بنگلادیش میں نئے انتخابات کی تاریخ کا اعلان
اشاعت کی تاریخ: 11th, December 2025 GMT
شیخ حسینہ واجد کا دھڑن تختہ کرنے والی طلبا تحریک ’’نیشنل سٹیزن پارٹی‘‘ بھی میدان میں ہے۔ دوسری جانب شیخ حسینہ کی جماعت عوامی لیگ پر انتخابات میں حصہ لینے پر پابندی عائد ہے۔ اسلام ٹائمز۔ طویل انتظار، سیاسی دباؤ اور احتجاج کے بعد بالآخر بنگلا دیش کے الیکشن کمیشن نے ملک میں عام انتخابات کی تاریخ کا اعلان کردیا۔ عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق گزشتہ برس اگست سے قائم عبوری حکومت نے ملک میں نئے الیکشن کے بعد اقتدار عوامی نمائندوں کو سونپنے کا فیصلہ کرلیا۔ اس وقت بنگلادیش کے عبوری سربراہ نوبیل انعام یافتہ بینکار اور معروف شخصیت محمد یونس ہیں جنھوں نے اپریل 2026 میں الیکشن کرانے کا عندیہ دیا تھا۔ اس کے بعد یہ بازگشت بھی سنی گئی تھی کہ عام انتخابات کے لیے بنگلادیش کی حکومت نے فروری کے مہینے کا انتخاب کیا ہے۔ جس پر متعدد سیاسی جماعتوں نے اپیل کی تھی الیکشن رمضان سے پہلے کرائے جائیں جن کا آغاز فروری کے وسط سے ہوگا۔
آج بنگلادیش کے الیکشن کمیشن نے باضابطہ اعلان کیا ہے کہ ملک میں آئندہ قومی انتخابات 12 فروری 2026 کو منعقد کیے جائیں گے۔ چیف الیکشن کمشنر اے ایم ایم ناصرالدین نے مزید کہا کہ 12 فروری کو ہی عوام سے جولائی چارٹر نامی اصلاحاتی منصوبے پر ریفرنڈم بھی کرایا جائے گا۔ اس چارٹر میں انتظامی اختیارات محدود کرنے، عدلیہ اور الیکشن کمیشن کو مزید بااختیار بنانے، اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے سیاسی استعمال کو روکنے جیسے اہم نکات شامل ہیں۔ انتخابات میں بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی (بی این پی) کو مضبوط امیدوار تصور کیا جارہا ہے جب کہ جماعتِ اسلامی بھی ایک دہائی بعد دوبارہ انتخابی سیاست میں واپس آرہی ہے۔ جماعت اسلامی کو 2013 میں شیخ حسینہ واجد کی حکومت نے ایک عدالتی فیصلے کے ذریعے انتخابی عمل سے باہر کردیا تھا۔
شیخ حسینہ واجد کا دھڑن تختہ کرنے والی طلبا تحریک ’’نیشنل سٹیزن پارٹی‘‘ بھی میدان میں ہے۔ دوسری جانب شیخ حسینہ کی جماعت عوامی لیگ پر انتخابات میں حصہ لینے پر پابندی عائد ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
پڑھیں:
نیتن یاہو کا لبنان میں فوجی کارروائیاں مزید تیز کرنے کا اعلان
تل ابیب: اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو نے لبنان میں فوجی کارروائیوں کو مزید وسعت دینے کا اعلان کرتے ہوئے اسرائیلی فوج کو اپنی موجودگی اور آپریشنز بڑھانے کی ہدایت جاری کر دی۔
غیر ملکی خبر رساں ایجنسی کے مطابق اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو نے کہا ہے کہ بیوفورٹ قلعے پر قبضہ ایک “ڈرامائی قدم” اور اسرائیلی پالیسی میں بڑی تبدیلی کی علامت ہے۔
انہوں نے کہا کہ اسرائیل غزہ، مصر اور لبنان سمیت مختلف محاذوں پر سرگرم ہے۔ اور سرحدوں سے باہر سیکیورٹی زونز قائم کیے جا رہے ہیں تاکہ اسرائیلی آبادی کو تحفظ فراہم کیا جا سکے۔
نیتن یاہو نے کہا کہ اسرائیلی فوج کو ہدایت دی گئی ہے کہ لبنان میں اپنی موجودگی کو مزید مضبوط اور وسیع کیا جائے۔ خصوصاً ان علاقوں میں جہاں ماضی میں حزب اللہ کا اثر و رسوخ رہا ہے۔
اسرائیلی وزیر اعظم نے دعویٰ کیا ہے کہ اکتوبر 2023 سے اب تک حزب اللہ کے 8 ہزار جنگجو مارے جا چکے ہیں۔
دوسری جانب رپورٹس کے مطابق جنگ بندی کے بعد سے اب تک متعدد اسرائیلی ہلاکتیں بھی سامنے آئی ہیں، جن میں حالیہ ڈرون حملے میں مارا گیا ایک فوجی بھی شامل ہے۔