مرکزی مسلم لیگ کی مختلف یوسیز میں انٹر اپارٹی الیکشن کی تیاریاں عروج پر
اشاعت کی تاریخ: 12th, December 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
251212-2-13
حیدرآباد(اسٹاف رپورٹر)پاکستان مرکزی مسلم لیگ حیدرآباد کی جانب سے ضلع حیدرآباد کی مختلف یوسیز پہ انٹرا پارٹی الیکشن کی تیاریاں عروج پر پہنچ گئی ہیں،مدمقابل امیدوار زیادہ سے زیادہ ووٹوں کے حصول کیلئے کارکنان کے دروازوں پر پہنچ چکے ہیں، جیسے جیسے پولنگ کا دن قریب آرہا ہے ویسے ویسے منتخب امیدوار رابطہ مہم، کارنر میٹنگ اور برادریوں کے سربراہوں سے ملاقاتوں کے ذریعے انتخابی مہم میں دن رات مصروف ہوگئے ہیں، ووٹوں کے حصول کے لیے یوسیز کے منتخب امیدواران نے سرگرم کارکنان کے گھروں اور بیٹھکوں میں ڈیرے جما دیئے، گھر گھر، گلی گلی کارکنان اپنے امیدواران کو جتوانے کیلئے پرجوش دکھائی دے رہے ہیں، گلیوں، محلوں میں جوش و خروش کے ساتھ انتخابی مہم جاری۔ پاکستان مرکزی مسلم لیگ حیدرآباد ڈویژن کے صدر عقیل احمد چیف الیکشن کمشنر ((انٹرا پارٹی الیکشن) عمرفاروق خانزادہ کی زیر صدارت مرکزی مسلم لیگ حیدرآباد کے سیکریٹریٹ میں علاقائی ذمے داران کا اہم اجلاس منعقد ہوا جس میں تمام منتخب امیدواران اور یوسیز کے نمائندے اور شعبہ جاتی ذمے داران کے ساتھ ضلعی تنظیمی باڈی کے رہنماں نے بھی شرکت کی۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: مرکزی مسلم لیگ
پڑھیں:
کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن
الیکشن کمیشن نے خیبر پختونخوا اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم قرار دے دیا۔
اسلام آباد سے الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق خیبر پختونخوا اسمبلی کی جانب سے کی جانے والی ترمیم آئین اور قانون سے متصادم ہے۔
الیکشن کمیشن آف پاکستان کے ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل چوہدری ندیم قاسم کی جانب سے چیف سیکریٹری خیبر پختونخوا کو تحریر کیے گئے خط کے مطابق خیبر پختونخوا اسمبلی نے بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل 6 جولائی کو منظور کیا۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق گورنر کے پی نے بلدیاتی حکومت کے نئے ترمیمی بل کی توثیق کر دی ہے، ترمیم کے مطابق ضلع میں ویلیج اور نیبر ہڈ کونسل کی آبادی 30 سے 40 ہزار کے درمیان ہوگی، ترمیم کے مطابق الیکشن کمیشن حکومت سے مشاورت سے کوئی تبدیلی کر سکے گا۔
خط کے مطابق الیکشن ایکٹ اور آئین کے مطابق بلدیاتی حکومتوں کے الیکشن کے لیے حلقہ بندی کرنا الیکشن کمیشن کا اختیار ہے، حلقہ بندی کے معاملے پر حکومت سے مشاورت بھی آئین کی روح کے خلاف ہے۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق الیکشن کمیشن کے لیے اس ترمیم کے تحت 30 سے 40 ہزار کی آبادی کے لیے حلقہ بندی کرنا قابل عمل نہیں۔
خط کے متن کے مطابق آئین کے تحت کوئی قانون الیکشن کمیشن کے اختیارات نہیں لے سکتا، اتنی تاخیر سے یہ ترمیم کرنا بظاہر بلدیاتی انتخابات میں تاخیر کا حربہ ہے۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق خیبر پختونخوا حکومت اس معاملے پر معاونت کرے تاکہ بلدیاتی انتخابات کا انعقاد کیا جا سکے۔