کانگریس لیڈر نے کہا کہ 2017ء تک منافع میں رہنے والی اس کمپنی کو جان بوجھ کر اور منصوبہ بند طریقے سے خسارے میں دھکیلا گیا تاکہ سرکاری ٹھیکے نجی کمپنیوں کے حوالے کئے جا سکیں۔ اسلام ٹائمز۔ کانگریس کے سینیئر رہنما اور پارلیمنٹ میں حزب اختلاف کے قائد راہل گاندھی نے این ڈی اے حکومت پر شدید تنقید کرتے ہوئے الزام عائد کیا کہ عوامی مفاد کے لئے قائم سرکاری اداروں کو منظم طریقے سے کمزور کر کے نجی ہاتھوں میں منتقل کرنے کی کوششیں زور و شور سے جاری ہیں۔ اپنے واٹس ایپ چینل پر تازہ پوسٹ میں انہوں نے خاص طور پر بھارت امیونولاجیکل اینڈ بائیولاجیکل کارپوریشن لمیٹڈ (بی آئی بی سی او ایل، ببکول) کے بحران کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اس تاریخی سرکاری کمپنی کے ملازمین برسوں سے تنخواہوں کے بغیر زندگی گزارنے پر مجبور ہیں، جو خود حکومت کی پالیسیوں کا نتیجہ ہے۔

راہل گاندھی کے مطابق کچھ روز قبل "جن سنسد" میں ببکول کے ملازمین کے ایک وفد نے ان سے ملاقات کی اور کمپنی کی صورتحال بیان کی۔ انہوں نے لکھا کہ ملازمین نے جو حالات بتائے وہ حیران کر دینے والے نہیں بلکہ چونکا دینے والے ہیں۔ ایک سرکاری کمپنی کے کارکن برسوں سے بغیر تنخواہ کے ہیں اور گھریلو اخراجات پورے کرنے کے لیے قرض اور ادھار پر گزارا کر رہے ہیں۔

انہوں نے یاد دلایا کہ یہی ببکول وہ واحد سرکاری ادارہ ہے جس نے ہندوستان میں پولیو جیسے خطرناک مرض کے خاتمے میں فیصلہ کن کردار ادا کیا۔ یہ کمپنی نہ صرف کم قیمت میں ویکسین فراہم کرتی رہی بلکہ ملک کے ہر بچے تک اس کی رسائی کو یقینی بنانے میں بھی بنیادی حیثیت رکھتی تھی۔ راہل گاندھی نے کہا کہ 2017ء تک منافع میں رہنے والی اس کمپنی کو جان بوجھ کر اور منصوبہ بند طریقے سے خسارے میں دھکیلا گیا تاکہ سرکاری ٹھیکے نجی کمپنیوں کے حوالے کیے جا سکیں اور پھر انہی کمپنیوں کو بھاری منافع حاصل ہو۔

انہوں نے الزام لگایا کہ حکومت کے بعض قریب سرمایہ دار دوست آخرکار اسی بہانے ببکول کی قیمتی زمین اور اثاثوں پر قبضہ کر لیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ کمپنی کی زمین خصوصاً جیور ایئرپورٹ کے اعلان کے بعد انتہائی قیمتی ہو چکی ہے، اس لئے ادارے کو خسارے کا بہانہ بنا کر بند کرنے کی تیاری کی جا رہی ہے۔ راہل گاندھی کے مطابق حکومت نے ملازمین کی پریشانی سن کر یہ یقین دہانی ضرور کرائی ہے کہ بقیہ تنخواہیں جلد ادا کی جائیں گی، تاہم سرکاری اداروں کو بیمار بنا کر نجی ہاتھوں میں دینے کی سازش کہیں زیادہ گہری ہے۔ راہل گاندھی نے کہا کہ یہ صرف نجکاری نہیں بلکہ عوام کی جیب پر حملہ اور ہندوستان کی روح پر ضرب ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: راہل گاندھی انہوں نے کہا کہ

پڑھیں:

حکومت نے 11 ماہ میں عوام اور کاروباری اداروں کی جیبوں سے سوا 11 ہزار ارب روپے کا ٹیکس نکال لیا

اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 جون2026ء) حکومت نے 11 ماہ میں عوام اور کاروباری اداروں کی جیبوں سے سوا 11 ہزار ارب روپے کا ٹیکس نکال لیا، ایف بی آر نے پہلے 11 ماہ میں 11 ہزار 257 ارب روپے ٹیکس اکٹھا کیا ، مئی میں 994 ارب روپے وصول کیے ۔ تازہ ترین حکومتی اعداد و شمار کے مطابق ایف بی آر کی ٹیکس وصولیاں نظرثانی شدہ اہداف کے مطابق جاری ہیں۔

مشیر وزیر خزانہ خرم شہزاد کے مطابق 864 ارب روپے کے ٹیکس شارٹ فال کا تاثر ابتدائی 14 ہزار 130 ارب روپے کے ہدف کی بنیاد پر دیا جا رہا ہے جو گمراہ کن ہے۔معاشی حالات میں تبدیلی کے بعد آئی ایم ایف کی مشاورت سے ریونیو ہدف تقریباً 13 ہزار ارب روپے تک ایڈجسٹ کیا گیا۔ مشیر وزیر خزانہ نے کہا کہ مہنگائی،درآمدات اور عالمی صورتحال میں تبدیلی کے باعث اہداف پر نظرثانی معمول کا مالی عمل ہے، نظرثانی شدہ مالی فریم ورک کیتحت ایف بی آر کی کارکردگی مضبوط،11 ماہ کا تقریباً مکمل ہدف حاصل کیا گیا، ایف بی آر نے پہلے 11 ماہ میں 11 ہزار 257 ارب روپے ٹیکس اکٹھا کیا جبکہ مئی میں 994 ارب روپے وصول کیے۔

(جاری ہے)

مشیر وزیر خزانہ نے کہا کہ مئی میں ایف بی آر نے ماہانہ ہدف کا 97 فیصد جبکہ 11 ماہ کے ہدفکا 99.8 فیصد حاصل کیا، موجودہ کارکردگی ریونیو بحران یا بڑے ٹیکس شارٹ فال کے دعوؤں کی نفی کرتی ہے، جون 2026 کا 1 ہزار 727 ارب ریونیو ہدف 15 فیصد اضافے کے ساتھ نظرثانی شدہ مالی فریم ورک کے مطابق قابل حصول ہے، کاروباری طبقے اور سرمایہ کار غیر معمولی ٹیکس اقدامات سے متعلق قیاس آرائیوں پر توجہ نہ دیں، مالی معاملات پر تبصرہ پرانے اہداف کے بجائے موجودہ معاشی حقائق اور درست اعداد و شمار پر ہونا چاہیے۔                                                                           

متعلقہ مضامین

  • 5 جون کا وفاقی بجٹ اجلاس مؤخر، نئی تاریخ کا فیصلہ نہ ہوسکا
  • سرمایہ کاری نہیں قرضے ترجیح کب تک
  • فراری کی پہلی الیکٹرک کار متعارف، رونمائی کے فوراً بعد تنقید کا طوفان
  • ملکی برآمدات میں اضافہ نہیں ہو رہا، کپیسٹی چارجز کے سبب بجلی کی قیمتیں زیادہ ہیں، قائمہ کمیٹی تجارت
  • کراچی کے سرکاری کالجز میں انٹرسال اول کیلیے داخلے شروع نہ ہوسکے، سوا لاکھ طلبا منتظر
  • مئی ، 3161 نئی کمپنیاں رجسٹرڈ، مجموعی تعداد 297,239 ہو گئی، ایس ای سی پی
  • پاکستان میں گزشتہ ماہ 3161 نئی کمپنیاں رجسٹرڈ، مجموعی تعداد 2 لاکھ 97 ہزار سے متجاوز
  • شازیہ مری کا گلگت بلتستان الیکشن میں وفاقی حکومت پر سرکاری وسائل کے استعمال کا الزام
  • حکومت نے 11 ماہ میں عوام اور کاروباری اداروں کی جیبوں سے سوا 11 ہزار ارب روپے کا ٹیکس نکال لیا
  • گوگل کی مالک کمپنی الفابیٹ کا اے آئی پر 80 ارب ڈالر خرچ کرنے کا بڑا فیصلہ