غزہ جنگ بندی اور مشکلات
اشاعت کی تاریخ: 11th, December 2025 GMT
اسلام ٹائمز: فلسطینی عوام اس موسم میں صرف موسمی سردی نہیں سہہ رہے، بلکہ عالمی بے حسی کی ٹھنڈ بھی برداشت کر رہے ہیں۔ انسانیت کا تقاضہ ہے کہ عالمی برادری اور مسلم دنیا فوری طور پر غزہ کے عوام کی مدد کے لیے متحد ہو اور سرد موسم کے اس بحران کو کم کرنے کے لیے مؤثر قدم اٹھائے۔ عالمی برادری سمیت ہم سب کی ذمہ داری ہے کہ اس صورتحال سے نمٹنے کے لئے غزہ کے لئے بڑھ چڑھ کر امداد کو یقینی بنائیں، تاکہ اس المیہ اور بحران کا مقابلہ کیا جائے۔ یہ ہم سب کی انسانی، اخلاقی، دینی و سیاسی ذمہ داری ہے۔ تحریر: ڈاکٹر صابر ابو مریم
سیکرٹری جنرل فلسطین فائونڈیشن پاکستان
فلسطینی علاقہ غزہ کی پٹی جو گذشتہ بیس سال سے مسلسل انسانیت کش محاصرہ کا شکار ہے۔ عالمی سطح پر انسانی حقوق کے کارکن غزہ کو کھلی جیل بھی کہتے ہیں۔ غزہ کا نام آتے ہی مصائب اور درد ناک داستان ذہن نشین ہو جاتی ہے۔ دو سال قبل امریکی ایماء اور مسلسل مسلح حمایت سے غاصب صیہونی فوج نے غزہ پر ایک وحشیانہ حملہ شروع کیا تھا، جو ابھی تک جاری ہے۔ اس حملہ اور نسل کشی کے بعد دو ماہ قبل امریکی صدر ٹرمپ نے ایک ڈرامائی جنگ بندی کا معاہدہ پیش کیا اور اس معاہدے پر کچھ مسلمان ممالک کی حکومتوں نے بھی دستخط کر دیئے، تاکہ غزہ میں نسل کشی کا سلسلہ بند ہوسکے۔ ظاہری طور پر جنگ بندی ہوچکی ہے، لیکن حقیقی معنوں میں غاصب اسرائیلی افواج مسلسل غزہ میں جارحیت کی مرتکب ہو رہی ہیں۔ ایسی صورتحال میں عالمی مبصرین نے اس جنگ بندی کے معاہدے کو جعلی جنگ بندی معاہدہ قرار دیا ہے۔
غزہ، جو دنیا کا سب سے زیادہ محاصرے میں جکڑا ہوا علاقہ ہے، جس نے قحط اور نسل کشی کا سامنا کیا ہے۔ حال ہی میں جنگ بندی کے بعد یہ امید کی جا رہی تھی کہ اب غزہ کے لوگوں کو زندگی کی امید ملے گی، لیکن امید تو ملی مگر اس امید کے مکمل ہونے میں ابھی بھی متعدد رکاوٹیں موجود ہیں، جن میں ایک سب سے بڑی رکاوٹ اسرائیل اور اس کی ہٹ دھرمی اور اس پر امریکی سرپرستی ہے۔ غزہ میں اب موسم سرما شروع ہوچکا ہے۔ غزہ ہر سال سرد موسم کے آغاز کے ساتھ ایک نئے امتحان کا سامنا کرتا ہے۔ گذشتہ سال تو اس سرد موسم میں جہاں نسل کشی جاری تھی، وہاں غزہ کے مکینوں کو خیموں کی چھت بھی نصیب نہ تھی اور ظلم تو یہاں تک دیکھا گیا کہ معصوم اور ننھے بچے بارش کے ٹھنڈے پانی اور کیچڑ میں زندگی گزارنے پر مجبور تھے۔
امریکی صدر ٹرمپ نے اپنے حصہ میں کامیابی لکھنے کے لئے جنگ بندی کا معاہدہ تو دے دیا ہے، لیکن اس سال کا موسم سرما بھی جنگ کے آثار کی وجہ سے گذشتہ سالوں کی نسبت کم کٹھن نہیں بلکہ زیادہ مشکلات کے ساتھ ہے۔ غزہ کا علاقہ کہ جہاں ایک طرف بمباری، بے گھری اور انسانی بحران نے زندگی کو مفلوج کر رکھا ہے، وہیں دوسری طرف سرد موسم نے فلسطینی عوام کی مشکلات میں وہ شدت پیدا کر دی ہے، جس کا تصور بھی مشکل ہے۔ تباہ شدہ مکانات، پناہ گاہوں کی کمی، ایندھن کی قلت، صحت کے بحران اور خوراک و پانی تک محدود رسائی نے غزہ کے لوگوں کے لیے سردی کو ایک جان لیوا موسم میں بدل دیا ہے۔ غزہ میں جاری جنگ نے لاکھوں افراد کو گھروں سے بے دخل کر دیا ہے۔ پورے خاندان کھلے آسمان تلے یا عارضی خیموں میں پناہ لینے پر مجبور ہیں۔
سرد ہوائیں، بارشیں اور گرتا ہوا درجہ حرارت اُن کے لیے شدید خطرہ بن چکا ہے۔ تباہ شدہ عمارتیں، ٹوٹے دروازے اور کھڑکیاں اور جگہ جگہ ملبے کے ڈھیر موسمِ سرما کے دوران کسی بھی پناہ گاہ کی مؤثر حفاظت نہیں کر پاتے۔ جنگ اور سردی کا یہ امتزاج انسانی بحران کو نئی انتہا تک لے گیا ہے۔ دوسری طرف غزہ بھر میں خیمہ بستیوں کی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے، لیکن ان خیموں کی حالت انتہائی خستہ ہے۔ عموماً یہ خیمے بارش روکنے کے قابل نہیں اور ذرا سی ہوا سے پھٹ جاتے ہیں۔ کئی خیموں میں شدید سردی میں بھی گرم کپڑے، کمبل یا مناسب بستروں کا انتظام موجود نہیں۔ چھوٹے چھوٹے خیموں میں کئی کئی خاندان ٹھونسے ہوئے رہتے ہیں، جس کی وجہ سے نہ صرف بیماریوں کا پھیلاؤ بڑھ جاتا ہے بلکہ پرائیویسی اور انسانی وقار بھی بری طرح متاثر ہوتا ہے۔
غزہ کی موجودہ صورتحال یہ ہے کہ بارش کے دوران خیموں میں پانی بھر جانا، مٹی کا کیچڑ بن جانا اور بچوں کا بیمار ہو جانا روز کا معمول بن چکا ہے۔ ایسے حالات میں سرد موسم محض تکلیف نہیں بلکہ بقاء کا چیلنج بن جاتا ہے۔ ایندھن، بجلی اور حرارتی وسائل کی شدید کمی ہے۔ اسرائیلی محاصرے کی وجہ سے غزہ میں ایندھن کا داخلہ تقریباً ناممکن ہے، جس کے نتیجے میں لوگ حرارت پیدا کرنے سے محروم ہیں۔بجلی کی بندش، گیس سلنڈروں کی نایابی، لکڑی اور کوئلے کی کمی نے سردی میں معمولاتِ زندگی کو انتہائی خطرناک بنا دیا ہے۔ بہت سے خاندان ساحل کی لکڑی، کپڑوں کے ٹکڑے یا کچرا جلانے پر مجبور ہیں، جو نہ صرف ناکافی ہے بلکہ صحت کے لیے نقصان دہ ہے۔ حرارت نہ ہونے کی وجہ سے بچوں، بیماروں اور بزرگوں میں نمونیا، سانس کی بیماریاں، بخار اور انفیکشنز تیزی سے پھیل رہے ہیں۔
غزہ میں جنگ کے دوران صحت کا نظام پہلے ہی تباہ ہوچکا ہے۔ غاصب صیہونی فوج نے غزہ کے تمام ہی اسپتالوں کو تباہ و برباد کر دیا ہے۔ ہسپتالوں کی بڑی تعداد زمین بوس ہوچکی ہے اور جو باقی ہیں، وہ بھی شدید مشکلات کا شکار ہیں۔ سرد موسم میں نمونیا کے مریض بڑھ رہے ہیں، سانس کی بیماریوں کا پھیلاؤ تیز ہو رہا ہے، صاف پانی کی کمی اور سردی کے باعث پیٹ کی بیماریاں بڑھ رہی ہیں، زخموں اور انفیکشنز کا علاج نہ ہونے کے باعث کئی اموات ہو رہی ہیں۔ ادویات، سیرنجز، آکسیجن سلنڈرز، ویکسین اور گرم کمبلوں کی شدید کمی ہے۔ عالمی ادارہ صحت کے مطابق سردی اور بیماریوں کا یہ بحران جنگ کے نقصانات کو مزید خطرناک بنا رہا ہے۔ سردی میں انسانی جسم کو زیادہ توانائی اور خوراک کی ضرورت ہوتی ہے، لیکن غزہ میں خوراک کی رسائی پہلے ہی محدود ہے۔ بیشتر خاندانوں کو دن میں ایک وقت کا کھانا بھی مشکل سے ملتا ہے، جبکہ گرم خوراک تو واقعاً نایاب ہے۔
پانی کی قلت نے صورتحال کو مزید سنگین بنا دیا ہے۔ بارش کے پانی کو جمع کرنا بھی خیمہ بستیوں کے لیے آسان نہیں اور سرد موسم میں گندا یا آلودہ پانی پینا بیماریوں کا سبب بنتا ہے۔ بچوں میں غذائی قلت (malnutrition) تیزی سے بڑھ رہی ہے۔ سب سے زیادہ متاثر: بچے، عورتیں اور بزرگ سرد موسم کا سب سے زیادہ اثر کمزور طبقات پر پڑتا ہے۔ بچے مناسب لباس کی کمی گیلے خیموں میں رہائش، سردی کے باعث خطرناک بیماریاں نفسیاتی صدمے، خوف، بے چینی، صفائی کے مسائل، حاملہ خواتین کے لیے خطرات، بچوں کی دیکھ بھال میں مشکلات، بزرگ افراد کے لئے جسمانی کمزوری کے باعث سرد موسم سہنا مشکل، یہ تمام طبقات انسانی مدد کے شدید منتظر ہیں۔ ایسی صورتحال میں غزہ کے لوگوں کو بلا رکاوٹ امداد کی ضرورت ہے۔ اقوام متحدہ اور امدادی تنظیموں کے مطابق سرد موسم کے باوجود امداد کی رسائی انتہائی کم ہے۔
ہر گھنٹے کی تاخیر غزہ میں انسانی جانوں کا نقصان بڑھا رہی ہے۔ محاصرہ، بمباری، سڑکوں کی تباہی اور سیاسی رکاوٹیں امداد پہنچنے میں سب سے بڑی وجہ ہیں۔اسرائیل نے معاہدے کے باوجود رفح کراسنگ کو امدادی سرگرمیوں کے لئے مکمل طور پر فعال نہیں ہونے دیا ہے۔ ان حالات میں سردی غزہ کے نہتے عوام کے لیے ایک خاموش قاتل کی شکل اختیار کرچکی ہے۔ ان تمام تر شدید مشکلات کے باوجود فلسطینی عوام ہمت، حوصلے اور یکجہتی کی مثال قائم کیے ہوئے ہیں۔ ایک دوسرے کی مدد کرنا، محدود وسائل کا مشترکہ استعمال اور حالات کا مقابلہ کرنا اُن کے اجتماعی شعور کی علامت ہے۔ یہی استقامت انہیں سردی اور جنگ کے اس دوہرے عذاب کے خلاف کھڑا رکھے ہوئے ہے۔
خلاصہ یہ ہے کہ غزہ میں سرد موسم صرف موسمی تبدیلی نہیں بلکہ ایک انسانی المیہ ہے، جو جنگ، محاصرے اور غربت کے ساتھ مل کر بے شمار جانوں کے لیے شدید خطرہ ہے۔ یہ صورت حال عالمی ضمیر کو جھنجھوڑنے اور فوری عملی اقدامات کا تقاضا کرتی ہے۔ پناہ گاہوں کی فراہمی، حرارتی وسائل، خوراک، ادویات، کمبل، صاف پانی اور محفوظ ماحول کے بغیر غزہ میں سردی کا مقابلہ کرنا ناممکن ہے۔ فلسطینی عوام اس موسم میں صرف موسمی سردی نہیں سہہ رہے، بلکہ عالمی بے حسی کی ٹھنڈ بھی برداشت کر رہے ہیں۔ انسانیت کا تقاضہ ہے کہ عالمی برادری اور مسلم دنیا فوری طور پر غزہ کے عوام کی مدد کے لیے متحد ہو اور سرد موسم کے اس بحران کو کم کرنے کے لیے مؤثر قدم اٹھائے۔ عالمی برادری سمیت ہم سب کی ذمہ داری ہے کہ اس صورتحال سے نمٹنے کے لئے غزہ کے لئے بڑھ چڑھ کر امداد کو یقینی بنائیں، تاکہ اس المیہ اور بحران کا مقابلہ کیا جائے۔ یہ ہم سب کی انسانی، اخلاقی، دینی و سیاسی ذمہ داری ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: عالمی برادری فلسطینی عوام بیماریوں کا سرد موسم کے ذمہ داری ہے کا مقابلہ کی وجہ سے کہ عالمی ہم سب کی کے باعث اور سرد رہے ہیں کے لئے دیا ہے جنگ کے کی کمی غزہ کے کے لیے
پڑھیں:
سارا انعام قتل کیس: شاہنواز امیر کی اپیلوں پر سماعت موسم گرما کی تعطیلات کے بعد تک ملتوی
---فائل فوٹواسلام آباد ہائی کورٹ نے سارا انعام قتل کیس میں سزا یافتہ مجرم شاہنواز امیر کی سزا کے خلاف اپیل اور دیگر متعلقہ اپیلوں کی سماعت موسم گرما کی تعطیلات کے بعد تک ملتوی کر دی۔
کیس کی سماعت جسٹس خادم حسین سومرو اور جسٹس محمد آصف نے کی، مجرم کی والدہ ثمینہ شاہ کی بریت کے خلاف درخواست بھی زیرِ سماعت آئی۔
سماعت کے دوران شاہنواز امیر کی جانب سے وکیل چوہدری عبدالعزیز جبکہ مقتولہ سارا انعام کے والد کی جانب سے رضوان عباسی عدالت میں پیش ہوئے۔
جسٹس ارباب محمد طاہر اور جسٹس انعام امین منہاس نے کیس کی سماعت کی۔
جسٹس خادم حسین سومرو نے استفسار کیا کہ کیا فریقین دلائل کے لیے تیار ہیں جس پر دونوں جانب کے وکلا نے آمادگی ظاہر کی، بعد ازاں وکیل چوہدری عبدالعزیز نے دلائل کا آغاز کرتے ہوئے سب سے پہلے ایف آئی آر کا متن پڑھا۔
وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ اس مقدمے میں ایاز امیر ابتدا ہی میں کیس سے ڈسچارج ہو گئے تھے اور اس حکم کو کسی فورم پر چیلنج نہیں کیا گیا۔
انہوں نے بتایا کہ ثمینہ شاہ کو بھی ٹرائل کورٹ نے عدم شواہد کی بنیاد پر بری کیا تھا تاہم اس وقت ان کے وکیل عدالت میں موجود نہیں تھے۔
عدالت نے آئندہ تاریخ کے حوالے سے فریقین سے رائے طلب کی جس پر رضوان عباسی نے سماعت آئندہ ہفتے یا موسم گرما کی تعطیلات کے بعد مقرر کرنے کی استدعا کی۔
اسلام آباداسلام آباد کی مقامی عدالت نے سارہ...
بعد ازاں عدالت نے کیس کی سماعت موسم گرما کی تعطیلات کے بعد تک ملتوی کر دی۔
واضح رہے کہ ستمبر 2022ء میں سارا انعام کو ان کے شوہر شاہنواز امیر نے قتل کر دیا تھا جبکہ ٹرائل کورٹ شاہنواز امیر کو سزائے موت سنا چکی ہے۔