پاک انڈونیشیا دوستانہ تعلقات نئی بلندیوں کو چھوئیں گے: وزیراعظم
اشاعت کی تاریخ: 9th, December 2025 GMT
اسلام آباد: (نیوزڈیسک) وزیراعظم محمد شہباز شریف نے کہا ہے کہ پاکستان اور انڈونیشیا کے تعلقات 75 سال پر مبنی ہیں، پاکستان اورانڈونیشیا کے تعلقات ہر آزمائش پر پورے اترے ہیں، دونوں ممالک کے تعلقات مزید بلندیوں کو چھوئیں گے۔
انڈونیشیا کے صدر پرابووسو بیانتو کے ساتھ نیوز کانفرنس کرتے ہوئے وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ انڈونیشیا کے صدر کو پاکستان میں خوش آمدیدکہتا ہوں، انڈونیشیا کے کسی بھی صدر کا یہ 7سال بعد پاکستان کا پہلا دورہ ہے، صدرپرابوووسوبیانتوانڈونیشیا کے مدبر رہنما ہیں۔
وزیراعظم شہبازشریف نے کہا کہ آج کی بات چیت انتہائی مثبت اورتعمیری رہی، میڈیکل،ہیلتھ،ووکیشنل ٹریننگ میں تعاون پر بات چیت ہوئی، ہم نے باہمی تجارت میں توازن پر بات چیت کی، پاکستانی ڈاکٹرز،میڈیکل پروفیسرز اورماہرین کوانڈونیشیا بھیجنے پر اتفاق ہوا۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان اورانڈونیشیا کے تعلقات کی تاریخ 75سال پر مبنی ہے، پاکستان اورانڈونیشیا کے تعلقات ہر آزمائش پر پورے اترے ہیں، انڈونیشیا کی حکومت اورعوام نے جنگ میں پاکستان کے ساتھ اظہاریکجہتی کیا، پاکستان اورانڈونیشیا کی دوستی ہر آزمائش میں پوری اتری ہے۔
یہ بھی پڑھیں: فیلڈ مارشل کا معاشی اصلاحات اور ترقی کی راہ ہموار کرنے میں کلیدی کردار ہے: وزیراعظم
انہوں نے یہ بھی کہا کہ غزہ میں اسرائیل کی جانب سےجنگ بندی کی خلاف ورزیاں قابل مذمت ہیں، انڈونیشیا صدر کے دورے سے دونوں ممالک کے تعلقات مزید بلندیوں کو چھوئیں گے۔
جے ایف 17 طیاروں کی سلامی میرے لیے اعزاز ہے: صدر انڈونیشیا
اس موقع پر انڈونیشیا کے صدر پرابوووسو بیانتو نے کہا کہ پاکستان میں شاندارمیزبانی اوراستقبال پر شکریہ اداکرتا ہوں، پاکستان کی فضائی حدودمیں جے ایف17طیاروں کی سلامی میرے لیے اعزاز ہے، ہم نے مختلف شعبوں میں تعاون کے حوالے سےمعاہدوں اورایم اویوز کاتبادلہ کیا۔
صدر پرابوووسو بیانتو نے کہا کہ پاکستان اورانڈونیشیا کے درمیان تاریخی تعلقات ہیں، پاکستان کی جانب سے صحت کے شعبے میں تعاون کا خیرمقدم کرتے ہیں، تعلیم، تجارت، زراعت، ٹیکنالوجی کے شعبوں میں تعاون کوفروغ دیں گے۔
انہوں نے کہا کہ غزہ کے معاملے پر پاکستان اور انڈونیشیا نے مشترکہ مؤقف اپنایا، وزیراعظم شہبازشریف کو دورہ انڈونیشیا کی دعوت دیتا ہوں۔
7 معاہدوں، مفاہمتی یادداشتوں کا تبادلہ
قبل ازیں پاکستان اور انڈونیشیا کے درمیان مختلف شعبوں میں تعاون کے لیے 7 معاہدوں اور مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط کر دیئے گئے۔
وزیراعظم ہاؤس میں وزیراعظم شہباز شریف اور انڈونیشیا کے صدر پرابوووسو بیانتو کی موجودگی میں دونوں ملکوں کے درمیان تعاون کے معاہدوں اور مفاہمتی یادداشتوں کے تبادلے کی تقریب ہوئی۔
پاکستان اورانڈونیشیا کے درمیان اعلیٰ تعلیم کے شعبے میں تعاون کا معاہدہ کر لیا گیا، پاکستانی طلبا کی انڈونیشیا میں اعلیٰ تعلیم کیلئے انڈونیشین ایڈ سکالر شپ پروگرام پر دستخط کئے گئے، چھوٹے اوردرمیانے کاروبارکی ترقی کیلئے تعاون کی مفاہمتی یادداشت کا تبادلہ ہوا جبکہ پاکستان اورانڈونیشیا کے درمیان تاریخی دستاویزات اورریکارڈ محفوظ بنانے کے لیے مفاہمتی یادداشت پر دستخط ہوئے۔
اس موقع پر دونوں ممالک کے درمیان منشیات سمگلنگ کی روک تھام کے لیے مفاہمتی یادداشت، حلال تجارت اورسرٹیفکیشن کیلئے مفاہمتی یادداشت پر دستخط کئے گئے۔
پاکستان اورانڈونیشیا کے درمیان صحت کے شعبے میں تعاون کی مفاہمتی یادداشت کا بھی تبادلہ کیا گیا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: پاکستان اورانڈونیشیا کے درمیان انڈونیشیا کے تعلقات انڈونیشیا کے درمیان انڈونیشیا کے صدر مفاہمتی یادداشت کہ پاکستان اور اور انڈونیشیا میں تعاون نے کہا کہ
پڑھیں:
کفایت شعاری اقدامات، حکومت نے مارکیٹوں اور ریسٹورنٹس کے اوقات کار میں توسیع کردی گئی
نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار کی زیر صدارت کفایت شعاری اقدامات پر اہم اجلاس ہوا جس میں مارکیٹوں اور ریسٹورنٹس کے اوقات کار میں توسیع کردی گئی۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار کی زیر صدارت وزارتِ خارجہ میں کفایت شعاری اقدامات کی نگرانی اور عملدرآمد سے متعلق کمیٹی کا اجلاس منعقد ہوا۔
اجلاس میں ملک بھر میں توانائی کے مؤثر استعمال اور کاروباری سرگرمیوں کے اوقات کارجبکہ جاری کفایت شعاری اقدامات کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔
موسمِ گرما میں دن کے دورانیے میں اضافے اور بلند درجہ حرارت کے پیش نظر کمیٹی نے دکانوں، بازاروں، شاپنگ مالز اور جنرل ریٹیل کاروبار کے اوقات کار رات 9 بجے تک بڑھانے کی منظوری دے دی۔
مزید پڑھیںلاہور میں بھی اسمارٹ لاک ڈاؤن پھر سے نافذ، پرانے اوقات کار بحال
اجلاس کے فیصلوں کے مطابق ریسٹورنٹس، کیفے اور دیگر کھانے پینے کے مراکز رات 11 بجے تک کھلے رہ سکیں گے، تاہم ٹیک اوے اور ہوم ڈلیوری سروسز ان اوقات کی پابندی سے مستثنیٰ ہوں گی۔
شادی ہالز اور تقریبات کے مقامات کے اوقات کار رات 10 بجے تک برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا گیا جبکہ فارمیسیز، ہسپتال، پٹرول پمپس، آئی ٹی اور ٹیلی کام سے متعلق خدمات سمیت ضروری سروسز کو ان پابندیوں سے استثنیٰ حاصل ہوگا۔
کمیٹی نے صوبائی حکومتوں کو ہدایت کی کہ وہ وفاقی حکام کے ساتھ مکمل تعاون کرتے ہوئے ان فیصلوں پر مؤثر عملدرآمد یقینی بنائیں۔
اجلاس میں وفاقی وزراء برائے پیٹرولیم، موسمیاتی تبدیلی، اطلاعات اور آئی ٹی و ٹیلی کام، وزیر اعظم کے معاونینِ خصوصی برائے خزانہ اور نائب وزیراعظم، وفاقی سیکریٹریز تجارت، کابینہ، پیٹرولیم اور آئی ٹی و ٹیلی کمیونی کیشنز کے علاوہ صوبائی حکومتوں کے سینئر حکام نے بھی شرکت کی۔کمیٹی نے ایجنڈے میں شامل دیگر امور اور کیسز کی بھی منظوری دی۔