درست دماغ، سیاست ایسی نہیں ہوتی
اشاعت کی تاریخ: 12th, December 2025 GMT
ملک کی تاریخ میں پہلی بار بانی پی ٹی آئی کو ایک ایسا ذہنی مریض قرار دیا گیا ہے جس کا آئے دن جاری ہونے والا بیانیہ قومی سلامتی کے لیے خطرہ بن جاتا ہے۔ فوجی ترجمان کے مطابق وہ سمجھتا ہے کہ میں نہیں، توکچھ نہیں۔ اس کے نزدیک اس کی ذات اور خواہشات ریاست پاکستان سے بڑھ کر ہے اور وہ اپنے بیانات کے ذریعے فوج اور عوام کے درمیان دراڑ ڈالنے کی کوشش کر رہا ہے۔
سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ بانی کے اپنے بیانات کی وجہ سے ایک ایسا سخت موقف سامنے آیا جو ماضی میں کبھی کسی سیاسی جماعت کے رہنما کے خلاف نہیں اپنایا گیا۔ ایک اینکرکے سوال کے جواب میں فوجی ترجمان کا کہنا درست ہے کہ موجودہ فوجی قیادت کا ماضی کی فوجی قیادت کے اقدامات سے کوئی تعلق نہیں اور نہ وہ سیاست میں ملوث ہے مگر بعض عناصر فوج کو سیاست میں ملوث کرنا چاہتے ہیں مگر فوج ایسا نہیں کر سکتی، کیونکہ فوج کی مکمل توجہ سرحدی صورت حال کے باعث اپنے ملکی دفاعی معاملات پر مرکوز ہے مگر کسی کو یہ اجازت نہیں دے گی کہ کوئی عوام کو فوج کے خلاف بھڑکائے۔
وزیر اعظم کے مشیر رانا ثنا اللہ نے سینیٹ میں ایک بار پھر کہا ہے کہ حکومت پی ٹی آئی سے بات کرنے کو تیار ہے مگر وہ ہم سے بات کرنے کو تیار نہیں اور وہ جن سے بات کرنا چاہتے ہیں وہ راضی نہیں ہیں۔ رانا ثنا اللہ سمیت حکومتی رہنما واضح کرتے رہتے ہیں کہ حکومت نے پی ٹی آئی سے مذاکرات سے کبھی انکار نہیں کیا اور اسپیکر قومی اسمبلی کی سربراہی میں پی ٹی آئی سے مذاکرات کا آغاز ہوا بھی تھا جو بانی نے خود رکوا دیا تھا، کیونکہ بانی حکومت کی بجائے اسٹیبلشمنٹ سے بات کرنے کے بیانات دیتے رہے ہیں تو حکومت کیا کر سکتی ہے؟
پی ٹی آئی کے بانی جس طرح کے بیانات دیتے آ رہے ہیں اس کے برعکس بیرسٹر گوہر دعویٰ کر رہے ہیں کہ پی ٹی آئی کا بیانیہ کبھی ملک دشمن رہا اور نہ ہی ہوگا۔ پاکستان ہمارا، فوج بھی ہماری ہے سب کو ایک دوسرے کو تسلیم کرنے کی ضرورت ہے ۔ پی ٹی آئی کے جیل میں قید بانی نے بیرسٹر گوہر کو پی ٹی آئی کا چیئرمین بنا رکھا ہے جو پی ٹی آئی کی پالیسی بیان کر رہے ہیں۔
بانی کا بیانیہ ہمیشہ اس کے برعکس چلا آ رہا ہے اور ان کا نشانہ ریاستی ادارے ہیں مگر بانی باز نہیں آ رہے اور انھوں نے مسلسل عوام کوریاستی اداروں کے خلاف بھڑکانے کی پالیسی اپنا رکھی ہے۔ بانی کی منافقت یہ ہے کہ وہ سیاسی حکومت سے مذاکرات نہیں چاہتے ہیں اور ریاستی اداروں پر مسلسل تنقید انھوں نے اپنا وتیرہ بنا رکھا ہے۔
بانی اپنے دشمن بیانیوں سے باز نہیں آ رہے جس کی وجہ سے فوجی ترجمان کو انھیں ذہنی مریض قرار دینا پڑا جو درست ہے کیونکہ کوئی بھی صحیح الدماغ سیاسی رہنما ایسے بیانات نہیں دیتا اور نہ ہی درست دماغ رکھنے والے کسی سیاسی رہنما نے دیا ہے جیسے بیانات بانی پی ٹی آئی مسلسل دے رہے ہیں مگر پی ٹی آئی نے سرکاری طور پر کبھی ایسا متنازعہ بیان نہیں دیا اور بیرسٹر گوہر کا کہنا درست ہے مگر وہ اپنے بانی کو ایسے متنازعہ بیانات جاری کرنے سے روکنے کی جرأت بھی نہیں رکھتے اور نہ چیئرمین ہوتے ہوئے وہ پی ٹی آئی کے بیرون ملک سے آپریٹ کیے جانے والے سوشل میڈیا کے ملک دشمن اور مذموم گمراہ کن پروپیگنڈے کو روک سکے جو ان کے اختیار میں نہیں ہے، کیونکہ بانی خود یہ پروپیگنڈا کروا رہے ہیں تو کوئی بھی دوسرا سوشل میڈیا کو کیسے روک سکتا ہے؟
پاکستان میں نواز شریف کی تین اور بے نظیر کی دو حکومتیں ختم کی گئیں۔ دونوں کو جیلوں میں رکھا گیا، دونوں پر بے انتہا مظالم ہوئے، نواز شریف کی اپنی جاں مرگ شدید بیمار اہلیہ سے آخری گفتگو بانی نے نہیں ہونے دی تھی مگر بانی کو اپنی اہلیہ سے جیل میں ملوایا جاتا ہے اور بیرون ملک دونوں بیٹوں سے فون پر بات کرائی جاتی ہے۔
انھیں جیل میں من پسند خوراک کی سہولت حاصل ہے۔ وہ کئی بیرکوں پر مشتمل قید خانے میں ورزش بھی کرتے ہیں، ان کی بہنیں اور وکلا کی ملاقات ان کی جیل میں سیاست کا ذریعہ بنی ہوئی ہیں وہ پی ٹی آئی کے سوشل میڈیا کو اپنا مواد فراہم اور ریاستی اداروں کے خلاف مذموم مہم چلوا رہے ہیں۔ قید میں کسی عام قیدی کو تو کیا کسی بڑے سیاسی رہنما کو بھی وہ سہولتیں حاصل نہیں رہیں جو بانی کو حاصل ہیں۔
انھوں نے اپنے آئینی برطرف کیے جانے کو مختلف رنگ دیے، کبھی امریکا پر، کبھی ریاستی اداروںکو برطرفی کا ذمے دار ٹھہرایا۔ حصول اقتدار کی اندھی خواہش کے لیے 9 مئی جیسا سانحہ رونما کرایا جس کے ثبوت موجود ہیں جس پر وہ معافی مانگنے کو تیار نہیں ہیں۔
کوئی عقل مند سیاستدان کبھی اپنی پنجاب و کے پی کی حکومتوں ختم نہیں کراتا، مگر پارٹی کی مخالفت کے باوجود اسمبلیاں تڑوائیں اور اب اپنے وفادار وزیر اعلیٰ کے پی کو فارغ کیا جو ان کی رہائی کے لیے کوشاں تھا۔ کوئی بھی عقل مند سیاسی رہنما اپنی پارٹی کی بجائے کسی دوسری پارٹی کے واحد رکن کو اپوزیشن لیڈر کبھی نہیں بنائے گا مگر فارغ الدماغ اور ذہنی مریض نے ہر وہ کام کیا جو اب تک کسی سیاسی رہنما نے نہیں کیا۔ ہر عقل مند اور سیاسی شعور رکھنے والا سیاستدان اپنے معاملات بگاڑتا نہیں بہتر کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ کوئی بھی رہائی و ذاتی مفاد کے لیے نہیں کہہ سکتا کہ مجھے ہٹانے کی بجائے ملک پر ایٹم بم مار دیا جاتا۔ کیا کوئی ذی ہوش ایسا کر سکتا ہے؟
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: پی ٹی آئی کے سیاسی رہنما کوئی بھی رہے ہیں جیل میں کے خلاف سے بات اور نہ ہے اور ہے مگر
پڑھیں:
امام خمینی، فکر، قیادت اور انقلاب کا استعارہ
اسلام ٹائمز: یہ کہا جا سکتا ہے کہ امام خمینیؒ نے عالم اسلام میں ایک ایسی فکری اور سیاسی بیداری کو جنم دیا، جسکے اثرات آج بھی محسوس کیے جا سکتے ہیں۔ انہوں نے مسلمانوں کو اپنی شناخت، اپنی قوت اور اپنے مستقبل پر اعتماد کرنا سکھایا، وحدت اور بیداری کا پیغام دیا اور ظلم و استبداد کے مقابلے میں حق و عدالت کی آواز بلند کرنے کا حوصلہ عطا کیا۔ یہی وہ میراث ہے، جس نے انہیں بیسویں صدی کی مؤثر ترین اسلامی شخصیات کی صف اول میں لا کھڑا کیا اور جسکی بازگشت آج بھی عالم اسلام کے مختلف گوشوں میں سنائی دیتی ہے۔ تحریر: مجتبیٰ شجاعی
بیسویں صدی کی تاریخ میں ایسی عظیم اور غیر معمولی شخصیات نے جنم لیا، جنہوں نے اپنے افکار، کردار اور جدوجہد کے ذریعے دنیا کی سیاسی، سماجی اور فکری سمتوں کا رُخ موڑ دیا اور زمانے کی تقدیر بدل دی۔ حضرت امام خمینیؒ انہی نابغۂ روزگار اور درخشاں شخصیات میں شمار ہوتے ہیں، جنہوں نے نہ صرف ایران کی سیاسی تاریخ کو ایک نیا رخ عطا کیا، بلکہ پورے عالم اسلام کی فکری، ثقافتی اور سیاسی زندگی پر گہرے اور دیرپا اثرات مرتب کیے۔ ان کی قیادت میں برپا ہونے والا اسلامی انقلاب محض ایک سیاسی تبدیلی نہ تھا بلکہ ایک ایسی فکری اور تہذیبی تحریک تھی، جس نے عالم اسلام میں دین، سیاست، آزادی، بیداری اور اجتماعی شعور کے بارے میں نئی بحثوں کو جنم دیا۔
بانی انقلاب اسلامی حضرت امام خمینیؒ نے جب اپنی تحریک کا آغاز کیا، اس وقت عالم اسلام کا بیشتر حصہ سیاسی استبداد، بیرونی طاقتوں کے اثر و نفوذ، معاشی پسماندگی اور تہذیبی بحران کا شکار تھا۔ نوآبادیاتی دور کے اثرات ابھی تک مسلم معاشروں پر نمایاں تھے اور بہت سی اقوام اپنی تاریخی شناخت اور فکری خود اعتمادی سے محروم دکھائی دیتی تھیں۔ ایسے ماحول میں اسلامی انقلاب کی کامیابی نے مسلم دنیا کو یہ پیغام دیا کہ اسلام صرف عبادات اور انفرادی زندگی تک محدود مذہب نہیں، بلکہ ایک زندہ اور متحرک نظام حیات ہے، جو معاشرے کی تنظیم، ریاست کی تشکیل اور اجتماعی مسائل کے حل کی صلاحیت بھی رکھتا ہے۔
انقلاب اسلامی کی کامیابی کا سب سے بڑا اثر یہ تھا کہ اس نے مسلمانوں میں خود اعتمادی اور خود شناسی کے ایک نئے احساس کو جنم دیا۔ ایک طویل عرصے تک یہ تصور عام رہا تھا کہ ترقی اور جدیدیت کا راستہ صرف مغربی نمونوں کی تقلید سے ہو کر گزرتا ہے، لیکن امام خمینیؒ نے اس نظریئے کو عملاً چیلنج کیا۔ انہوں نے امت مسلمہ کو اپنی تہذیبی میراث، دینی اقدار اور داخلی صلاحیتوں پر اعتماد کرنے کی دعوت دی۔ ان کا پیغام یہ تھا کہ مسلمان اگر اپنی فکری بنیادوں سے وابستہ رہیں تو وہ نہ صرف اپنی آزادی اور وقار کا تحفظ کرسکتے ہیں بلکہ ترقی اور استحکام کی نئی منازل بھی طے کرسکتے ہیں۔
اسی فکری بیداری کے ساتھ امام خمینیؒ نے وحدت اسلامی کے تصور کو بھی غیر معمولی اہمیت دی۔ ان کے نزدیک عالم اسلام کو درپیش اکثر مسائل کی جڑ باہمی انتشار اور فرقہ وارانہ تقسیم تھی۔ وہ اس بات پر زور دیتے تھے کہ فقہی اور مسلکی اختلافات کو دشمنی کا سبب بنانے کے بجائے مسلمانوں کو اپنے مشترکہ عقائد، مشترکہ تاریخ اور مشترکہ مقاصد پر توجہ مرکوز کرنی چاہیئے۔ اسی سوچ کے تحت انہوں نے اسلامی وحدت کو اپنی سیاسی اور فکری جدوجہد کا بنیادی ستون قرار دیا اور امت مسلمہ کو ایک وسیع تر اسلامی اخوت کے تصور سے روشناس کرایا۔
وحدت اسلامی کے اس تصور کے ساتھ ساتھ امام خمینیؒ نے مظلوم اقوام کی حمایت کو بھی اپنی فکر کا اہم حصہ بنایا۔ ان کے نزدیک ظلم خواہ کسی بھی شکل میں ہو اور مظلوم کسی بھی خطے، مذہب یا مسلک سے تعلق رکھتا ہو، اس کی حمایت اور مدد ایک انسانی اور اسلامی فریضہ ہے۔ یہی وجہ ہے کہ فلسطین کا مسئلہ ان کی فکر میں مرکزی حیثیت اختیار کر گیا۔ انہوں نے فلسطینی عوام کی جدوجہد کو صرف ایک قومی مسئلہ نہیں بلکہ پورے عالم اسلام کا مشترکہ مسئلہ قرار دیا۔ "یومِ القدس" کا اعلان دراصل اسی سوچ کا مظہر تھا، جس کے ذریعے انہوں نے مسئلہ فلسطین کو عالمی سطح پر اجاگر کرنے کی کوشش کی۔
امام راحل حضرت امام خمینیؒ کی قیادت اور انقلاب اسلامی کے تجربے نے دنیا بھر کی اسلامی تحریکوں کو بھی متاثر کیا۔ مختلف ممالک میں سرگرم دینی اور سیاسی حلقوں نے انقلاب اسلامی کو ایک ایسی مثال کے طور پر دیکھا، جس نے عوامی طاقت، مذہبی قیادت اور سیاسی عزم کے امتزاج سے ایک مضبوط نظام کو شکست دی۔ اگرچہ ہر ملک کے حالات اور تقاضے مختلف تھے، تاہم انقلاب اسلامی نے یہ احساس ضرور پیدا کیا کہ عوامی شعور اور نظریاتی استقامت کے ذریعے بڑی سیاسی تبدیلیاں ممکن ہیں۔
فکری سطح پر حضرت امام خمینیؒ کا ایک اہم کارنامہ دین اور سیاست کے تعلق کو ازسرنو موضوعِ بحث بنانا تھا۔ جدید دور میں یہ تصور بڑی حد تک رائج ہوچکا تھا کہ مذہب کو صرف انفرادی اور روحانی معاملات تک محدود رہنا چاہیئے، لیکن امام خمینیؒ نے اسلام کی جامعیت پر زور دیتے ہوئے یہ مؤقف اختیار کیا کہ دین انسانی زندگی کے تمام شعبوں کے لیے رہنمائی فراہم کرتا ہے۔ ان کے اس نظریئے نے مسلم دنیا میں حکومت اسلامی، عوامی شرکت، دینی قیادت اور ریاست کے اسلامی تشخص کے بارے میں وسیع علمی مباحث کو جنم دیا۔
سیاسی میدان میں امام خمینیؒ کی فکر کا ایک نمایاں پہلو استعمار اور عالمی بالادستی کے خلاف مزاحمت تھا۔ وہ سمجھتے تھے کہ سیاسی آزادی اسی وقت معنی خیز ہوسکتی ہے، جب اس کے ساتھ فکری، ثقافتی اور معاشی آزادی بھی موجود ہو۔ ان کے نزدیک کسی بھی قوم کی عزت اور خود مختاری کا انحصار اس بات پر ہے کہ وہ اپنی داخلی صلاحیتوں پر اعتماد کرے اور بیرونی طاقتوں کے تسلط سے آزاد رہے۔ یہی وجہ ہے کہ ان کا استقلال اور خود انحصاری کا پیغام دنیا کے مختلف مسلم معاشروں میں وسیع پذیرائی حاصل کرنے میں کامیاب ہوا۔
ثقافتی اعتبار سے بھی امام خمینیؒ نے مسلم معاشروں میں اسلامی شناخت کے احیاء میں نمایاں کردار ادا کیا۔ انہوں نے بارہا اس بات کی نشاندہی کی کہ تہذیبی خود فراموشی اور فکری مرعوبیت کسی بھی قوم کو اس کی اصل طاقت سے محروم کر دیتی ہے۔ اس لیے وہ اسلامی اقدار، دینی تعلیمات اور تہذیبی ورثے کی حفاظت کو ترقی اور بیداری کے لیے ناگزیر قرار دیتے تھے۔ ان کے یہ افکار خصوصاً نوجوان نسل میں ایک نئے فکری رجحان کا باعث بنے اور انہیں اپنی تہذیبی شناخت پر فخر کرنے کا حوصلہ ملا۔
بانی انقلاب کی شخصیت صرف ایک سیاسی رہبر تک محدود نہیں تھی بلکہ وہ ایک ممتاز فقیہ، عارف، فلسفی اور مفکر بھی تھے۔ ان کی علمی اور فکری کاوشوں نے انہیں عالم اسلام کے دانشور طبقے میں ایک منفرد مقام عطا کیا۔ ان کی فقہی، عرفانی اور سیاسی تصانیف مختلف زبانوں میں ترجمہ ہوئیں اور دنیا بھر کے علمی مراکز میں ان پر تحقیق کا سلسلہ جاری رہا۔ اس طرح ان کے افکار محض سیاسی حلقوں تک محدود نہیں رہے، بلکہ علمی اور فکری دنیا میں بھی وسیع اثرات کے حامل ثابت ہوئے۔
4 جون 1989ء میں حضرت امام خمینیؒ کی رحلت نے پورے عالم اسلام کو سوگوار کر دیا۔ ان کے جنازے میں لاکھوں انسانوں کی شرکت اس حقیقت کا واضح ثبوت تھی کہ امام خمینیؒ کسی مخصوص طبقہ، کسی مخصوص مسلک یا صرف ایک ملک کے رہنما نہیں بلکہ ایک بین الاقوامی اسلامی شخصیت کی حیثیت اختیار کرچکے تھے۔ آج ان کی رحلت کے کئی عشروں بعد بھی ان کے افکار، نظریات اور سیاسی تصورات عالم اسلام کی فکری اور سیاسی زندگی میں زندہ ہیں۔ استقلال، وحدت اسلامی، دفاع مظلوم، عوامی شرکت اور اسلامی تشخص جیسے موضوعات اب بھی مسلم دنیا کے اہم مباحث میں شامل ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ معاصر عالم اسلام کی سیاسی و فکری تاریخ کا مطالعہ امام خمینیؒ کے کردار اور اثرات کے جائزے کے بغیر نامکمل تصور کیا جاتا ہے۔
مختصراً یہ کہا جا سکتا ہے کہ امام خمینیؒ نے عالم اسلام میں ایک ایسی فکری اور سیاسی بیداری کو جنم دیا، جس کے اثرات آج بھی محسوس کیے جا سکتے ہیں۔ انہوں نے مسلمانوں کو اپنی شناخت، اپنی قوت اور اپنے مستقبل پر اعتماد کرنا سکھایا، وحدت اور بیداری کا پیغام دیا اور ظلم و استبداد کے مقابلے میں حق و عدالت کی آواز بلند کرنے کا حوصلہ عطا کیا۔ یہی وہ میراث ہے، جس نے انہیں بیسویں صدی کی مؤثر ترین اسلامی شخصیات کی صف اول میں لا کھڑا کیا اور جس کی بازگشت آج بھی عالم اسلام کے مختلف گوشوں میں سنائی دیتی ہے۔ (مضمون نگار صحافی اور ریسرچ اسکالر ہیں)