بنگلہ دیش کے قومی انتخابات اور ریفرنڈم کی تاریخ کا حتمی اعلان ہوگیا
اشاعت کی تاریخ: 11th, December 2025 GMT
بنگلہ دیش کے چیف الیکشن کمشنر ناصرالدین نے اعلان کیا ہے کہ ملک کے 13ویں قومی پارلیمانی انتخابات 12 فروری 2026 کو ہوں گے، اور اسی دن جولائی نیشنل چارٹر کے نفاذ پر ایک قومی ریفرنڈم بھی کیا جائے گا۔
یہ بھی پڑھیں: بنگلہ دیش میں عام انتخابات کی تیاریاں مکمل، پولنگ اوقات میں اضافہ منظور
چیف الیکشن کمشنر کے مطابق 12 فروری 2026 کو انتخابات کے لیے صبح 7:30 بجے سے شام 4:30 بجے تک ووٹنگ ہوگی، جس میں دونوں انتخابات اور ریفرنڈم کے لیے اضافی وقت دیا جائے گا۔ نامزدگی جمع کروانے کی آخری تاریخ 29 دسمبر، نامزدگی کی جانچ پڑتال 30 دسمبر سے 4 جنوری تک، مسترد شدہ نامزدگیوں پر اپیل 11 جنوری، اپیل کے فیصلے 12 سے 18 جنوری مقرر کی گئی ہے۔
نامزدگی واپس لینے کی آخری تاریخ 20 جنوری، حتمی امیدواروں کی فہرست اور نشان الاٹمنٹ 21 جنوری، اور مہم کا دورانیہ 22 جنوری سے 10 فروری تک (صبح 7:30 بجے اختتام) رکھا گیا ہے، انتخابات ملک کی تمام 300 پارلیمانی حلقوں میں ہوں گے۔
بنگلہ دیش میں اس وقت 127.
یہ بھی پڑھیں: بنگلہ دیش میں انتخابات کب ہوں گے؟ سربراہ نگران حکومت نے بتادیا
یہ انتخابات 5 اگست 2024 کو عوامی لیگ حکومت کے زوال کے 16 ماہ بعد ہورہے ہیں، جو طلبہ کی قیادت میں عوامی احتجاج کے بعد ہوئی۔ عبوری حکومت 8 اگست 2024 کو نوبل انعام یافتہ محمد یونس کی قیادت میں قائم ہوئی۔
ابتدائی طور پر کئی سیاسی جماعتیں، بشمول بی این پی، نے دسمبر 2024 میں انتخابات کی درخواست دی تھی۔ بعد میں لندن میں بی این پی کے ایکٹنگ چیئرمین طارق رحمان اور چیف ایڈوائزر کے درمیان بات چیت کے بعد انتخابات فروری 2026 میں کرانے پر اتفاق ہوا۔ نومبر میں چیف ایڈوائزر نے تصدیق کی کہ ریفرنڈم اور قومی انتخابات دونوں اسی دن ہوں گے۔
انتخابات میں صرف وہ جماعتیں حصہ لے سکتی ہیں جو الیکشن کمیشن میں رجسٹرڈ ہیں۔ اس وقت 56 سیاسی جماعتیں رجسٹرڈ ہیں، تاہم عوامی لیگ کی رجسٹریشن سیاسی سرگرمیوں پر پابندی کی وجہ سے معطل ہے اور وہ انتخابات میں حصہ نہیں لے سکتی۔
یہ بھی پڑھیں: بنگلہ دیش میں عام انتخابات سے قبل سیاسی تشدد میں خطرناک اضافہ
آزاد امیدوار بھی قانونی شرائط پوری کرنے پر انتخاب لڑ سکتے ہیں۔ یہ نیا قائم شدہ الیکشن کمیشن، جسے 21 نومبر 2024 کو ناصر الدین کی قیادت میں بنایا گیا، کا پہلا قومی انتخاب ہوگا۔
دو قومی ووٹ بیک وقت ہونے کی وجہ سے الیکشن کمیشن نے وقت کی پابندی اور سیکیورٹی کو بڑے چیلنج کے طور پر شناخت کیا ہے۔ پر امن ماحول کے لیے تقریباً 9 لاکھ اہلکار مسلح افواج اور قانون نافذ کرنے والے اداروں سے تعینات کیے جائیں گے، جو بنگلہ دیش کی انتخابی تاریخ میں سب سے بڑی سیکیورٹی تعیناتی ہوگی۔
ایک لاکھ 50 ہزار پولیس افسران کو خصوصی انتخابی تربیت دی جاچکی ہے اور پولنگ مراکز میں اضافی خفیہ ووٹنگ بوتھ لگائے جائیں گے۔
الیکشن کمیشن کا کہنا ہے کہ شفاف اور قابل اعتماد انتخابات کے لیے تمام تیاری مکمل طور پر جاری ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
we news بنگلہ دیش پولنگ چیف ایڈوائزر حتمی تاریخ ریفرنڈم قومی انتخابات ووٹنگ
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: بنگلہ دیش پولنگ چیف ایڈوائزر حتمی تاریخ ریفرنڈم قومی انتخابات ووٹنگ بنگلہ دیش میں الیکشن کمیشن ہوں گے کے لیے
پڑھیں:
ایران سے مذاکرات کے امکانات روشن ہیں، معاہدے کا حتمی نہیں کہہ سکتے، امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو
امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے کہا ہے کہ ایران کے ساتھ جوہری مذاکرات کی بحالی کے امکانات روشن ہیں اور ایران بعض ایسے نکات پر بات چیت کے لیے آمادہ ہو گیا ہے جن پر وہ ماضی میں گفتگو سے انکار کرتا رہا تھا تاہم اس بات کی کوئی ضمانت نہیں دی جا سکتی کہ مذاکرات کسی قابل قبول معاہدے پر منتج ہوں گے۔
یہ بھی پڑھیں: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اسرائیلی حملوں پر برہم، نیتن یاہو کو سخت پیغام
سینیٹ کی خارجہ تعلقات کمیٹی کے سامنے اپنے بیان میں مارکو روبیو نے کہا کہ ایران نے اپنے جوہری پروگرام کے بعض پہلوؤں پر بات چیت پر آمادگی ظاہر کی ہے جو چند ماہ قبل تک ممکن نہیں سمجھی جا رہی تھی۔
انہوں نے کہا کہ ایران ایسے معاملات پر مذاکرات کے لیے تیار ہوا ہے جن کا ذکر کرنے سے بھی وہ پہلے گریز کرتا تھا تاہم یہ اس بات کی ضمانت نہیں کہ بالآخر کوئی ایسا معاہدہ طے پا جائے گا جو سب کے لیے قابل قبول ہو۔
روبیو کے مطابق ایرانی قیادت کے اندر پائی جانے والی غیر یقینی صورتحال بھی مذاکراتی عمل کو پیچیدہ بنا رہی ہے۔
تاہم امریکی وزیر خارجہ کی امید افزا باتیں ایسے وقت سامنے آئی ہیں جب ایران اور امریکا کے درمیان بالواسطہ رابطوں میں نئی رکاوٹیں پیدا ہونے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔ ایرانی ذرائع ابلاغ کے مطابق اسرائیل کی جانب سے بیروت پر حملوں کی دھمکیوں کے بعد ایران نے ثالثوں کے ساتھ رابطے معطل کر دیے ہیں۔
ادھر امریکا کی میزبانی میں اسرائیل اور لبنان کے درمیان سیاسی مذاکرات کا نیا دور بھی جاری ہے جبکہ اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی نے پہلے سے موجود نازک جنگ بندی کو مزید غیر یقینی بنا دیا ہے۔
مزید پڑھیے: لبنان جنگ بندی پراتفاق ہونے کے بعد امریکا، ایران مذاکرات دوبارہ تیز رفتاری سے شروع ہو گئے ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ کا اعلان
مارکو روبیو نے کانگریس میں 2 روزہ بریفنگ کے دوران ایران، مشرق وسطیٰ، کیوبا، غیر ملکی امداد اور دیگر خارجہ پالیسی امور پر قانون سازوں کے سوالات کے جوابات دیے۔
ایران جنگ پر سوالاتکانگریس میں اپنی پہلی عوامی پیشی کے دوران روبیو کو ایران کے خلاف امریکی اور اسرائیلی کارروائیوں سے متعلق سخت سوالات کا سامنا بھی کرنا پڑا۔
متعدد ڈیموکریٹ ارکان نے جنگ کے آغاز سے قبل کانگریس کی منظوری نہ لینے پر تنقید کی جبکہ بیشتر ریپبلکن ارکان نے ایران کے خلاف کارروائی کی حمایت کی۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران کے خلاف فوجی کارروائی کے فیصلے پر بھی بحث جاری ہے خصوصاً ایسے وقت میں جب انہوں نے ماضی میں مشرق وسطیٰ میں طویل جنگوں سے گریز کا وعدہ کیا تھا۔
جنگ کے معاشی اثراتایران کے ساتھ جاری کشیدگی کے باعث آبنائے ہرمز میں تیل بردار جہازوں کی آمدورفت متاثر ہوئی ہے جس کے نتیجے میں عالمی منڈی میں تیل اور گیس کی قیمتوں میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔
مزید پڑھیں: ٹرمپ نے ایران جنگ بندی معاہدے کی شرائط مزید سخت کر دیں، تہران کے جواب کا انتظار، امریکی میڈیا
ماہرین کے مطابق دنیا کی تقریباً 20 فیصد تیل اور قدرتی گیس کی تجارت آبنائے ہرمز کے ذریعے ہوتی ہے اس لیے خطے میں کسی بھی قسم کی کشیدگی عالمی معیشت پر براہ راست اثر ڈال سکتی ہے۔
کیوبا سے متعلق بھی سخت مؤقفمارکو روبیو کو سماعت کے دوران کیوبا کے حوالے سے بھی سوالات کا سامنا کرنا پڑا۔ سماعت کے آغاز پر چند مظاہرین نے ’کیوبا کو جینے دو‘ اور ’کیوبن عوام کا قتل بند کرو‘ جیسے نعرے لگائے جنہیں بعد ازاں کمرے سے باہر نکال دیا گیا۔
یہ بھی پڑھیے: ایران ڈیل کے قریب ہیں، مگر جلد بازی نقصان دہ ہوگی، صدر ٹرمپ کا فوکس نیوز کو انٹرویو میں دعویٰ
روبیو، جو کیوبن تارکین وطن خاندان سے تعلق رکھتے ہیں، طویل عرصے سے کیوبا کو امریکی قومی سلامتی کے لیے خطرہ قرار دیتے رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ کیوبا کے امریکا کے مخالف ممالک کے ساتھ تعلقات واشنگٹن کے لیے تشویش کا باعث ہیں۔
امریکی انتظامیہ نے حالیہ دنوں میں کیوبا کے سابق صدر راول کاسترو کے خلاف فوجداری الزامات بھی عائد کیے ہیں جس پر کیوبا کی حکومت نے شدید ردعمل ظاہر کرتے ہوئے اسے سیاسی اقدام قرار دیا ہے۔
مزید پڑھیں: ایران اور امریکا کے درمیان جنگ بندی معاہدہ تیار، ٹرمپ کی منظوری باقی، امریکی نیوز ویب سائٹ کا دعویٰ
مارکو روبیو بدھ کے روز بھی کانگریس کی مختلف کمیٹیوں کے سامنے پیش ہو کر امریکی محکمہ خارجہ کے بجٹ اور خارجہ پالیسی سے متعلق معاملات پر بریفنگ دیں گے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو ایران امریکا تنازع ایران امریکا مذاکرات ایران امریکا معاہدہ