امریکا کا نیا سخت قدم، ملک میں داخلے کے لیے 5 سالہ سوشل میڈیا ہسٹری بھی دینا ہوگی
اشاعت کی تاریخ: 11th, December 2025 GMT
امریکا نے غیر ویزا ممالک سے آنے والے لاکھوں مسافروں کے لیے داخلے کی شرائط مزید سخت کرنے کی تیاری کر لی ہے، جس کے تحت اب انہیں گزشتہ 5 سال کی سوشل میڈیا سرگرمی، پرانے ای میل اکاؤنٹس، خاندانی معلومات اور بائیومیٹرک ریکارڈ بھی فراہم کرنا پڑ سکتا ہے۔ امریکی ہوم لینڈ سیکیورٹی نے اس مجوزہ تبدیلی کو قومی سلامتی کے لیے لازمی قرار دیا ہے، جبکہ ناقدین اسے نجی زندگی میں بے جا مداخلت اور نگرانی کے نظام کی طرف قدم قرار دے رہے ہیں۔
US may soon require visitors from 42 countries to share 5 years of social media history, email accounts, family details, and biometrics, even if they can enter without a visa, under new DHS rules.
— Al Jazeera English (@AJEnglish) December 11, 2025
امریکا نے ویزا کے بغیر داخلے کی اجازت رکھنے والے ممالک کے مسافروں سے مزید ذاتی معلومات طلب کرنے کا فیصلہ کیا ہے، جس میں 5 سال تک کی سوشل میڈیا ہسٹری، پرانے ای میل ایڈریسز، فون نمبرز، خاندانی پس منظر اور بائیومیٹرکس شامل ہوں گے۔ یہ تجویز امریکی محکمہ ہوم لینڈ سیکیورٹی کی جانب سے فیڈرل رجسٹر میں جاری کردہ نوٹس میں پیش کی گئی ہے۔
یہ بھی پڑھیں:امریکی ویزا، ایڈولسینس اور 14سالہ پاکستانی امریکن ٹک ٹاکر لڑکی کا قتل!
یہ تقاضے اُن 42 ممالک کے لیے ہوں گے جو ای ایس ٹی اے (ESTA) کے تحت ویزا ویور پروگرام استعمال کرتے ہیں۔ ان میں برطانیہ، جرمنی، یونان، جاپان، قطر، نیوزی لینڈ، آسٹریلیا، جنوبی کوریا اور اسرائیل جیسے ممالک شامل ہیں۔
یہ واضح نہیں کیا گیا کہ امریکی حکام سوشل میڈیا اکاؤنٹس میں کن چیزوں کی تلاش کے خواہاں ہیں، تاہم سی بی پی کا کہنا ہے کہ یہ اقدام صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس ایگزیکٹو آرڈر کے تحت ہے جس میں امریکا میں داخلے پر سخت سکریننگ کی ہدایت دی گئی تھی۔
فی الحال سوشل میڈیا کی معلومات دینا اختیاری ہے، لیکن نئی تجویز میں اسے لازمی بنانے کی سفارش کی گئی ہے۔
ای ایس ٹی اے استعمال نہ کرنے والے ممالک کے مسافروں کے لیے سوشل میڈیا شیئرنگ کی شرط پہلے ہی موجود ہے، جو سابق ٹرمپ دور سے نافذ ہے اور بائیڈن دور میں بھی برقرار رہی۔
امریکی حکومت نے عوام سے 60 دن میں رائے مانگی ہے، جس کے بعد یہ قواعد حتمی شکل اختیار کریں گے۔
یہ بھی پڑھیں:امریکا کی نئی ویزا پالیسی: کیا اب ذیابیطس اور موٹاپے کے شکار افراد کو امریکی ویزا نہیں ملے گا؟
یہ واضح نہیں کیا گیا کہ امریکی حکام سوشل میڈیا اکاؤنٹس میں کن چیزوں کی تلاش کے خواہاں ہیں، تاہم سی بی پی کا کہنا ہے کہ یہ اقدام صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس ایگزیکٹو آرڈر کے تحت ہے جس میں امریکا میں داخلے پر سخت سکریننگ کی ہدایت دی گئی تھی۔
فی الحال سوشل میڈیا کی معلومات دینا اختیاری ہے، لیکن نئی تجویز میں اسے لازمی بنانے کی سفارش کی گئی ہے۔ ای ایس ٹی اے استعمال نہ کرنے والے ممالک کے مسافروں کے لیے سوشل میڈیا شیئرنگ کی شرط پہلے ہی موجود ہے، جو سابق ٹرمپ دور سے نافذ ہے اور بائیڈن دور میں بھی برقرار رہی۔
امریکی حکومت نے عوام سے 60 دن میں رائے مانگی ہے، جس کے بعد یہ قواعد حتمی شکل اختیار کریں گے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
امریکی شہریت امریکی ویزا سوشل میڈیا اکاؤنٹس
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: امریکی شہریت امریکی ویزا سوشل میڈیا اکاؤنٹس سوشل میڈیا ممالک کے کے لیے کے تحت
پڑھیں:
ایران سے مذاکرات کے امکانات روشن ہیں، معاہدے کا حتمی نہیں کہہ سکتے، امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو
امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے کہا ہے کہ ایران کے ساتھ جوہری مذاکرات کی بحالی کے امکانات روشن ہیں اور ایران بعض ایسے نکات پر بات چیت کے لیے آمادہ ہو گیا ہے جن پر وہ ماضی میں گفتگو سے انکار کرتا رہا تھا تاہم اس بات کی کوئی ضمانت نہیں دی جا سکتی کہ مذاکرات کسی قابل قبول معاہدے پر منتج ہوں گے۔
یہ بھی پڑھیں: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اسرائیلی حملوں پر برہم، نیتن یاہو کو سخت پیغام
سینیٹ کی خارجہ تعلقات کمیٹی کے سامنے اپنے بیان میں مارکو روبیو نے کہا کہ ایران نے اپنے جوہری پروگرام کے بعض پہلوؤں پر بات چیت پر آمادگی ظاہر کی ہے جو چند ماہ قبل تک ممکن نہیں سمجھی جا رہی تھی۔
انہوں نے کہا کہ ایران ایسے معاملات پر مذاکرات کے لیے تیار ہوا ہے جن کا ذکر کرنے سے بھی وہ پہلے گریز کرتا تھا تاہم یہ اس بات کی ضمانت نہیں کہ بالآخر کوئی ایسا معاہدہ طے پا جائے گا جو سب کے لیے قابل قبول ہو۔
روبیو کے مطابق ایرانی قیادت کے اندر پائی جانے والی غیر یقینی صورتحال بھی مذاکراتی عمل کو پیچیدہ بنا رہی ہے۔
تاہم امریکی وزیر خارجہ کی امید افزا باتیں ایسے وقت سامنے آئی ہیں جب ایران اور امریکا کے درمیان بالواسطہ رابطوں میں نئی رکاوٹیں پیدا ہونے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔ ایرانی ذرائع ابلاغ کے مطابق اسرائیل کی جانب سے بیروت پر حملوں کی دھمکیوں کے بعد ایران نے ثالثوں کے ساتھ رابطے معطل کر دیے ہیں۔
ادھر امریکا کی میزبانی میں اسرائیل اور لبنان کے درمیان سیاسی مذاکرات کا نیا دور بھی جاری ہے جبکہ اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی نے پہلے سے موجود نازک جنگ بندی کو مزید غیر یقینی بنا دیا ہے۔
مزید پڑھیے: لبنان جنگ بندی پراتفاق ہونے کے بعد امریکا، ایران مذاکرات دوبارہ تیز رفتاری سے شروع ہو گئے ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ کا اعلان
مارکو روبیو نے کانگریس میں 2 روزہ بریفنگ کے دوران ایران، مشرق وسطیٰ، کیوبا، غیر ملکی امداد اور دیگر خارجہ پالیسی امور پر قانون سازوں کے سوالات کے جوابات دیے۔
ایران جنگ پر سوالاتکانگریس میں اپنی پہلی عوامی پیشی کے دوران روبیو کو ایران کے خلاف امریکی اور اسرائیلی کارروائیوں سے متعلق سخت سوالات کا سامنا بھی کرنا پڑا۔
متعدد ڈیموکریٹ ارکان نے جنگ کے آغاز سے قبل کانگریس کی منظوری نہ لینے پر تنقید کی جبکہ بیشتر ریپبلکن ارکان نے ایران کے خلاف کارروائی کی حمایت کی۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران کے خلاف فوجی کارروائی کے فیصلے پر بھی بحث جاری ہے خصوصاً ایسے وقت میں جب انہوں نے ماضی میں مشرق وسطیٰ میں طویل جنگوں سے گریز کا وعدہ کیا تھا۔
جنگ کے معاشی اثراتایران کے ساتھ جاری کشیدگی کے باعث آبنائے ہرمز میں تیل بردار جہازوں کی آمدورفت متاثر ہوئی ہے جس کے نتیجے میں عالمی منڈی میں تیل اور گیس کی قیمتوں میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔
مزید پڑھیں: ٹرمپ نے ایران جنگ بندی معاہدے کی شرائط مزید سخت کر دیں، تہران کے جواب کا انتظار، امریکی میڈیا
ماہرین کے مطابق دنیا کی تقریباً 20 فیصد تیل اور قدرتی گیس کی تجارت آبنائے ہرمز کے ذریعے ہوتی ہے اس لیے خطے میں کسی بھی قسم کی کشیدگی عالمی معیشت پر براہ راست اثر ڈال سکتی ہے۔
کیوبا سے متعلق بھی سخت مؤقفمارکو روبیو کو سماعت کے دوران کیوبا کے حوالے سے بھی سوالات کا سامنا کرنا پڑا۔ سماعت کے آغاز پر چند مظاہرین نے ’کیوبا کو جینے دو‘ اور ’کیوبن عوام کا قتل بند کرو‘ جیسے نعرے لگائے جنہیں بعد ازاں کمرے سے باہر نکال دیا گیا۔
یہ بھی پڑھیے: ایران ڈیل کے قریب ہیں، مگر جلد بازی نقصان دہ ہوگی، صدر ٹرمپ کا فوکس نیوز کو انٹرویو میں دعویٰ
روبیو، جو کیوبن تارکین وطن خاندان سے تعلق رکھتے ہیں، طویل عرصے سے کیوبا کو امریکی قومی سلامتی کے لیے خطرہ قرار دیتے رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ کیوبا کے امریکا کے مخالف ممالک کے ساتھ تعلقات واشنگٹن کے لیے تشویش کا باعث ہیں۔
امریکی انتظامیہ نے حالیہ دنوں میں کیوبا کے سابق صدر راول کاسترو کے خلاف فوجداری الزامات بھی عائد کیے ہیں جس پر کیوبا کی حکومت نے شدید ردعمل ظاہر کرتے ہوئے اسے سیاسی اقدام قرار دیا ہے۔
مزید پڑھیں: ایران اور امریکا کے درمیان جنگ بندی معاہدہ تیار، ٹرمپ کی منظوری باقی، امریکی نیوز ویب سائٹ کا دعویٰ
مارکو روبیو بدھ کے روز بھی کانگریس کی مختلف کمیٹیوں کے سامنے پیش ہو کر امریکی محکمہ خارجہ کے بجٹ اور خارجہ پالیسی سے متعلق معاملات پر بریفنگ دیں گے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو ایران امریکا تنازع ایران امریکا مذاکرات ایران امریکا معاہدہ