تمام زرعی ویلیو چینز میں سرمایہ کاری برآمدی استحکام کا باعث ہو گی، احسن اقبال
اشاعت کی تاریخ: 11th, December 2025 GMT
اسلام آباد :(نیوزڈیسک) پاکستان میں چائے کی کمرشلائزیشن کی اسٹریٹجی کا افتتاح کردیاگیا۔وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی، ترقی و خصوصی اقدامات پروفیسر احسن اقبال نے کہاہے کہ حکومت خام پیداوار سے ویلیو ایڈیڈ مصنوعات کی جانب منتقلی کو ملکی ترقی کا بنیادی ستون سمجھتی ہے۔
وفاقی وزیر احسن اقبال نے پاکستان میں چائے کی کمرشلائزیشن کی اسٹریٹجی کی افتتاحی تقریب سے بطور مہمانِ خصوصی خطاب کیا۔ تقریب میں ایف اے او، صوبائی حکومتوں کے نمائندگان، ماہرینِ زراعت اور متعلقہ اسٹیک ہولڈرز نے شرکت کی۔
اپنے خطاب میں وزیر منصوبہ بندی نے کہا کہ چائے کی مقامی پیداوار زرمبادلہ بچانے اور برآمدات بڑھانے میں کلیدی کردار ادا کرے گی۔ پاکستان چائے درآمد پر 650 ملین ڈالر خطیر ذرمبادلہ خرچ کررہا ہے ۔ پاکستان میں چھ لاکھ ہیکٹر سے زائد زمین چائے کی کاشت کے لیے موزوں ہے، اور بڑے فارمز اور زرعی کلسٹرز کے قیام سے چائے کی پیداوار میں خاطر خواہ اضافہ ممکن ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ پیداوار صرف آغاز ہے مکمل ویلیو چین کو فعال بنا کر پاکستان اربوں ڈالر کما سکتا ہے۔
احسن اقبال نے بتایا کہ اڑان پاکستان لائحہ عمل کے تحت 26 زرعی کلسٹرز کی نشاندہی کی گئی ہے جو زرعی مصنوعات کی ویلیو ایڈیڈ پروسیسنگ، نئی برآمدی مواقع اور جدید زرعی ماڈلز کی بنیاد رکھیں گے۔ حکومت خام پیداوار سے ویلیو ایڈیڈ مصنوعات کی جانب منتقلی کو ملکی ترقی کا بنیادی ستون سمجھتی ہے۔ ان کے مطابق چائے کی پروسیسنگ، پیکجنگ اور برانڈنگ کے مؤثر اقدامات کے ذریعے پاکستانی چائے عالمی مارکیٹ میں نمایاں مقام حاصل کرے گی۔
انہوں نے کہا کہ حکومت کی کوشش برآمدات بڑھانے اور درآمدات کم کرنے پر مرکوز ہے تاکہ ملک کو زرمبادلہ کے بحران سے بچایا جا سکے۔ جدید تکنیک اور تربیت یافتہ ماہرین زرعی شعبے میں حقیقی تبدیلی لائیں گے۔ اس مقصد کے لیے حکومت ایک ہزار ایگریکلچر سائنسدانوں اور محققین کو چین میں جدید تربیت کے لیے بھیج چکی ہے، جو جدید زرعی ٹیکنالوجیز کے ذریعے ملک میں زرعی انقلاب لانے میں اہم کردار ادا کریں گے۔
اپنے خطاب میں وزیر منصوبہ بندی نے مختلف زرعی ویلیو چینز پر بھی روشنی ڈالی۔ انہوں نے کہا کہ خام گلاب کی پتیوں سے مکمل ویلیو چین کے ذریعے اربوں روپے کی پیداوار ممکن ہے۔ پاکستان دنیا کا چوتھا بڑا کھجور پیدا کرنے والا ملک ہے، اور آم و کھجور سے عالمی معیار کی مصنوعات جیسے آم پاوڈر اور ڈیٹ پاؤڈر تیار کر کے برآمدات میں نمایاں اضافہ کیا جا سکتا ہے۔ وزیر نے یہ بھی بتایا کہ پاکستان کے زیتون کے تیل کا معیار سپین کے مشہور زیتون کے تیل سے بہتر اور عالمی معیار کے مطابق ہے، جو پاکستان کے لیے ایک نئی برآمدی راہداری ثابت ہو سکتا ہے۔
تقریب کے اختتام پر احسن اقبال نے زور دیا کہ چائے سمیت تمام زرعی ویلیو چینز میں سرمایہ کاری پاکستان کے لیے پائیدار ترقی، غذائی تحفظ اور برآمدی استحکام کا نیا دور ثابت ہو گی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: احسن اقبال نے نے کہا کہ چائے کی کے لیے
پڑھیں:
وزیراعلی سندھ مراد علی شاہ کا مون سون کے پیش نظر انتظامیہ کو الرٹ رہنے کا حکم
وزیراعلی مراد علی شاہ نے تمام ڈپٹی کمشنرز، ضلعی انتظامیہ، بلدیاتی اداروں، آبپاشی حکام، محکمہ صحت، امدادی اداروں اور مقامی حکومت کے اداروں کو مکمل طور پر چوکس رہنے، ہنگامی ردعمل کی ٹیموں کو تیار رکھنے، نکاسی آب کے نظام کو فعال رکھنے اور انسانی جانوں اور املاک کے تحفظ کے لیے تمام ضروری اقدامات کرنے کی ہدایت کی ہے۔ اسلام ٹائمز۔ سندھ کے وزیر اعلی سید مراد علی شاہ کی ہدایت پر صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) نے سندھ بھر کی ضلعی انتظامیہ کو ہائی الرٹ کر دیا ہے اور تمام متعلقہ محکموں کو احتیاطی اور ہنگامی ردعمل کے اقدامات کرنے کی ہدایت کی ہے، کیونکہ بحیرہ عرب سے آنے والے مون سون کے طاقتور ہوائی سلسلے صوبے کو متاثر کر رہے ہیں۔ پی ڈی ایم اے کی جانب سے جاری کردہ موسمیاتی ایڈوائزری کے مطابق، پاکستان محکمہ موسمیات (پی ایم ڈی) کی پیش گوئی کی بنیاد پر ملک میں داخل ہونے والے مون سون کے طاقتور ہوائی سلسلے، بالائی اور وسطی علاقوں کو متاثر کرنے والے مغربی موسمی نظام کے ساتھ مل کر، 23 جولائی سے 25 جولائی تک سندھ کے کئی اضلاع میں وسیع پیمانے پر بارش، گرج چمک اور بعض مقامات پر موسلا دھار بارش کا سبب بن سکتے ہیں۔
وزیراعلی مراد علی شاہ نے تمام ڈپٹی کمشنرز، ضلعی انتظامیہ، بلدیاتی اداروں، آبپاشی حکام، محکمہ صحت، امدادی اداروں اور مقامی حکومت کے اداروں کو مکمل طور پر چوکس رہنے، ہنگامی ردعمل کی ٹیموں کو تیار رکھنے، نکاسی آب کے نظام کو فعال رکھنے اور انسانی جانوں اور املاک کے تحفظ کے لیے تمام ضروری اقدامات کرنے کی ہدایت کی ہے۔ وزیر اعلی نے ڈویژنل کمشنرز اور بلدیاتی اداروں کو مزید ہدایت کی کہ وہ نشیبی علاقوں، شہری مراکز اور حساس مقامات کی کڑی نگرانی کریں، امدادی سامان اور آلات کی دستیابی یقینی بنائیں اور موسمیاتی پیش گوئی کی مدت کے دوران تمام محکموں کے درمیان بلاتعطل رابطہ برقرار رکھیں۔