data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

251211-01-24
اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) پاکستان میں امریکی ناظم الامور نیٹلی بیکر نے کہا ہے کہ ایگزم بینک دوطرفہ شراکت داری کے تحت بلوچستان میں ریکوڈک منصوبے پر 1.25 ارب ڈالر سرمایہ کاری کرے گا، جس کے نتیجے میں امریکا اور پاکستان میں ہزاروں افراد کو روزگار میسر ہوگا۔ اسلام آباد میں امریکی سفارتخانے کی جانب سے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر جاری وڈیو بیان میں امریکی ناظم الامور بیٹلی بیکر نے کہا کہ امریکی ایکسپورٹ امپورٹ بینک نے پاکستان میں ریکوڈک منصوبے میں کان کنی اور اہم معدنیات میں تعاون کے لیے حال ہی میں 1.

25 ارب ڈالر مالی سرمایے کی فراہمی کی منظوری دی ہے۔ انہوں نے کہا کہ آنے والے برسوں میں ایگزم بینک کے مالی تعاون کے منصوبے تحت ریکوڈک کان کی تعمیر اور انتظام کے لیے 2 ارب ڈالر کی اعلیٰ معیار کے امریکی معدنیات کے آلات اور درکار خدمات پاکستان کو فراہم کی جائیں گی۔ نیٹلی بیکر نے بتایا کہ اس منصوبے کے تحت ایک اندازے کے مطابق امریکا میں 6 ہزار اور بلوچستان پاکستان میں 7 ہزار 500 روزگار کے مواقع میسر ہوں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ ریکورڈک منصوبہ کان کنی کے لیے بطور ماڈل پروجیکٹ ہوگا جو امریکی ایکسپورٹرز کے ساتھ ساتھ پاکستان کی مقامی کمیونیٹیز اور شراکت داروں کو روزگار کے مواقع پیدا کرتے ہوئے دونوں ملکوں کی خوش حالی کے سود مند ثابت ہوگا۔ امریکی ناظم الامور نے کہا کہ ٹرمپ انتظامیہ نے ایسے ہی معاہدوں کو امریکی سفارت کاری کا بنیادی حصہ بنایا ہے اور ہم امریکی کمپنیوں اور پاکستان کے درمیان معدنیات کے شعبے میں مزید معاہدوں کے لیے پرعزم ہیں۔ امریکی سفارت خانے کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ ایگزم بینک کی جانب سے 1.25 ارب ڈالر کی نئی مالی معاونت کے تحت امریکا-پاکستان شراکت داری بلوچستان میں معاشی ترقی کو آگے بڑھائے گی۔

مانیٹرنگ ڈیسک سیف اللہ

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: پاکستان میں ارب ڈالر کے لیے نے کہا

پڑھیں:

امریکہ کا پاکستان سمیت 60 ممالک پر نئے ٹیرف عائد کرنے کا اعلان

نیویارک(نیوز ڈیسک)امریکہ نے “جبری مشقت سے متعلق خدشات کے پیش نظر” پاکستان، بھارت، چین اور یورپی یونین سمیت 60 تجارتی شراکت دار ممالک پر نئے ٹیرف عائد کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔

امریکی تجارتی نمائندے جیمیسن گریر کے مطابق ان برآمدی محصولات (ٹیرف) کی شرح 10 فیصد سے لے کر 12.5 فیصد تک ہوگی اور یہ جمعہ یعنی آج سے نافذ العمل ہوں گے۔

Today, Ambassador Greer is taking action, at President Trump’s direction, under Section 301 of the Trade Act of 1974 by imposing tariffs on 60 trading partners for their failure to adopt and effectively enforce a prohibition on the importation of goods produced with forced labor.…

— United States Trade Representative (@USTradeRep) July 23, 2026

انہوں نے کہا کہ امریکہ میں جبری مشقت کے خلاف قوانین طویل عرصے سے نافذ ہیں اور اب وقت آ گیا ہے کہ دیگر ممالک بھی اسی طرز کے اقدامات کریں۔

یہ نئے محصولات اس عالمی ڈیوٹی کی جگہ لیں گے جو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے رواں سال کے آغاز میں عائد کی گئی تھی اور جس کی مدت اب ختم ہو رہی ہے۔ امریکی سپریم کورٹ کی جانب سے فروری میں بعض ٹیرف مسترد کیے جانے کے بعد ٹرمپ انتظامیہ نے متبادل قانونی راستوں کے ذریعے نئے اقدامات متعارف کروائے ہیں۔

امریکہ کے تجارتی نمائندوں کے دفتر کی جانب سے جاری کیے گئے اعلامیے کے مطابق پاکستان، بھارت، بنگلہ دیش، برطانیہ، کینیڈا اور ملائیشیا سمیت کئی ممالک پر 10 فیصد ٹیرف عائد کیا جائے گا، جبکہ چین سمیت دیگر 38 ممالک پر 12.5 فیصد ڈیوٹی لاگو ہوگی۔

یورپی یونین، جاپان اور جنوبی کوریا جیسے ممالک کے لیے ٹیرف کی مجموعی شرح 10 سے 12.5 فیصد کے درمیان رکھی گئی ہے۔

دوسری جانب متاثرہ ممالک نے ان اقدامات پر شدید ردعمل ظاہر کیا ہے۔ جاپان اور آسٹریلیا نے ان ٹیرف کو غیر منصفانہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ آزاد تجارتی معاہدوں کے منافی ہیں۔

امریکی حکام کے مطابق اسٹیل اور ایلومینیم جیسے شعبہ جاتی ٹیرف پہلے سے نافذ ہیں اور ان پر نئے اقدامات کا اطلاق نہیں ہوگا، جبکہ توانائی اور کھاد سمیت بعض اشیا کو استثنا دیا گیا ہے۔

اسلام آباد نے بھی جبری مشقت سے متعلق تحقیقات پر امریکی حکام کو تفصیلی جوابات جمع کرائے ہیں، بلکہ حالیہ تجارتی مذاکرات سے ایک روز قبل بھی مزید وضاحتیں فراہم کی تھیں۔

مزید پڑھیں۔ایران اور عراق کے درمیان دوطرفہ تعاون بڑھانے کے لیے 4 معاہدے

متعلقہ مضامین

  • مشرقِ وسطیٰ کشیدگی کے اثرات، اسٹاک ایکسچینج میں 1,200 سے زائد پوائنٹس کی کمی
  • امریکہ کا پاکستان سمیت 60 ممالک پر نئے ٹیرف عائد کرنے کا اعلان
  • عالمی منڈی میں سونے کی قیمت میں کمی
  • سٹیٹ بینک کے زرمبادلہ ذخائر میں 3 کروڑ 30 لاکھ ڈالر کا اضافہ
  • عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں بے قابو، فی بیرل 100 ڈالر سے متجاوز
  • پاکستان کے لیے بڑی معاشی خوشخبری، عالمی ادارے نے کریڈٹ ریٹنگ 7 سال کی بلند ترین سطح پر قرار دیدی
  • وزیراعظم کا  آئی ٹی برآمدات 4.6 ارب ڈالر تک پہنچنے پر اطمینان کا اظہار
  • اسٹیٹ بینک کے زرمبادلہ ذخائر میں اضافہ، مرکزی بینک کے ذخائر 17.25 ارب ڈالر سے تجاوز کر گئے
  • سرکاری ملازمین کے سفری اور تفریقی الاؤنس میں اضافے کی منظوری، نئی شرحیں جاری
  • پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے