Jasarat News:
2026-06-03@05:42:33 GMT

ٹکراؤ کی سیاست کے مضمرات

اشاعت کی تاریخ: 11th, December 2025 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

251211-03-2
پاکستان کی سیاست بنیادی طور پر ایک بند گلی کی جانب گامزن ہے۔ لگتا یہ ہے کہ سیاسی اور غیر سیاسی فریقین مقابلہ بازی اور ایک دوسرے پر سبقت لے جانے میں تمام آئینی اور قانونی یا سیاسی حدود کو پار کرنا چاہتے ہیں۔ ڈی جی آئی ایس پی آر کی پریس کانفرنس کے بعد سیاسی محاذ آرائی اور ٹکراؤ کا منظر قومی سیاست میں غالب ہو چکا ہے۔ اس پریس کانفرنس کے ساتھ اسٹیبلشمنٹ اور وفاقی حکومت نے پی ٹی آئی اور عمران خان کو واضح طور پر پیغام دے دیا ہے کہ ان سے کسی بھی صورت میں کسی بھی طرز کی مفاہمت نہیں ہو سکتی۔ عمران خان کو سیکورٹی تھریٹ قرار دینے کا مطلب ہی یہ ہے کہ اس وقت ریاست اور حکومت ان کے سیاسی کردار کو تسلیم کرنے کے لیے تیار نہیں۔ ایک طرف خیبر پختون خوا میں گورنر راج کی باتیں کی جا رہی ہیں تو دوسری طرف پی ٹی آئی پر پابندی لگانے کی بازگشت بھی سنائی دے رہی ہے۔ پی ٹی آئی کے موجودہ ارکان اسمبلی کو واضح طور پر پیغام دیا گیا ہے کہ وہ بانی سے علٰیحدگی اختیار کر لیں اور اگر وہ ایسا نہیں کرتے تو عمران خان، پی ٹی آئی اور ان کے ارکان پارلیمنٹ کو سخت اقدامات کا سامنا کرنا پڑے گا۔ پاکستان کی سیاست میں مائنس ون فارمولا پہلی بار سامنے نہیں آیا۔ اس سے پہلے یہی فارمولا بے نظیر بھٹو اور نواز شریف کے خلاف بھی سامنے آیا تھا مگر ناکامی سے دوچار ہوا تھا۔ اب عمران خان کو مائنس کرنے کا فارمولا بھی اتنا آسان نہیں ہے جتنا سمجھا جا رہا ہے کیونکہ پاکستان کی سیاست عملی طور پر مضبوط اور قدآور سیاسی شخصیات کے گرد گھومتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ان سیاسی جماعتوں میں شامل افراد ان شخصیات کے مفادات کے ساتھ ہی اپنی سیاست کرتے ہیں۔ اس لیے جو لوگ یہ سمجھ رہے ہیں کہ بانی پی ٹی آئی کو مائنس کر کے معاملات آسانی سے حل ہو جائیں گے ایسا ممکن نہیں ہے۔ پچھلے تین برسوں کی سیاست میں عمران خان یا پی ٹی آئی کو کمزور کرنے یا ختم کرنے کی جو بھی حکمت عملی اسٹیبلشمنٹ یا حکومت نے اختیار کی اُسے ناکامی کا سامنا کرنا پڑا۔ عمران خان اس وقت جیل میں ہیں اور ان کی ملاقاتوں پر بھی عملاً پابندی ہے، یہ کہنا درست ہوگا کہ بانی پی ٹی آئی اس وقت قید تنہائی میں ہے۔ لیکن اس کے باوجود وہ قومی سیاست میں ایک بڑے دائرے کے طور پر موجود ہیں اور ان کے حامی اور مخالفین ان ہی کی بنیاد پر اپنی اپنی سیاست کر رہے ہیں۔ اسی طرح عمران خان کو سیکورٹی تھریٹ قرار دینا بھی کوئی نیا کام نہیں ہے اس سے پہلے ہم بھی کئی سیاستدانوں کو سیکورٹی تھریٹ قرار دے چکے ہیں۔ لیکن جیسے ہی حالات بدلتے ہیں تو کل کے زیرو آج کے ہیرو اور آج کے ہیرو کل کے زیرو بن جاتے ہیں۔ عمران خان سے سیاسی حکمت عملی کے بجائے طاقت کی بنیاد پر نمٹنے کی کوشش نے قومی سیاست کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔ کیونکہ طاقت کی حکمت عملی ہمیشہ سے ملک میں نئے سے نئے انتشار کو پیدا کرنے کا سبب بنتی ہے۔ لیکن شاید ہم میں سے کوئی بھی ماضی کی غلطیوں سے سیکھنے کے لیے تیار نہیں ہے۔ ہمیں قومی سیاست میں جذباتیت کے بجائے ہوش مندی سے کام لینے کی ضرورت ہے، کیونکہ اس وقت ہم جن داخلی، خارجی یا علاقائی مسائل سے دوچار ہیں اس میں ٹکراؤ کی سیاست کسی بھی سطح پر قوم کے مفادات میں نہیں۔ ہم یہ بھول جاتے ہیں کہ ماضی میں سیاسی جماعتوں پر پابندی یا مائنس ون فارمولے کی بنیاد پر قومی سیاست مستحکم ہونے کے بجائے غیر مستحکم ہوئی ہے اور اس نے قوم کو مختلف امور میں شدید نقصان پہنچایا ہے۔ اس لیے آج قومی سیاست میں جو سیاسی تلخیاں پیدا ہو رہی ہیں سیاسی اختلافات کی جگہ سیاسی دشمنی نے لے لی ہے یہ امر قومی سیاست کی خدمت نہیں۔ اصولی طور پر پاکستان جن چیلنجز سے گزر رہا ہے اس میں ٹکراؤ کے بجائے مفاہمت کی سیاست کی ضرورت ہے۔ سیاسی جماعتوں کو اس بات کا احساس کرنا ہوگا کہ ان کا موجودہ طرزِ عمل ہمیں اور زیادہ سیاسی تنہائی میں مبتلا کر رہا ہے۔ ہمیں اس بات کی فکر کرنی ہوگی کہ جو ہمارے قومی مسائل ہیں ان سے کیسے نمٹا جائے اور کیسے حالات کو خرابی سے بچایا جائے۔ لیکن عملاً کہ پورا ریاستی اور حکومتی نظام ایک فرد یا ایک جماعت کے پیچھے پڑ گیا ہے اور اسے ہی پورے نظام کے خرابیوں کا ذمے دار سمجھا جا رہا ہے۔ حالانکہ جو حالات خراب ہیں وہ کسی ایک سیاسی جماعت یا فرد کی وجہ سے نہیں بلکہ ان حالات کو پیدا کرنے میں سب نے اپنا اپنا حصہ ڈالا ہے اور سب اس جرم میں برابر کے شریک ہیں۔ اصل میں جب ریاست اور حکومت کا نظام سیاسی مسائل کو منفی سوچ یا سیاسی تاثر کی بنیاد پر دیکھے گا تو اس کا نتیجہ بھی منفی صورت میں سامنے آتا ہے۔ یہ بات پہلے بھی عرض کی تھی کہ خیبر پختون خوا میں موجود مسائل کا حل کسی بھی صورت میں گورنر راج کی صورت میں نہیں ہو سکتا۔ کیونکہ گورنر راج لگانے سے صوبے میں اس کا شدید رد عمل آئے گا اور اس کا نتیجہ دہشت گردی کے خلاف جاری جنگ میں مزید نقصان کی صورت میں نکل سکتا ہے۔ ڈی جی آئی ایس پی آر کی پریس کانفرنس کے بعد جس طرح سے وفاقی حکومت کے وزراء پی ٹی آئی پر چڑھائی کر رہے ہیں اور مسلسل ان کو دھمکیاں دی جا رہی ہیں اس سے سیاسی ماحول میں اور زیادہ کشیدگی پیدا ہو رہی ہے جو سیاست اور جمہوریت کے خلاف بھی ہو سکتی ہے۔ اگرچہ سیاسی جماعتوں میں ایسے لوگ موجود ہیں جو چاہتے ہیں کہ ٹکراؤ کے بجائے مفاہمت کے ساتھ آگے بڑھا جائے مگر ان کی کوئی شنوائی نہیں ہو رہی اور نہ ہی ان کو کوئی اہمیت دی جارہی ہے۔ ہمارے ریاستی ادارے اور حکومت میں شامل افراد کو یہ اندازہ ہی نہیں ہے کہ ہم اس وقت کہاں کھڑے ہیں۔ پاکستان کا داخلی مقدمہ ہی نہیں بلکہ خارجی مقدمہ بھی کمزور ہو رہا ہے۔ دنیا ہم پر مختلف نوعیت کے سوالات اُٹھا رہی ہے اور ہمارے پاس ان سوالوں کا کوئی جواب نہیں ہے۔ ایک ایسے موقع پر جب بھارت اور افغانستان کے ساتھ ہمارے تعلقات بگاڑ کا شکار ہیں اور ہمیں دہشت گردی کا سامنا ہے۔ اس لیے یہ ڈر اور خوف موجود ہے کہ اگر حالات درست نہ ہوئے اور قومی سیاست میں ٹکراؤ جاری رہا تو ہمیں مزید سیکورٹی کے بحران یا دہشت گردی کا سامنا کرنا پڑے گا۔ اس لیے اس موقع پر بہتر ہوگا کہ پاکستان کے فیصلہ ساز ادارے اور حکومت جذباتیت کے بجائے دانش کے ساتھ سیاسی فیصلوں کو آگے بڑھائیں۔ کیونکہ ہر مسائل کا حل طاقت میں دیکھنے کا نظریہ درست نہیں اور ہمیں سیاسی مسائل کا حل سیاسی بنیادوں پر تلاش کرنا ہوگا۔ اس وقت ریاست اور حکومت کی پالیسیاں عمران خان اور پی ٹی آئی کو مقبولیت کی طرف دھکیل رہی ہیں اور نقصان پی ٹی آئی سے زیادہ خود ریاست اور حکومت کے اداروں کا ہو رہا ہے۔ لیکن سوال یہی ہے کہ اس موجودہ صورتحال میں بلی کے گلے میں گھنٹی کون باندھے کیونکہ جب خود ریاست اور حکومت لنگوٹ باندھ کر یا بندوق اٹھا کر میدان میں کود پڑی ہے تو اس میں سوائے ٹکراؤ کی سیاست کے اور کچھ نہیں بچتا۔ اس لیے پی ٹی آئی پر الزام لگا کر محض ہم اپنا دامن نہیں بچا سکیں گے اور ہمیں یہ تسلیم کرنا ہوگا کہ ہم خود بھی داخلی سطح پر کئی طرح کی ناکامیوں سے دوچار ہیں۔ اب بھی وقت ہے کہ حکومت اپنی پالیسیوں پر نظر ثانی کرے اور پہلے سے موجود ملک میں سیاسی تقسیم کو اور زیادہ گہرا نہ کرے کہ اس طرز کی سیاسی تقسیم کی بنیاد پر ہم قومی مسائل کا حل تلاش نہیں کر سکیں گے۔

سیف اللہ.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: ریاست اور حکومت قومی سیاست میں سیاسی جماعتوں عمران خان کو مسائل کا حل کی بنیاد پر پی ٹی ا ئی کی سیاست کا سامنا کے بجائے ہوگا کہ نہیں ہے ہیں اور رہی ہیں کسی بھی کے ساتھ رہی ہے ہے اور اس لیے رہا ہے

پڑھیں:

‏‏سہیل آفریدی ان سے کہیں کہ پہلے عمران خان سے ملاقات کرواو اور پھر آپ بجٹ پاس کرو

راولپنڈی ( اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 جون2026ء ) ‏علیمہ خان کا سہیل آفریدی کو مشورہ، کہا سہیل آفریدی ان سے کہیں کہ پہلے عمران خان سے ملاقات کرواو اور پھر آپ بجٹ پاس کرو۔ تفصیلات کے مطابق پاکستان تحریک انصاف کے بانی عمران خان کی ہمشیرہ علیمہ خان کا کہنا ہے کہ جب بھی حکومت کو لگتا ہے عوام کا غصہ اور ٹمپریچر بڑھ رہا ہے، تو یہ خود کو بچانے کیلئے ڈیل کی باتیں اور افواہیں پھیلانا شروع کر دیتے ہیں، حقیقت میں کوئی ڈیل نہیں ہو رہی۔

میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ میڈیا ہم سے سوال کرنے کے بجائے حکومت سے جواب طلب کرے کہ عمران خان کو گزشتہ 7 ماہ سے غیر قانونی قیدِ تنہائی میں کیوں رکھا گیا ہے؟ صحافی وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی سے جا کر اس قیدِ تنہائی کی وجہ پوچھیں، ہمارا خاندان کسی قسم کا سیاسی این آر او یا ریلیف نہیں مانگ رہا، قیدِ تنہائی کا خاتمہ عمران خان کا بنیادی اور قانونی حق ہے۔

(جاری ہے)

علیمہ خان نے الزام لگایا کہ گزشتہ 8 مہینوں سے عمران خان کو ذہنی و جسمانی ٹارچر کا نشانہ بنایا جا رہا ہے، ملک میں کوئی قانون نہیں چل رہا، اگر حکومت ہمیں جیل میں ڈالنا چاہتی ہے تو شوق سے ڈال دے، لیکن عمران خان کی آنکھوں کے علاج اور معائنے کے لیے انہیں فوری طور پر شفا انٹرنیشنل ہسپتال منتقل کیا جائے اور وہاں کے ماہر ڈاکٹرز سے ان کا طبی معائنہ کروایا جائے۔

انہوں نے سوال اٹھایا کہ سابق آرمی چیف کیوں عمران خان سے ملنے جائیں گے؟ وہ تو عمران خان کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر دیکھ ہی نہیں سکتے، پارٹی چیئرمین بیرسٹر گوہر نے بھی واضح کر دیا ہے کہ یہ تمام باتیں بالکل جھوٹ ہیں، جب بھی حکومت کو لگتا ہے کہ عوام کا غصہ اور ٹمپریچر بڑھ رہا ہے، تو یہ خود کو بچانے کے لیے ڈیل کی باتیں اور افواہیں پھیلانا شروع کر دیتے ہیں، جبکہ حقیقت میں کوئی ڈیل نہیں ہو رہی۔

عمران خان کی ہمشیرہ نے کہا کہ جب آپ لوگوں کے ووٹ چوری کریں گے اور عوام سمجھ جائیں گے کہ ان کے ووٹ کی کوئی حیثیت نہیں رہی، تو پھر ان کا شدید ردعمل آئے گا، حکومت کبھی لاٹھی سے تو کبھی گولی سے عوام کو مارتی ہے، ووٹ چوری سے پی ٹی آئی کا نہیں بلکہ اس عام شہری کا حق مارا جاتا ہے جس کا وہ ووٹ ہوتا ہے، گلگت بلتستان میں بھی وہی کچھ دہرایا جا رہا ہے جو عام انتخابات 2024ء میں کیا گیا تھا، وہاں پی ٹی آئی کو انتخابی مہم تک چلانے کی اجازت نہیں دی جا رہی، یاد رکھیں ظلم ہمیشہ وہی کرتا ہے جو اندر سے خود شدید خوفزدہ ہوتا ہے۔

علیمہ خان نے کہا کہ ہم پی ٹی آئی کی قیادت سے درخواست کرتے ہیں کہ وہ ہمارے ساتھ آ کر یہاں بیٹھیں، جب قیادت آئے گی تو تمام ایم این ایز، ایم پی ایز، سینیٹرز اور تنظیم کے سینئر رہنما یہاں موجود ہوں گے، اگر پی ٹی آئی کی موجودہ قیادت اس فائنل کال پر بھی باہر نہیں نکلتی، تو پھر میڈیا اور عوام کا حق ہے کہ وہ ان رہنماؤں سے سوال کریں کہ وہ اپنے عظیم لیڈر کے لیے باہر کیوں نہیں آ رہے۔

متعلقہ مضامین

  • بھارت میں ’کاکروچ جنتا پارٹی‘ کیا ہے اور یہ بھارتی حکومت کے لیے دردِ سر کیوں بن گئی ہے؟
  • سرمایہ کاری نہیں قرضے ترجیح کب تک
  • جنگ امن اور معیشت کی کہانی
  • سہیل آفریدی کا 10 جون کو قومی اسمبلی کے سامنے دھرنا دینے اور بجٹ کی منظوری روکنے کا اعلان
  • وفاقی بجٹ کب پیش کیا جائےگا، وفاقی وزیر طارق فضل چوہدری نے بتا دیا
  • کوہستان اسکینڈل منظر عام پر لانے والے صحافی کو اعزاز سے نواز دیا گیا
  • بلوچستان کے نام پر علیحدگی پسند سیاست کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی، جمال رئیسانی
  • ‏‏سہیل آفریدی ان سے کہیں کہ پہلے عمران خان سے ملاقات کرواو اور پھر آپ بجٹ پاس کرو
  • وزیر ریلوے کی اطالوی قومی دن کے موقع پر اٹلی کی حکومت اور عوام کو مبارکباد
  • قید تنہائی میں رکھا ہوا ہے، یہ عمران خان کی آنکھ میں آنکھ ڈال کر دیکھ بھی نہیں سکتے، علیمہ خان