شمالی وزیرستان: میر علی میں سرکاری پرائمری اسکول تباہ، سینکڑوں بچوں کا مستقبل خطرے میں
اشاعت کی تاریخ: 11th, December 2025 GMT
شمالی وزیرستان کی تحصیل میر علی میں نامعلوم شدت پسندوں نے ایک سرکاری پرائمری اسکول کو بم دھماکے سے اڑا دیا، جس کے نتیجے میں 600 سے زائد بچوں کا تعلیمی مستقبل شدید متاثر ہوگیا۔
پیر کی رات خوشحالی ایاز کوٹ کے علاقے میں واقع اس اسکول میں نامعلوم حملہ آوروں نے بارودی مواد نصب کیا تھا، جو رات گئے زور دار دھماکے سے پھٹ گیا۔ دھماکے کی آواز دور دور تک سنی گئی، جبکہ اسکول کی عمارت کا بڑا حصہ ملبے کا ڈھیر بن گیا۔
یہ بھی پڑھیے: خیبرپختونخوا میں سیلاب سے 34 اسکول تباہ، 648 جزوی متاثر، حکومت بحالی کے لیے کیا کررہی ہے؟
محکمہ تعلیم کے مطابق یہ ادارہ علاقے کا واحد فعال پرائمری اسکول تھا جس میں 600 سے زائد طلبا زیرِ تعلیم تھے۔ حکام نے عمارت کے باقی محفوظ حصوں کو سیل کر دیا ہے اور ہنگامی بنیادوں پر متبادل تعلیمی انتظامات پر غور جاری ہے۔
پولیس نے جائے وقوعہ سے شواہد اکٹھے کر لیے ہیں، جبکہ بم ڈسپوزل یونٹ نے ابتدائی تحقیق میں بتایا ہے کہ دھماکا ریموٹ کنٹرول یا ٹائمر ڈیوائس کے ذریعے کیا گیا۔ سیکیورٹی فورسز نے علاقے کو گھیرے میں لے کر سرچ آپریشن شروع کر دیا ہے۔
تاحال کسی گروہ نے واقعے کی ذمہ داری قبول نہیں کی۔
یہ بھی پڑھیے: شمالی وزیرستان: نامعلوم شرپسندوں نے گرلز اسکول کو بم سے اڑا دیا
حکام کا کہنا ہے کہ ایسے حملے خطے کے امن اور ترقی کی راہ میں بڑی رکاوٹ ہیں اور ذمہ داروں کو جلد قانون کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اسکول حملہ بم دھماکا دہشتگردی میر علی وزیراستان.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: اسکول حملہ بم دھماکا دہشتگردی میر علی وزیراستان
پڑھیں:
اٹلی میں چار پاکستانی زرعی مزدوروں کا قتل، دو پاکستانی شہری گرفتار
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ ۔ DW اردو۔ 02 جون 2026ء) اخبار کے مطابق جلی ہوئی گاڑی امینڈولارا نامی گاؤں کے قریب ایک پٹرول پمپ پر ملی، جو کالابریا کے وسیع زرعی علاقے میں واقع ہے۔
اخبار کے مطابق پٹرول پمپ کے سی سی ٹی وی کیمروں کی فوٹیج میں دو افراد کو منی وین کے دروازے باہر سے بند کرتے اور اس کے اندر آتش گیر مائع پھینکتے ہوئے دیکھا گیا۔
رپورٹ کے مطابق اس کے بعد گاڑی میں آگ بھڑک اٹھی اور دونوں مشتبہ افراد موقع سے فرار ہو گئے۔
فائر بریگیڈ نے آگ بجھانے کے بعد گاڑی کے اندر سے چار لاشیں برآمد کیں۔
مقامی پولیس چیف نے اس اطالوی اخبار سے گفتگو کرتے ہوئے کہا، ’’یہ یقینی طور پر قتل کا واقعہ ہے، اب ہمیں صرف اس کی تفصیلات معلوم کرنا ہیں۔
(جاری ہے)
‘‘
اخبار نے مزید لکھا کہ گزشتہ چند مہینوں کے دوران اس علاقے میں پاکستانیوں کی گاڑیوں اور منی وینز کے نذر آتش کیے جانے کے 14 واقعات پیش آ چکے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق علاقے میں تارکین وطن کے مختلف گروہوں کے درمیان زرعی کام کی تقسیم، رہائشی دستاویزات (ریذیڈنسی پیپرز)، اور رہائش کے مسائل پر کشیدگی پائی جاتی ہے، جسے ممکنہ طور پر اس واقعے کے پس منظر سے جوڑا جا رہا ہے۔
اطالوی حکام اس واقعے کی تحقیقات جاری رکھے ہوئے ہیں تاکہ اکٹھے چار افراد کے اس قتل کے محرکات اور اس کے ذمہ دار افراد کے اس جرم میں کردار کی مکمل طور پر وضاحت ہو سکے۔
ادارت: مقبول ملک