پاک بحریہ آج بھی ملکی بحری سرحدوں پر آہنی فصیل ہے: فیلڈ مارشل
اشاعت کی تاریخ: 9th, December 2025 GMT
—فائل فوٹو
چیف آف آرمی اسٹاف اینڈ چیف آف ڈیفنس فورسرز فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کا کہنا ہے کہ 1971 میں پاک بحریہ دشمن کے لیے سمندر میں سیسہ پلائی دیوار تھی، آج بھی پاک بحریہ ملکی بحری سرحدوں پر آہنی فصیل ہے۔
پاک بحریہ آج کا یادگار دن ’ہنگور ڈے‘ کے طور پر منا رہی ہے۔ اس موقع پر ایک بیان میں فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے کہا کہ پاکستان خودمختاری اور دفاعِ وطن کے لیے عزمِ محکم رکھتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ 9 دسمبر 1971 کو آبدوز ہنگور کے عملے نے جانبازی کی درخشندہ تاریخ رقم کی جو آج تک دشمن کے ذہن پر نقش ہے، یہ دن باور کرواتا ہے کہ پاکستان امن کا خواہاں ہے۔
فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے کہا کہ نئے قائم ہونے والے ڈیفنس فورسز ہیڈ کوارٹرز میں بنیادی تبدیلی تاریخی ہے، بڑھتے اور بدلتے خطرات کے پیشِ نظر ایسا کرنا ضروری ہے۔
اپنے پیغام میں نیول چیف نے کہا کہ پاک بحریہ شاندار ماضی کی طرح آج بھی دشمن کے دانت کھٹے کرنے کو ہمہ وقت تیار ہے۔ آٹھ جدید ہنگور کلاس آبدوزیں جلد فلیٹ میں آرہی ہیں۔
ہنگور ڈے پر پاک بحریہ نے خصوصی دستاویزی فلم ’ہدف‘ بھی جاری کر دی
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: فیلڈ مارشل پاک بحریہ نے کہا کہ
پڑھیں:
دیو ہیکل بحری جہاز "ایم ایس سی ڈیلیٹا” کراچی پورٹ پہنچ گیا
کراچی : دیو ہیکل بحری جہاز ‘ایم ایس سی ڈیلیٹا ‘ کراچی پورٹ پر لنگر انداز ہوگیا ، جو بندرگاہ کے عالمی معیار کے انفراسٹرکچر اور آپریشنل صلاحیت کا واضح ثبوت ہے۔تفصیلات کے مطابق دنیا کا دیو ہیکل کنٹینر بحری جہاز "ایم ایس سی ڈینلیٹا” کامیابی کے ساتھ کراچی پورٹ پہنچ گیا ہے اور کے پی ٹی کے مخصوص ٹرمینل پر لنگر انداز ہوگیا۔کراچی پورٹ ٹرسٹ نے بتایا کہ یہ بحری جہاز اپنی نوعیت اور حجم کے اعتبار سے انتہائی وسیع ہے، جو بندرگاہ کے عالمی معیار کے انفراسٹرکچر اور آپریشنل صلاحیت کا واضح ثبوت ہے۔کے پی ٹی کا کہنا تھا کہ 400 میٹر طویل اور 67 میٹر چوڑا یہ بحری جہاز 255,288 ڈیڈ ویٹ ٹن گنجائش رکھتا ہے، جو اسے دنیا کے بڑے تجارتی جہازوں میں شامل کرتا ہے۔ترجمان نے کہا کہ اتنے بڑے جہاز کی آمد اس بات کا مظہر ہے کہ کراچی پورٹ جدید سہولیات اور بڑے بحری جہازوں کو سنبھالنے کی مکمل صلاحیت رکھتی ہے۔ادارے کے مطابق ایسے بڑے جہازوں کی آمد سے بندرگاہ کی استعداد میں مزید اضافہ ہوگا، عالمی شپنگ کمپنیوں کا اعتماد مضبوط ہوگا اور پاکستان کی تجارتی سرگرمیوں کو بھی فروغ ملے گا۔