حکومت نیب کے ذریعے کسی سیاسی انتقام، کارروائی پر یقین نہیں رکھتی، وزیراعظم
اشاعت کی تاریخ: 9th, December 2025 GMT
حکومت نیب کے ذریعے کسی سیاسی انتقام، کارروائی پر یقین نہیں رکھتی، وزیراعظم WhatsAppFacebookTwitter 0 9 December, 2025 سب نیوز
اسلام آباد(سب نیوز)وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ وفاقی حکومت نیب کے ذریعے کسی بھی قسم کے سیاسی انتقام اور کارروائیوں پر یقین نہیں رکھتی۔عالمی انسداد بدعنوانی دن کے حوالے سے تقریب وزیراعظم ہاوس اسلام آباد میں منعقد ہوئی، وزیراعظم محمد شہباز شریف نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے نیب کی غیر معمولی کارکردگی پر ادارے کے افسران اور قیادت کی تحسین کی۔
شہباز شریف نے کہا کہ وفاقی حکومت کے لئے مالی، انتظامی اور ادارہ جاتی شفافیت اولین ترجیحات میں شامل ہے۔وزیراعظم نے کہا کہ عالمی انسداد بدعنوانی دن کے حوالے سے یہ دن دنیا کو یہ موقع فراہم کرتا ہے کہ بدعنوانی کے مضر معاشرتی اثرات کی حوصلہ شکنی اور بدعنوانی سے پاک معاشرہ تشکیل دینے کے اپنے عزم کی تجدید کریں۔شہباز شریف کا کہنا تھا کہ مالی بدعنوانی کے خلاف ٹھوس اقدامات اٹھانا حکومت کی ترجیحات میں شامل ہے، اس ضمن میں قومی احتساب بیورو (نیب)اور تمام متعلقہ ادارے بھرپور طریقے سے اور بڑی تندہی سے کارروائی کر رہے ہیں تاکہ ہر سطح پر جوابدہی کو یقینی بنایا جا سکے۔
وزیراعظم نے نیب کی کارروائیوں کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ منظم مالی جرائم کے باعث اپنی رقوم سے محروم ہونے والے شہریوں کی بروقت داد رسی سے نیب پر عوام کا اعتماد مزید مستحکم ہوا ہے۔تقریب سے چیئرمین نیب لیفٹیننٹ جنرل (ر)نذیر احمد نے بھی خطاب کیا اور نیب کی حالیہ چند سالوں اور بالخصوص اس سال میں کارکردگی پر وزیراعظم اور حاضرین کو بریفنگ دی۔چیئرمین نیب نے کہا کہ تمام متعلقہ ریاستی اداروں کے ساتھ باہمی اور موثر تعاون سے نیب نے 2025 میں 5.
لیفٹیننٹ جنرل (ر)نذیر احمد نے کہا کہ 2022 کے بعد سے قومی احتساب بیورو میں اصلاحاتی اقدامات ہنگامی بنیادوں پر اٹھائے گئے ہیں جس سے قومی احتساب بیورو کی کارکردگی میں خاطر خواہ بہتری دیکھی جا سکتی ہے۔چیئرمین نیب نے کہا کہ انسداد بدعنوانی کاعالمی دن وزیراعظم ہاوس میں منعقد ہونا اس بات کا عکاس ہے کہ احتساب اور جوابدہی حکومت کے لیے نہایت اہمیت کے حامل ہیں۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرپاکستان کے داخلی معاملات میں شورش، نظام کو پیچھے دھکیلا جا رہا ہے، اسپیکر پنجاب اسمبلی ملک محمد احمد خان پاکستان کے داخلی معاملات میں شورش، نظام کو پیچھے دھکیلا جا رہا ہے، اسپیکر پنجاب اسمبلی ملک محمد احمد خان سات سال شوہر کے بارے میں پتہ نا چلے تو خاتون آزاد ہو جاتی ہے، سندھ ہائیکورٹ عمران خان کی بہنوں نے ملاقات کی اجازت نہ دینے پر اڈیالہ جیل کے قریب دھرنا دیدیا بشری بی بی بانی پی ٹی آئی کو دھوکا دینے کا سوچ بھی نہیں سکتیں،بہن مریم وٹو نائب وزیراعظم اسحاق ڈار اور ایرانی وزیر خارجہ میں رابطہ، علاقائی صورتحال پر تبادلہ خیال ملک مزید انتشار اور کشیدگی کا متحمل نہیں ہوسکتا، سیاست سے لفظ کشیدگی ختم ہونا چاہئے، بیرسٹر گوہرCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
پڑھیں:
عطا اللہ تارڑ نے اب تک معافی نہیں مانگی، وزیراعظم وزرا کے تضحیک آمیز رویے کا نوٹس لیں، سحر کامران
پاکستان پیپلز پارٹی کی رکن قومی اسمبلی سحر کامران کا کہنا ہے کہ وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ نے قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں پیش آنے والے واقعے پر اب تک معافی نہیں مانگی جبکہ وزیراعظم کو اپنے وزرا کے تضحیک آمیز رویے کا نوٹس لینا چاہیے۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان کے اگلے وزیراعظم بلاول بھٹو زرداری، سینیٹر سحر کامران نے دعویٰ کیوں کیا؟
وی ایکسکلوسیو میں گفتگو کرتے ہوئے سحر کامران نے بتایا کہ قائمہ کمیٹی کے اجلاس کے دوران انہوں نے وزارت اور متعلقہ سیکریٹری سے سوال کیا تھا کہ کمیٹی کے اجلاس میں تقریباً 12 ارب روپے مالیت کے 14 منصوبوں کی منظوری لی گئی تاہم بعد میں معلوم ہوا کہ بجٹ میں 14 ارب روپے سے زائد مالیت کے 17 منصوبے منظور کیے گئے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ان کا صرف یہ سوال تھا کہ وہ 3 اضافی منصوبے کون سے تھے جو قائمہ کمیٹی کے سامنے پیش نہیں کیے گئے۔ ان کے بقول انہوں نے پاکستان ٹیلی ویژن (پی ٹی وی) سے متعلق بھی ایجنڈے کے مطابق چند سوالات کیے لیکن اسی دوران وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ اونچی آواز میں گفتگو کرنے لگے جس سے انہیں شدید تضحیک کا احساس ہوا۔
سحر کامران کا کہنا تھا کہ انہوں نے اس صورتحال پر واک آؤٹ کرنے کا فیصلہ کیا تاہم ان کے مطابق عطا اللہ تارڑ نے دوبارہ بلند آواز میں کہا کہ ’یہ ممبر کمیٹی کو ہائی جیک کرنا چاہتی ہیں‘، حالانکہ ان کے بقول انہوں نے ایسا کوئی اقدام نہیں کیا تھا۔
مزید پڑھیے: امریکا ایران مذاکرات، پیپلز پارٹی کا کردار پسِ منظر میں کیوں؟
رکن قومی اسمبلی نے مزید کہا کہ یہ پہلا موقع نہیں تھا کہ عطا اللہ تارڑ کے رویے پر انہیں اعتراض ہوا ہو۔ ان کے مطابق اس سے قبل بھی ایک پارلیمانی سوال کے جواب میں وزیر اطلاعات نے ان کے سوال کا متعلقہ جواب نہیں دیا تھا۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ جب انہوں نے قومی اسمبلی میں اس معاملے کی نشاندہی کی تو عطا اللہ تارڑ نے جواب دیا کہ میرا یہی کام ہے کہ سوال جیسا بھی ہو جواب میں اپنی مرضی کا دیتا ہوں۔
سحر کامران نے سپیکر قومی اسمبلی کے رویے پر بھی اعتراض کرتے ہوئے کہا کہ انہیں ایوان میں جانبداری محسوس ہوئی۔
انہوں نے کہا کہ اس سے قبل بھی ایک وفاقی وزیر کی جانب سے پاکستان پیپلز پارٹی کی سینیٹر شیری رحمان کے ساتھ بھی نامناسب رویہ اختیار کیا گیا تھا۔
سحر کامران نے وزیراعظم سے مطالبہ کیا کہ وہ وزرا کے رویے کا نوٹس لیں اور پارلیمانی روایات کے مطابق ارکان کے ساتھ احترام پر مبنی طرز عمل یقینی بنائیں۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان پیپلز پارٹی نے جمہوریت اور آئین کی بالادستی کے لیے بے شمار قربانیاں دی ہیں۔ ان کے بقول پارٹی آج بھی جمہوریت کے استحکام کی خاطر وفاقی حکومت کی اتحادی ہے تاہم اسی وجہ سے کابینہ کا حصہ نہیں بنی۔
مزید پڑھیں: عطا تارڑ کا بڑا ایکشن: واجبات کی ادائیگی تک نجی ٹی وی کے اشتہارات بند کا اعلان
انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان پیپلز پارٹی کی ملک کے تمام صوبوں کے علاوہ گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر میں بھی نمایاں نمائندگی موجود ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
رکن قومی اسمبلی سحر کامران سحر کامران کو عطا تارڑ سے شکایت وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ