5 جنوری 2021کو واشنگٹن میں بم نصب کرنےکا ملزم گرفتار
اشاعت کی تاریخ: 5th, December 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
ایف بی آئی نے 6 جنوری 2021 کو واشنگٹن میں کیپیٹل پر حملے سے ایک رات قبل بم نصب کرنے کے ملزم کو گرفتار کر لیا ہے۔
اٹارنی جنرل پام بونڈی نے گرفتاری کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ 30 سالہ ملزم کا نام برائن کول جونیئر ہے جو وڈ برج ورجینیا میں اپنے والدین کے ساتھ رہتا ہے۔
حکام نے 5 جنوری کو ملزم کی وہ ویڈیو جاری کی تھی جس میں وہ ڈیموکریٹک نیشنل کمیٹی اور ریپبلکن ہیڈ کوارٹرز کی عمارتوں کے باہر بم نصب کرتا دکھائی دے رہا تھا اور اس پر 5 لاکھ ڈالر کا انعام بھی رکھا گیا تھا۔ بعد ازاں دونوں بم ناکارہ بنا دیے گئے تھے۔
حکام نے اس گرفتاری کو 6 جنوری کے حملے کی تحقیقات میں ایک اہم پیش رفت قرار دیا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
’سب کچھ تیار ہے‘ ٹرمپ نے ایران پر تاریخ کے سب سے بڑے حملے کا اشارہ دیدیا
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ وہ ایران پر اب تک کے سب سے بڑے فوجی حملے کی منظوری دینے کے قریب ہیں۔
امریکی خبر رساں ادارے سے گفتگو میں صدر ٹرمپ نے کہا کہ میں ایران پر ایک بہت بڑے حملے پر غور کر رہا ہوں جو پہلے ہونے والے تمام حملوں سے کہیں بڑا ہوگا۔
انھوں نے مزید کہا کہ اگرچہ ابھی حتمی فیصلہ نہیں کیا گیا۔ تمام عسکری آپشنز زیر غور ہیں۔ میں فیصلہ کرنے کے بہت قریب ہوں اور اس کی تمام تیاریاں بھی مکمل ہیں۔
امریکی صدر ٹرمپ نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ اگر وہ چاہیں تو اسرائیل دو منٹ میں اس کارروائی میں شامل ہو جائے گا تاہم ہمیں کسی کی ضرورت نہیں۔
قبل ازیں ایران کے حمایت یافتہ یمنی حوثیوں کے بحیرہ احمر میں دو سعودی آئل ٹینکروں پر حملے کے بعد امریکی صدر نے ایران اور حوثیوں دونوں کو بڑی فوجی سزا دینے کی دھمکی بھی دی تھی۔
صدر ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر لکھا تھا کہ اگر حوثیوں نے دوبارہ ایسے حملے کیے تو امریکا انھیں ایران کی کارروائی تصور کرے گا کیونکہ حوثی اس کے حمایت یافتہ گروہ ہیں۔
دوسری جانب مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث عالمی منڈی میں برینٹ خام تیل کی قیمت ایک بار پھر 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کرچکی ہے۔
بحیرہ احمر اور باب المندب میں جہاز رانی کو لاحق خطرات نے عالمی توانائی منڈی میں تشویش بڑھا دی ہے۔
ادھر اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے نے کہا کہ صورتحال قابو سے باہر ہوتی جا رہی ہے۔ خطہ مسلسل وسیع ہوتے تصادم کی لپیٹ میں آ رہا ہے۔ ایک بحران دوسرے بحران کو جنم دے رہا ہے اور ہر نئی کشیدگی اگلی کشیدگی کا سبب بن رہی ہے۔