ٹنڈولہیار،موسم سرما آتے ہیں گیس لوڈشیڈنگ شروع
اشاعت کی تاریخ: 11th, December 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
ٹنڈوالٰہیار(نمائندہ جسارت)اندرون سندھ ٹھنڈ میں اضافہ ٹنڈوالٰہیار شہر اور گردونواح میں سرد ہوائوں کا راج دھند میں اضافہ، قومی شاہراہ پر حد نگاہ کم شہر میں گیس کی لوڈ شیڈنگ کم نا ہوسکی۔تفصیلات کے مطابق ملک کے دیگر شہروں کی طرح ٹنڈوالٰہیاراور اس کے گردونواح کے علاقوں میں موسم سرما کی ٹھنڈی ہوائوں کے ساتھ سردی اور دھند میں اضافہ ہونا شروع ہو گیا ، شہر کے مختلف علاقوں میں سردی کے باعث پڑنے والی دھند سے شہر میں مزید ٹھنڈ میں اضافہ ہو گیا سردی میں اچانک اضافے کے باعث لنڈا بازار اور گرم کپڑوں کی دکانوں پر عوام کا رش امنڈ آیا صبح کے وقت قومی شاہراں پر بھی دھند کے باعث ٹریفک کی آمد رفت میں ڈرائیور حضرات کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑا تاہم موٹر وے پولیس کی جانب سے فوگ (دھند) بڑھ جانے کی وجہ سے ڈرائیور حضرات کو غیر ضروری سفر کرنے سے قبل ہی محفوظ مقام پر کھڑا کر دیا جاتا ہے سردی میں اضافے کیساتھ ہی ٹنڈوالہیار شہر کے مختلف علاقوں میں گیس کی غیر اعلانیہ لوڈ شیڈنگ کا بھی سلسلہ شروع ہو گیا ہے اور کوئلہ اور لکڑیوں کی مانگ کے اضافے نے مذکورہ اشیا کے ریٹ میں بھی بڑھوتی ہونا شروع ہوگئی ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: میں اضافہ
پڑھیں:
دنیا شدید گرمی اور تباہ کن موسم کے لیے تیار ہوجائے، اقوام متحدہ نے بڑی وارننگ جاری کردی
اقوام متحدہ کے ذیلی ادارے اور عالمی موسمیاتی تنظیم نے خبردار کیا ہے کہ جون سے اگست 2026 کے دوران ال نینو کے پیدا ہونے کا امکان 80 فیصد تک پہنچ گیا ہے، جس کے باعث دنیا بھر میں شدید گرمی، خشک سالی، غیر معمولی بارشوں اور دیگر موسمی شدت کے واقعات میں اضافہ ہوسکتا ہے۔
عالمی موسمیاتی تنظیم کے مطابق بحرالکاہل کے وسطی اور مشرقی استوائی علاقوں میں سمندر کے پانی کا درجہ حرارت معمول سے غیر معمولی حد تک بڑھ رہا ہے، جس کے نتیجے میں ال نینو کی صورتحال تیزی سے تشکیل پا رہی ہے۔
ادارے نے اپنی تازہ ترین رپورٹ میں کہا ہے کہ عالمی پیش گوئیوں کے مطابق جون تا اگست کے دوران ال نینو کے بننے کا امکان 80 فیصد جبکہ نومبر تک یہ امکان 90 فیصد یا اس سے بھی زیادہ ہوسکتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ ال نینو کم از کم درمیانی شدت کا اور ممکنہ طور پر طاقتور بھی ثابت ہوسکتا ہے۔
ال نینو ایک قدرتی موسمیاتی عمل ہے جو ہر دو سے سات سال بعد رونما ہوتا ہے اور عموماً 9 سے 12 ماہ تک برقرار رہتا ہے۔ اس دوران بحرالکاہل کے پانی گرم ہوجاتے ہیں، جس کے نتیجے میں دنیا بھر میں ہواؤں، بارشوں اور درجہ حرارت کے نظام میں نمایاں تبدیلیاں آتی ہیں۔
عالمی موسمیاتی تنظیم کی سربراہ نے کہا کہ دنیا کو ال نینو کے اثرات کے لیے ابھی سے تیاری شروع کر دینی چاہیے کیونکہ یہ خشک سالی، موسلا دھار بارشوں، زمینی اور سمندری ہیٹ ویوز کے خطرات کو مزید بڑھا سکتا ہے۔
اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے بھی خبردار کرتے ہوئے کہا کہ ال نینو ہمارے دروازے پر دستک دے رہا ہے اور اسے ایک ہنگامی موسمیاتی انتباہ کے طور پر لینا چاہیے۔ ان کے مطابق بڑھتی ہوئی عالمی حدت کے ساتھ ال نینو کے اثرات مزید شدید ہوسکتے ہیں۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ جون سے اگست کے دوران دنیا کے بیشتر حصوں میں معمول سے زیادہ درجہ حرارت ریکارڈ کیے جانے کا امکان ہے۔ مشرقی افریقہ کے بعض علاقوں میں بارشیں کم ہوسکتی ہیں، جنوبی ایشیا میں مون سون معمول سے کم رہنے کا خدشہ ہے جبکہ وسطی امریکہ میں بھی خشک اور گرم موسم متوقع ہے۔
ماہرین کے مطابق ال نینو کے باعث زراعت، پانی کے ذخائر، توانائی کے شعبے اور صحت عامہ پر گہرے اثرات مرتب ہوسکتے ہیں، اسی لیے حکومتوں اور متعلقہ اداروں کو پیشگی اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔