسز کی معتبر تھرڈ پارٹی ویلیڈیشن یقینی بنائی جائے اور تربیت کے معیار پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہ کیا جائے۔ انہوں نے ملک بھر میں ڈیجیٹل انفراسٹرکچر کو مزید بہتر بنانے کی بھی ہدایت کی۔

جعلی امیدواروں کی شامت، پی پی ایس سی امتحانات میں بائیو میٹرک نظام نافذ

اجلاس کو بریفنگ میں بتایا گیا کہ موبائل اسپیکٹرم جون 2025 کے 274 میگا ہرٹز سے بڑھ کر جون 2026 میں 880 میگا ہرٹز ہو چکا ہے، جس سے انٹرنیٹ کی رفتار اور کنیکٹیویٹی میں نمایاں بہتری آئے گی۔ اس کے علاوہ "کنیکٹ پاکستان وژن 2030" کے اجراء کی تیاریوں سے بھی آگاہ کیا گیا۔بریفنگ کے مطابق باغ، آزاد جموں و کشمیر میں سافٹ ویئر ٹیکنالوجی پارک مکمل ہو چکا ہے، جبکہ پاکستان میں اسمارٹ فون استعمال کرنے والوں کا تناسب 2024 کے 62 فیصد سے بڑھ کر جون 2026 میں 72 فیصد ہو گیا ہے۔ جون 2026 تک 5.1 ملین گھروں کو فکسڈ براڈ بینڈ یا فائبر کنکشن فراہم کیے جا چکے ہیں۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ گزشتہ مالی سال آئی ٹی برآمدات میں فری لانسرز کا حصہ 1.164 ارب ڈالر رہا، جبکہ "ڈیجیٹل نیشن پاکستان" کے تحت 130 سرکاری خدمات کو ڈیجیٹلائز کیا جا چکا ہے۔ اسی عرصے میں آئی ٹی شعبے میں 942,646 تربیتی سرٹیفکیٹس جاری کیے گئے، 5,053 ہائی اینڈ تربیتی پروگرام اور لیڈرشپ و سافٹ اسکلز سے متعلق 2,700 تربیتی سیشنز منعقد کیے گئے۔

بارشی پانی کی نکاسی نہ ہونے سے گاڑیاں اور موٹرسائیکلیں بند، شہری شدید مشکلات کا شکار

بریفنگ میں مزید بتایا گیا کہ ویمن انوویشن اینڈ اسٹارٹ اپ ایمپاورمنٹ لیب کا افتتاح جلد کیا جائے گا، جبکہ چینی کمپنی علی بابا کے ساتھ مفاہمتی یادداشت کے تحت متعدد وفاقی وزارتوں اور اداروں میں مصنوعی ذہانت کے منصوبوں اور تربیتی پروگراموں پر کام جاری ہے۔

اجلاس میں وفاقی وزراء اعظم نذیر تارڑ، احد خان چیمہ، شزا فاطمہ خواجہ، خالد مقبول صدیقی، وزیرِ مملکت بلال اظہر کیانی، گورنر اسٹیٹ بینک جمیل احمد اور متعلقہ اعلیٰ سرکاری حکام نے شرکت کی۔

شہر میں بارش سے بجلی کا ترسیلی نظام متاثر، 130 سے زائد فیڈرز بند

متعلقہ مضامین

  • فکر اقبالؒ اورامن عالم میں پاکستان کاکردار
  • اسلامی اقدار اور جدید دور
  • فیلڈ مارشل عاصم منیر پھر مرکز نگاہ
  • سابق وفاقی وزیر سردار یار محمد رند کی سفری پابندی کیخلاف درخواست پر فیصلہ محفوظ
  • ماہرینِ صحت کی دوپہر کے کھانے میں غذائیت سے بھرپور سلاد کو معمول کا حصہ بنانے کی سفارش
  • سرداریار محمد رند کی سفری پابندی کیخلاف درخواست پر فیصلہ محفوظ
  • گوگل کا نیا سیکیورٹی فیچر، کیا اب پاس ورڈ کی ضرورت ہی نہیں رہے گی؟
  • ایران عرب ممالک پر نہیں بلکہ شیطانی اور دہشتگردی کے اڈوں پر حملے کر رہا ہے، علامہ رمضان توقیر
  • امریکا کی 250 ویں سالگرہ 5 روزہ نمائش، آزادی کے تصور پر پاکستانی آرٹسٹس کے فن پارے توجہ کا مرکز
  • وزیراعظم کا  آئی ٹی برآمدات 4.6 ارب ڈالر تک پہنچنے پر اطمینان کا اظہار