گوگل اے آئی گلاسز متعارف کرانے کی تیاری کر رہا ہے
اشاعت کی تاریخ: 11th, December 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
دنیا کی سب سے بڑی ٹیکنالوجی کمپنی گوگل مصنوعی ذہانت کی دوڑ میں ایک بڑا قدم اٹھانے کی تیاری میں ہے اور اس بار کمپنی اسمارٹ فون یا لیپ ٹاپ نہیں بلکہ ایسے جدید اے آئی گلاسز متعارف کرانے جا رہی ہے جن کے ذریعے اس کا طاقتور اسسٹنٹ جیمینائی براہِ راست صارف کی نظروں کے سامنے موجود ہوگا۔
گوگل نے اپنی تفصیلی بلاگ پوسٹ میں بتایا کہ یہ چشمے بظاہر عام عینک یا سن گلاسز جیسے دکھائی دیں گے، تاہم اندرونی طور پر انہیں اگلی نسل کی اے آئی ٹیکنالوجی سے آراستہ کیا جا رہا ہے، ان چشموں کے ذریعے صارف نہ صرف گفتگو کرسکے گا بلکہ فوری طور پر تصاویر لے کر معلومات بھی حاصل کرسکے گا۔
کمپنی کے مطابق فی الحال دو مختلف طرز کے اے آئی گلاسز تیار کیے جا رہے ہیں، جنہیں پورا دن آرام سے پہنا جاسکے گا، پہلی قسم اسکرین فری اے آئی گلاسز کی ہے، جو بلٹ اِن اسپیکر، حساس مائیکروفونز اور اعلیٰ معیار کے کیمروں کی مدد سے صارف کو جیمینائی کے ساتھ انتہائی فطری انداز میں رابطہ کرنے کی سہولت فراہم کرے گی۔
گوگل کے مطابق دوسری قسم ڈسپلے اے آئی گلاسز کی ہے، جن میں لینس کے اندر ایک مخصوص ڈسپلے نصب کیا گیا ہے۔ اس ٹیکنالوجی کا مقصد یہ ہے کہ صارف کو ضرورت پڑنے پر نجی اور براہِ راست معاون معلومات اس کی نظر کے سامنے ظاہر ہو جائیں—خواہ وہ راستے کی رہنمائی ہو، کسی زبان کا فوری ترجمہ، یا کوئی اور مفید ڈیجیٹل اشارہ۔
گوگل ان انقلابی اے آئی گلاسز کی تیاری کے لیے معروف برانڈز جینٹل مونسٹر اور واربی پارکر کے ساتھ اشتراک کر رہا ہے۔ کمپنی کے اندرونی شیڈول کے مطابق اس منصوبے کی پہلی عملی شکل آئندہ سال کے آغاز میں مارکیٹ میں متعارف کرائے جانے کا امکان ہے، جو روزمرہ ٹیکنالوجی کے استعمال کے طریقے کو ایک نئی سمت میں لے جا سکتی ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: اے آئی گلاسز
پڑھیں:
کارگو طیارہ حادثے میں جاں بحق عملے کے اہل خانہ کو کمپنی مالکان سے عدم تعاون کی شکایت
نجی کارگو ایئرلائن کے ٹو ایئرویز کے حادثے میں جاں بحق عملے کے اہل خانہ حادثے کی وجوہات جاننے کے منتظر ہیں۔ انہوں نے نجی کارگو کمپنی کے مالکان کی جانب سے عدم تعاون کی شکایت بھی کی ہے، متاثرین کیلئے اب تک کسی معاوضہ کا اعلان بھی نہیں ہوا۔
7 جولائی کو شارجہ سے کراچی آنے والا نجی کارگو کمپنی کے ٹو ایئرویز کا بوئنگ 737 طیارہ بلوچستان کے ساحل سے آگے گہرے سمندر میں گر کر تباہ ہو گیا تھا۔ حادثے کے مقام سے طیارے کا کچھ ملبہ ضرور ملا ہے لیکن سمندر کی تہہ میں پہنچ جانے والے طیارے کے بلیک باکس، کاکپٹ اور عملے کا تاحال کوئی سراغ نہیں مل سکا۔ متاثرین کا مطالبہ ہے کہ اس کام کیلئے غیر ملکی ماہر کمپنیوں سے مدد لی جائے۔
نجی کارگو طیارے کا ملبا تفتیشی ٹیم کے سپرد، بلیک باکس، عملے کے 5 ارکان کی تلاش جاریترجمان پاکستان ایئرپورٹ اتھارٹی (پی اے اے) کے مطابق کارگو طیارے کے مزید ملبے اور عملےکی تلاش گہرے سمندر میں جاری ہے حادثے کے شکار طیارے کے مزید پرزے اور ملبہ سمندر سے برآمد کر لیا گیا۔
شہید کپٹن رضوان کے اہل خانہ نے عملے اور طیارے کے ملبے کی تلاش کیلئے پاکستان نیوی اور دیگر اداروں پر اعتماد کا اظہار کیا لیکن کارگو کمپنی کی شدید بے حسی کی شکایت کی اور مطالبہ کیا کہ کے ٹو ایئرویز کے بیرون ملک موجود مالکان کو واپس لا کر تحقیقات میں شامل کیا جائے۔
متاثرین کے مطابق کے ٹو ایئرویز کی انتظامیہ کی بے حسی کا اندازہ اس سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ ملازمین کو 3 ماہ سے تنخواہیں نہیں ملی تھیں۔ یہ تنخواہ اس المناک حادثہ کے بعد ادا کی گئی۔
ایوی ایشن ماہرین کے مطابق بوئنگ 737 کارگو طیارے کا حادثہ کیوں اور کیسے پیش آیا، یہ اہل خانہ کو بتانا اور حادثہ متاثرین کو معاوضے کی ادائیگی یقینی بنانا حکومت اور ریاست کی ذمہ داری ہے۔