مس یونیورس مقابلے میں جمیکا کی حسینہ حادثے کا شکار
اشاعت کی تاریخ: 11th, December 2025 GMT
مس یونیورس کا عالمہ مقابلہ حسن چمکتی روشنیوں اور رنگین ملبوسات کے بیچ اچانک خوفناک لمحے میں بدل گیا۔ بنکاک میں ہونے والے 73 ویں مس یونیورس 2025 پریلیمنری ایوننگ گاؤن مقابلے کے دوران مس جمیکا گیبریل ہنری اسٹیج سے گر پڑیں۔
واقعہ اتنا اچانک ہوا کہ مس جمیکا کو سنبھالا نہیں جاسکا اور اسٹاف نے فوری طور پر انہیں اسپتال منتقل کیا، جہاں ڈاکٹرز نے بتایا کہ ان کے چہرے پر زخم اور فریکچر آئے ہیں، جبکہ جسم کے اندرونی حصوں سے خون بہنا شروع ہوگیا تھا۔
ابتدائی صورتحال نے سب کو پریشان کر دیا، لیکن اب مس یونیورس آرگنائزیشن نے تصدیق کی ہے کہ 23 سالہ گیبریل ہنری کی حالت خطرے سے باہر ہے۔ وہ اسپتال میں زیرِ علاج ہیں اور انہیں 24 گھنٹے کے لیے خصوصی نیورولوجیکل مانیٹرنگ میں رکھا گیا ہے۔ طبی ماہرین بتدریج ان کی صحت کا جائزہ لے رہے ہیں، اور بہتری کے آثار نظر آ رہے ہیں۔
آئندہ چند دنوں میں گیبریل کو مکمل طبی نگہبانی کے ساتھ جمیکا منتقل کیا جائے گا۔ مس یونیورس کی انتظامیہ نے ان کی میڈیکل فلائٹ کے تمام انتظامات خود کیے ہیں، جبکہ وطن واپسی پر بھی انہیں سیدھا اسپتال لے جایا جائے گا تاکہ علاج میں کوئی تعطل نہ آئے۔
حادثے کے بعد مس یونیورس آرگنائزیشن نے گیبریل اور ان کے خاندان کو مکمل سپورٹ فراہم کی ہے۔ اسپتال کے تمام اخراجات، طبی سہولیات اور یہاں تک کہ ان کی والدہ اور بہن کی رہائش کے اخراجات بھی تنظیم نے برداشت کیے ہیں۔ آرگنائزیشن کا کہنا ہے کہ علاج کے سلسلے میں آئندہ بھی ہر ضروری خرچ وہی ادا کرے گی۔
دوسری جانب، سوشل میڈیا پر شو کے فوراً جاری رہنے کے فیصلے پر کافی تنقید ہوئی۔ کئی صارفین نے سوال کیا کہ اس موقع پر مقابلے کے بجائے ترجیح زخمی امیدوار کی صحت ہونی چاہیے تھی۔
گیبریل ہنری صرف ایک ملکہ حسن ہی نہیں بلکہ ماہر امراض چشم بھی ہیں۔ وہ ’سی می فاؤنڈیشن‘ کی بانی ہیں، جو جمیکا میں بصارت سے محروم افراد کے حقوق اور سہولیات کے لیے کام کرتی ہے۔ ان کی ناگہانی انجری نے مداحوں کو افسردہ کر دیا، لیکن یہ خبر تسلی بخش ہے کہ صحت میں بہتری کا سلسلہ جاری ہے اور علاج مکمل ہونے کے بعد وہ جلد اپنی سرگرمیوں کی طرف لوٹنے کی امید رکھتی ہیں۔
TagsShowbiz News Urdu.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
کلیدی لفظ: پاکستان کھیل مس یونیورس
پڑھیں:
طوفانی سیلاب سے عوام شدید مشکلات کا شکار ہیں، حکومت فوری اقدامات اٹھائے، کاظم میثم
ممبر گلگت بلتستان اسمبلی نے ایک بیان میں کہا کہ صوبائی اور وفاقی حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں مشکل کی اس گھڑی میں عوام کے شانہ بشانہ کھڑے ہوں اور متاثرین سیلاب کو ریلیف دینے اور بحالی کے لیے جامع منصوبہ بندی کے ساتھ اقدامات اٹھائیں۔ اسلام ٹائمز۔ سابق اپوزیشن لیڈر و ممبر گلگت بلتستان اسمبلی کاظم میثم نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ پورے گلگت بلتستان میں طوفانی سیلاب اور دریائی کٹاو سے عوام شدید مشکلات کے شکار ہیں، وفاقی اور صوبائی حکومت کو فوری اقدامات اٹھاتے ہوئے ریلیف اور بحالی کے لیے کام تیز کرنے کی ضرورت ہے۔ سکردو میں دریائی کٹاو کے سبب سترانگلونگما کواردو اور حوطو رنگاہ کے عوام شدید مشکلات کے شکار ہیں۔ زرعی اراضی اور درخت دریا برد ہو رہے ہیں لیکن تاحال کوئی ہنگامی بنیادوں پر بحالی کے لیے کوئی کام نہیں ہوا ہے۔ ضلعی انتظامیہ اور جی بی ڈی ایم اے کو کواردو حوطو رنگاہ اور رزسنا رنگاہ کے دریائی کٹاو روکنے کے لیے فوری اقدامات اٹھانا چاہیے۔ گزشتہ مہینے آنے والے شگریخورد میں سیلاب متاثرین کی بحالی کے بھی تاحال اقدامات نہیں اٹھائے گئے ہیں۔ جس کے سبب عوام میں شدید تشویش پائی جاتی ہے۔ کاظم میثم نے مزید کہا کہ طوفانی سیلاب کے سبب تقریبا تمام اضلاع میں تباہ کاریاں ہوئی ہیں اور شاہراہوں کی بندش کے سبب بھی مشکلات کے شکار ہیں۔ صوبائی اور وفاقی حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں مشکل کی اس گھڑی میں عوام کے شانہ بشانہ کھڑے ہوں اور متاثرین سیلاب کو ریلیف دینے اور بحالی کے لیے جامع منصوبہ بندی کے ساتھ اقدامات اٹھائیں۔