پی پی کسی سیاسی جماعت پر پابندی کی حامی نہیں نہ کسی کو غدار سمجھتی ہے، شرجیل میمن
اشاعت کی تاریخ: 10th, December 2025 GMT
سندھ کے سینئر صوبائی وزیر برائے اطلاعات، ٹرانسپورٹ اور ماس ٹرانزٹ شرجیل انعام میمن نے کہا ہے کہ پیپلزپارٹی کسی بھی جماعت پر پابندی کی حمایت نہیں کرتی اور نہ ہی کسی کو غدار سمجھتی ہے تاہم پی ٹی آئی کو بھی اپنی سیاست پر نظرثانی کرنا ہوگی۔
اسلام آباد میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے شرجیل میمن نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی ماضی میں اسٹیبلشمنٹ کی مدد سے اقتدار میں آئے اور اعتراف کرچکے ہیں کہ انہیں بلوں کی منظوری کیلیے بھی اداروں سے مدد ملی تھی۔
شرجیل میمن نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی کے تین سالہ دور اقتدار کے انٹرویوز ریکارڈ پر موجود ہیں، عدم اعتماد کے وقت یہ تاحیات ایکسٹیشن دینے کو راضی اور اسٹیبلشمنٹ کے ترلے کررہے تھے۔ انہوں نے کہا کہ جو نوجوان اور لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ عمران خان اینٹی اسٹیبلشمنٹ ہے تو وہ ماضی کے بیانات ضرور سن لے۔
سینئر صوبائی وزیر نے کہا کہ عمران خان کی سیاست ملک یا عوام کیلیے نہیں بلکہ صرف اپنے اور خاندان کو بچانے کیلیے ہے۔ انہوں نے کہا کہ پیپلزپارٹی کسی کو غدار نہیں سمجھتی تاہم انہیں بھی اپنے طرز سیاست کو تبدیل کرنا ہوگا اور نہ ہی ہم کسی بھی سیاسی جماعت پر پابندی کی حمایت کریں گے۔
شرجیل میمن نے پی ٹی آئی کو مشورہ دیتے ہوئے کہا کہ ’آپ اُس نہج تک نہ پہنچیں جہاں سے واپسی ممکن نہ ہو بلکہ بات چیت سے معاملات حل کریں۔
انہوں نے کہا کہ عمران خان نے اپنے دور میں کوئی ایسا کارنامہ انجام نہیں دیا کہ آپ کو یاد رکھا جائے، پیپلز پارٹی کے دور میں ملک میں آئین معرض وجود آیا، ملک کو ایٹمی ملک بنایا اور میزائل ٹیکنالوجی دی۔ جمہوریت کیلئے ذوالفقار علی بھٹو اور محترمہ بینظیر بھٹو سمیت کئی بڑی قربانیاں پیپلز پارٹی نے دیں۔
شرجیل میمن کا کہنا تھا کہ عمران کے دور میں نہ کوئی بڑا کارنامہ انجام پایا نہ کوئی جمہوریت کیلئے خدمت بلکہ ہمیشہ سیاستدانوں پر ظلم کیا، آصف علی زرداری نے 12 سال جیل کاٹی مگر ایک لفظ ملک کے خلاف نہیں بولا، بے نظیر کی شہادت پر پاکستان کھپے کا نعرہ لگایا۔
انہوں نے کہا کہ آپ کو الیکشن لڑنے کیلئے فنڈنگ اسرائیل و انڈیا نے کی، یہ میں نہیں ارشد شریف شہید نے کہا تھا، آپ نے قائد اعظم کی رہائش گاہ کو چھوڑا نہ ایدھی ایمبولینسز بخشا۔
شرجیل میمن نے کہا کہ بھارتی میڈیا کسی صورت میں اس بحران سے نکلنے کیلئے آپ کی کوئی مدد نہیں کر سکتا بلکہ اس سے معاملات مزید بڑھیں گے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: انہوں نے کہا کہ شرجیل میمن نے میمن نے کہا پی ٹی ا ئی
پڑھیں:
بحرین میں ہَیْہَاتَ مِنَّا الذِّلَّة کا نعرہ لگانے پر پابندی عائد
رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ محرم کے آغاز سے قبل سکیورٹی اقدامات میں اضافہ اس امر کی نشاندہی کرتا ہے کہ بحرینی حکام عاشورا کے پیغام اور عزاداری کی مجالس کے سماجی اور ثقافتی اثرات کے حوالے سے تشویش رکھتے ہیں۔ ہیئت امورِ قیدیانِ بحرین نے زور دے کر کہا کہ یہ پابندیاں ان متعدد اقدامات کا تسلسل ہیں جو گزشتہ برسوں کے دوران مختلف علماء، خطباء اور مذہبی شخصیات کے خلاف گرفتاریوں، طلبیوں اور دباؤ کی صورت میں سامنے آتے رہے ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ شیعہ نشین عرب ملک بحرین میں قیدیوں کے لیے کام کرنیوالی تنظیم نے میڈیا کو بتایا ہے کہ ملک کے سکیورٹی اداروں نے ماہِ محرم کی آمد کے موقع پر مجالس عزا پڑھنے والے خطباء اور مقررین کو وسیع پیمانے پر طلب کر کے نئی پابندیاں عائد کرتے ہوئے شیعہ مذہبی مراسم پر دباؤ میں اضافہ کر دیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق بحرینی سکیورٹی اداروں نے محرم الحرام سے قبل متعدد خطباء اور ذاکرین کو طلب کیا ہے اور عزاداری کی مجالس اور مذہبی شعائر کے انعقاد کے لیے کئی نئی پابندیاں نافذ کی ہیں۔ ان پابندیوں میں مجالسِ عزاء کے لیے چالیس منٹ کی وقت کی حد مقرر کرنا، بعض حسینی نعروں خصوصاً ہَیْہَاتَ مِنَّا الذِّلَّة کے بلند کرنے یا دہرانے پر پابندی لگانا، نیز خطباء کو ظلم و استبداد کے خلاف جدوجہد سے وابستہ تاریخی اور سیاسی شخصیات کا تذکرہ کرنے سے روکنا شامل ہے۔
ہیئت امورِ قیدیانِ بحرین نے ان فیصلوں پر تنقید کرتے ہوئے انہیں بحرین کی شیعہ اکثریتی آبادی کے خلاف اختیار کی جانے والی محدودیت پسند پالیسیوں کا حصہ قرار دیا اور کہا کہ یہ اقدامات مذہبی مناسبتوں پر نگرانی اور کنٹرول بڑھانے کے مقصد سے کیے جا رہے ہیں۔ رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ محرم کے آغاز سے قبل سکیورٹی اقدامات میں اضافہ اس امر کی نشاندہی کرتا ہے کہ بحرینی حکام عاشورا کے پیغام اور عزاداری کی مجالس کے سماجی اور ثقافتی اثرات کے حوالے سے تشویش رکھتے ہیں۔ ہیئت امورِ قیدیانِ بحرین نے زور دے کر کہا کہ یہ پابندیاں ان متعدد اقدامات کا تسلسل ہیں جو گزشتہ برسوں کے دوران مختلف علماء، خطباء اور مذہبی شخصیات کے خلاف گرفتاریوں، طلبیوں اور دباؤ کی صورت میں سامنے آتے رہے ہیں۔ بیان کے مطابق ایسی پالیسیوں کا تسلسل مذہبی شعائر کی آزادانہ ادائیگی اور بحرینی معاشرے کی دینی و ثقافتی شناخت کے تحفظ پر منفی اثرات مرتب کر سکتا ہے۔