آسٹریلیا نابالغ بچوں پر سوشل میڈیا پابندی لگانے والا پہلا ملک بن گیا
اشاعت کی تاریخ: 10th, December 2025 GMT
آسٹریلیا نے 16 سال سے کم عمر بچوں پر سوشل میڈیا کے استعمال پر پابندی نافذ کر دی۔ نئے قانون کے تحت ٹک ٹاک، یوٹیوب، انسٹاگرام اور فیس بک سمیت 10 بڑے پلیٹ فارمز کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ 16 سال سے کم عمر صارفین کی رسائی بند کریں، ورنہ انہیں تقریباً 33 ملین ڈالر تک جرمانہ ادا کرنا ہوگا۔
یہ بھی پڑھیں: امریکا میں ٹک ٹاک پر پابندی لگنے والی ہے؟
آسٹریلوی وزیراعظم انتھونی البانیز نے اس اقدام کو خاندانوں کے لیے ایک بڑی کامیابی قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ ملک کی اہم سماجی تبدیلیوں میں سے ایک ہے اور آن لائن نقصانات کو کم کرنے میں مدد دے گی۔
انہوں نے بچوں کو مشورہ دیا کہ سوشل میڈیا کے بجائے کھیلوں، موسیقی یا کتابوں میں وقت گزاریں۔
ٹک ٹاک پر تقریباً 2 لاکھ اکاؤنٹس بند، بچوں کی الوداعی پوسٹپابندی کے آغاز کے ساتھ ہی صرف ٹک ٹاک پر تقریباً 2 لاکھ اکاؤنٹس بند کردیے گئے، جبکہ آئندہ چند دنوں میں مزید لاکھوں اکاؤنٹس بند کیے جائیں گے۔ لاکھوں متاثرہ بچوں نے پابندی سے قبل الوداعی پوسٹس بھی شیئر کیں جن میں بعض نے لکھا کہ وہ سوشل میڈیا سے دور رہیں گے اور 16 سال کی عمر میں واپسی کریں گے۔
یہ بھی پڑھیں: ٹک ٹاک کا استعمال ترک کرنے کے لیے 30دن کی مہلت
پابندی کو توڑنے کے نئے طریقےکئی بچے پابندی کو غیر ضروری قرار دیتے ہوئے کہتے ہیں کہ وہ اس پابندی کو توڑنے کے نئے طریقے تلاش کرلیں گے۔ تاہم کچھ بچوں نے اسے مثبت قدم قرار دیا۔
مختلف ممالک کا آسٹریلوی ماڈل کو اپنانے پر غورعالمی سطح پر اس فیصلے کو خاصی توجہ ملی ہے اور مختلف ممالک اس ماڈل کو اپنانے پر غور کررہے ہیں۔ یورپی یونین کے بعض ارکان نے آسٹریلیا سے رہنمائی لینے کی خواہش ظاہر کی ہے۔
مصنوعی ذہانت، سیلفی تجزیہ اور شناختی دستاویزات کی جانچسوشل میڈیا پلیٹ فارمز نے اس پابندی پر عملدرآمد کے لیے عمر کا اندازہ لگانے کے مختلف طریقوں کا اعلان کیا ہے جن میں مصنوعی ذہانت، سیلفی تجزیہ اور شناختی دستاویزات کی جانچ شامل ہے۔
ایکس پلیٹ فارم نے بھی اپنے بیان میں کہا کہ وہ قانون کی ضروریات پوری کرے گا، ملک میں پابندی سے پہلے 8 سے 15 سال کے تقریباً 86 فیصد بچے سوشل میڈیا استعمال کرتے تھے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
we news آسٹریلیا ٹک ٹاک سوشل میڈیا نابالغ بچے.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: ا سٹریلیا ٹک ٹاک سوشل میڈیا نابالغ بچے سوشل میڈیا کے لیے ٹک ٹاک
پڑھیں:
ایران عرب ممالک پر نہیں بلکہ شیطانی اور دہشتگردی کے اڈوں پر حملے کر رہا ہے، علامہ رمضان توقیر
ایس یو سی کے مرکزی رہنماء نے رہبر معظم آیت اللہ سید مجتبیٰ خامنہ ای سے تجدیدِ عہد کا اظہار بھی کیا اور اس عزم کا اعادہ کیا گیا کہ حق، عدل، وحدتِ امت اور مظلوموں کی حمایت کے اصولوں پر ثابت قدم رہتے ہوئے اسلامی اقدار کے فروغ کے لیے اپنی ذمہ داریاں ادا کرتے رہیں گے۔ اسلام ٹائمز۔ ڈیرہ اسماعیل خان جامعۃ النجف کوٹلی امام حسین میں گرمیوں کی چھٹیوں سے استفادہ کرتے ملت جعفریہ کے بچوں کے لیے پرنسپل جامعتہ النجف علامہ محمد رمضان توقیر کی نگرانی بیس روزہ دین شناسی شارٹ کورس کا اہتمام کیا گیا۔ جس میں ڈیرہ شہر اور مضافات سے کثیر تعداد میں بچوں نے شرکت کی۔اس دین شناسی شارٹ کورس میں بچوں کو قرآن وحدیث،وضو،صوم ،صلوات اور بنیادی فقہی احکام سے روشناس کرایا گیا۔ جس میں جامعتہ النجف کے دیگر مدرسین محنت و لگن کے ساتھ بچوں کی رہنمائی کرتے رہیں۔ دین شناسی شارٹ کورس کے آخر میں مدرسین نے اپنی محنت اور طلاب کرام کی کارکردگی کو جانچنے کے لیے بچوں سے امتحان لیا۔اساتذہ کی محنت اور بچوں کی محنت قابلِ تعریف تھی۔تقسیم تقریب انعامات کا اہتمام کیا گیا۔
پرنسپل جامعہ علامہ محمد رمضان توقیر نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے اساتذہ کی محنت اور طلاب کرام کی امتحانات میں تسلی بخش نتائج کو سراہتے ہوئے کہا کہ انشاء اللہ اس طرح دین مبین کی خدمت کا سلسلہ جاری رکھیں گے اور ملت کے جوانوں کی دینی تعلیم و تربیت کے لیے ہمہ وقت کوشاں رہیں گے۔ اس موقع پر رہبرِ انقلاب کی دینی و انقلابی خدمات اور ایران کی استقامت اور ثابت قدمی کو خراجِ عقیدت پیش کیا۔ اسی قرآن و سنت کی آگاہی اور خدا تعالیٰ کی وحدانیت کے پختہ عقیدہ کی وجہ سے ایران کی حکومت اور عوام شیطان بزرگ کے خلاف استقامت اور جرات کا مظاہرہ کرتے ہوئے دن بدن حاوی ہوتی جا رہا ہے، جو قابلِ تعریف ہے۔ لیکن کچھ ناقدین آج بھی ایران کی استقامت اور کامیابیوں سے پریشان ہیں اور شیطان بزرگ کی خوشنودی کے لیے ایران پر تنقید کر رہے ہیں کہ ایران عرب ممالک پر حملہ کر رہا ہے۔
علامہ محمد رمضان توقیر نے کہا کہ ایران عرب ممالک پر نہیں بلکہ شیطانی اور دہشتگردی کے اڈوں پر حملے کر رہا ہے۔ اس موقع پر نئے رہبر آیت اللہ سید مجتبیٰ خامنہ ای سے تجدیدِ عہد کا اظہار بھی کیا گیا اور اس عزم کا اعادہ کیا گیا کہ حق، عدل، وحدتِ امت اور مظلوموں کی حمایت کے اصولوں پر ثابت قدم رہتے ہوئے اسلامی اقدار کے فروغ کے لیے اپنی ذمہ داریاں ادا کرتے رہیں گے۔ تقریب تقسیم انعامات میں مدرسین اور معززین علاقہ نے شرکت کی اور امتحان میں نمایاں پوزیشن حاصل کرنے والے طلاب کرام کو انعامات سے نوازا گیا اور انکی حوصلہ افزائی کی گئی۔ امتِ مسلمہ کے اتحاد، ایران کی فتح و نصرت، پاکستان کی سلامتی اور شہدائے اسلام، بالخصوص رہبر شہید کے لئے دعا کی گئی۔