SICPAپاکستان کا ملک میں شاندار خدمات اور شراکت داری کا 30 سالہ جشن
اشاعت کی تاریخ: 11th, December 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کراچی(اسٹاف رپورٹر)محفوظ شناخت، تصدیق اور ٹریس ایبیلٹی کا حل فراہم کرنے والے قابل اعتماد ادارے SICPA پاکستان نے اپنے قیام کی 30 ویں سالگرہ کا جشن منایا۔اس حوالے سے کراچی میں ایک پروقار تقریب کا انعقاد کیا گیا۔تقریب میں اسٹیٹ بینک آف پاکستان ( ایس بی پی) کے گورنر جمیل احمد نے بطور مہمان خصوصی شرکت کی جبکہ ایس بی پی کے سینیئر حکام ، پاکستان سیکورٹی پرنٹنگ کارپوریشن ( پی ایس پی سی ) کے نمائندوں اورSICPAکے قابل قدر برانڈ پروٹیکشن پارٹنرز بھی شریک ہوئے۔
اپنے افتتاحی خطاب میں SICPA انکس پاکستان (پرائیویٹ) لمیٹڈ کے منیجنگ ڈائریکٹر رضوان بٹ نے ادارے کے 30 سالہ شاندار سفر اور اسٹیٹ بینک آف پاکستان اور پاکستان سیکورٹی پرنٹنگ کارپوریشن کے ساتھ طویل شراکت داری کو اجاگر کیا۔ 1995 میں اپنے قیام سے بینک نوٹوں کیلئے سیکورٹی سیاہی فراہم کنندہ کی حیثیت سے SICPA نے اپنی صلاحیتوں میں نمایاں میں اضافہ کیا۔ 2007 میں برانڈ پروٹیکشن کے کاروبار کا قیام،2012میں بڑے پیمانے پر فسیلیٹی اپ گریڈیشن اور 2022 میں جدید QUAZAR® ٹیکنالوجی کا آغاز جیسے اقدامات SICPAکی صلاحیت کو نمایاں طور پر مضبوط بنا چکے ہیں جس کے ذریعے وہ مختلف صنعتوں میں 60 سے زائد معروف برانڈز کا تحفظ کر رہی ہے۔یہ سرمایہ کاری اس بات کا مظہر ہے کہ SICPA اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے اہداف خصوصا کیش آٹومیشن، تصدیق اور سیکیورٹی میں بہتری کے ساتھ خود کو مسلسل ہم آہنگ کر رہی ہے۔
اپنے اہم خطاب میں اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے گورنر جمیل احمد نے پاکستان میں 30سال کامیابی کے ساتھ مکمل کرنے پر SICPAکو مبارک باد دی اور پاکستانی بینک نوٹوں کی طباعت کیلئے معیاری سیکورٹی سیاہی کی فراہمی میں اس کے کردار کو سراہا۔انہوں نے اطمینان کا اظہار کیا کہ معیاری سیکورٹی سیاہی کی تیاری کے لیے SICPA اور پاکستان سیکیورٹی پرنٹنگ کارپوریشن کے درمیان شراکت داری دونوں اداروں کیلئے یکساں طور پرسود مند رہی۔ٹیکنالوجی ٹرانسفر اور مختلف اقسام کی سیکورٹی سیاہی کی مقامی سطح پر تیاری کو سراہتے ہوئے انہوں نے اس ضرورت پر زور دیا کہ خطے کے دیگر ممالک کو سیکیورٹی سیاہی اور متعلقہ مصنوعات کی برآمد کو یقینی بنانے کیلئے SICPA پاکستان کو ایک علاقائی ہب بنانے کے امکانات کا جائزہ لیا جائے۔انہوں نے SICPA کی تازہ ترین تکنیکی پیش رفت کو بھی سراہا اور پاکستان کے نئے بینک نوٹوں کی سیریز کی تیاری میں کمپنی کی جاری معاونت کا اعتراف کیا۔
ارنائو لارنس،منیجنگ ڈائریکٹر،کرنسی سروسز اینڈ سولیوشنز،SICPA،سوئٹزرلینڈ نے سیکورٹی پرنٹنگ اور برانڈ پروٹیکشن میں ایک قابل اعتماد ادارہ بننے پر SICPA پاکستان کے کردار کی تعریف کی ۔انہوں نے غیر معمولی کارکردگی اور معیاری خدمات کی فراہمی کیلئے منیجنگ ڈائریکٹر رضوان بٹ اور SICPA پاکستان کی پوری ٹیم کی انتھک محنت، لگن اور عزم کو سراہا جس نے نہ صرف پاکستان بلکہ خطے بھر میں کمپنی کی پوزیشن کو مضبوط بنایا۔ انہوں نے اس بات کا اعادہ کیا کہ SICPA نیکسٹ جنریشن ٹیکنالوجیز اور ڈیجیٹل حل میں اپنی سرمایہ کاری جاری رکھے گا۔ انہیں فخر ہے کہ کمپنی پاکستان کے مستقبل کے لیے ایک قابلِ اعتماد شراکت دار ہے اور وہ نئی بینک نوٹوں کی سیریز کے اجرا کے ساتھ ساتھ بڑھتی ہوئی برانڈ پروٹیکشن کی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے بھی پوری طرح تیار ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: اسٹیٹ بینک آف پاکستان برانڈ پروٹیکشن بینک نوٹوں کی اور پاکستان SICPA پاکستان پاکستان کے انہوں نے کے ساتھ
پڑھیں:
لاہور میں گینگ ریپ کی شکار 18 سالہ گھریلو ملازمہ اسقاطِ حمل کے دوران جاں بحق
لاہور ( اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 جون2026ء ) لاہور کے علاقے ماڈل ٹاؤن میں مبینہ زیادتی کا شکار ہونے والی 18 سالہ گھریلو ملازمہ اسقاطِ حمل کے دوران جان کی بازی ہار گئی۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق لاہور کے علاقہ ماڈل ٹاؤن کے ایک گھر میں ملازمہ کے طور پر کام کرنے والی 18 سالہ لڑکی مبینہ طور پر گینگ ریپ اور بعد ازاں غیر قانونی طبی طریقہ کار کے باعث زندگی کی بازی ہار گئی ہے، متوفیہ نے ہسپتال میں دم توڑنے سے قبل اپنے بیانات ریکارڈ کرادیئے۔ پولیس حکام کا کہنا ہے کہ لڑکی کا حمل ضائع کرنے کے لیے اسے پہلے رائے ونڈ کے ایک نجی کلینک لے جایا گیا، جہاں حالت بگڑنے پر اسے سروسز ہسپتال منتقل کیا گیا، وہ دو روز تک سروسز ہسپتال میں زیرِ علاج رہنے کے بعد دم توڑ گئی، متاثرہ لڑکی نے اپنے تحریری اور ویڈیو بیانات میں مکان مالک کے بیٹے اور ڈرائیور پر اجتماعی زیادتی کا سنگین الزام عائد کیا تھا، بعد میں مبینہ دباؤ کے تحت لڑکی نے اپنے بیان میں تبدیلی کی اور اپنے آخری بیان میں صرف ڈرائیور کو ہی نامزد کیا۔(جاری ہے)
پولیس نے بتایا کہ لڑکی کے ابتدائی بیانات کی روشنی میں گینگ ریپ کا مقدمہ درج کیا گیا تھا، تاہم اس کی موت کے بعد مقدمے میں باقاعدہ طور پر قتل کی دفعات بھی شامل کر دی گئی ہیں، ایک نامزد ملزم ڈرائیور کو گرفتار کرکے جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیج دیا گیا ہے، قتل کی دفعات شامل ہونے کے بعد کیس کی تفتیش جینڈر سیل سے تبدیل کرکے انویسٹی گیشن ونگ کے سپرد کر دی گئی ہے، پولیس نے گھر کے مالکان سمیت ان تمام افراد کو دوبارہ شاملِ تفتیش کرنے کے لیے نوٹسز جاری کر دیئے ہیں جنہیں پہلے کلیئر کر دیا گیا تھا۔ پولیس کا کہنا ہے کہ ضابطہ فوجداری کی دفعہ 164 کے تحت ریکارڈ کیے گئے بیانات کا دوبارہ باریک بینی سے جائزہ لیا جائے گا، متوفیہ کا پوسٹ مارٹم مکمل کر لیا گیا ہے اور موت کی اصل وجہ رپورٹ آنے کے بعد واضح ہوگی، اگر رائے ونڈ کے نجی کلینک کی جانب سے غفلت یا غیر قانونی طریقہ کار کے شواہد ملے تو اس کے خلاف بھی سخت قانونی کارروائی کی جائے گی۔