Jasarat News:
2026-07-23@23:48:54 GMT

عافیہ کیس، لا علمی، نااہلی یا سازش

اشاعت کی تاریخ: 5th, December 2025 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

251205-03-4

ایسا لگتا ہے کہ حکومت پاکستان کے مختلف محکموں میں جہالت اور نااہلی کا مقابلہ ہورہا ہے اور یہ واحد مقابلہ ہے جس میں تمام ادارے پوری دلجمعی کے ساتھ شریک ہوتے ہیں اور محسوس ہوتا ہے کہ یہ اس میں اپنی پوری صلاحیت صرف کررہے ہیں بلکہ جھونک رہے ہیں۔ اگرچہ بلدیاتی ادارے اس کام میں ید طولیٰ رکھتے ہیں لیکن جن اداروں کو بین الاقوامی معاملات دیکھنے ہوتے ہیں وہ بھی ایسے لطیفے کرتے رہتے ہیں۔ تازہ واردات پاکستان کے موقر ادارے اٹارنی جنرل آفس کے ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے کی ہے، انہوں نے برسوں سے اسلام آباد ہائی کورٹ میں زیر سماعت پاکستانی قوم کی بیٹی ڈاکٹر عافیہ صدیقی کے مقدمے میں یہ دعویٰ کرڈالا کہ عافیہ امریکی شہری ہے اوراس کا مقدمہ بھی امریکا میں چلا ہے پاکستان امریکی معاملات میں مداخلت نہیں کرسکتا، اسے عرف عام میں بھنڈ مارنا کہا جاتا ہے لیکن یہ تو اس سے بھی بڑی چیز ہوگئی ہے۔
قوم کی بیٹی ڈاکٹر عافیہ صدیقی کے ساتھ حکومتی اداروں کا رویہ سنگین مذاق بلکہ سنگدلی ہے کہ بائیس سال گزرنے کے بعد ایڈیشنل اٹارنی جنرل عدالت میں یہ بیان دے رہے ہیں کہ ڈاکٹر عافیہ امریکی شہری ہے اسے سزا بھی امریکا میں ہوئی ہے، ہم امریکی نظام میں مداخلت نہیں کرسکتے۔ اس سے ڈاکٹر عافیہ صدیقی کے بارے میں حکومتی اداروں کی لاعلمی، انسانیت سے عاری ہونے اور بے حسی کا اظہار ہوتا ہے، کم سے کم الفاظ میں اسے غیر انسانی رویہ کہا جاسکتا ہے، ڈاکٹر عافیہ کی پاکستانی شہریت کسی بھی سوال سے بالا اور ریکارڈ پر ہے، سارا مقدمہ اسی بنیاد پر چلایا گیا کہ عافیہ پاکستانی شہری ہے، اٹارنی جنرل کے دفتر کی لا علمی بلکہ جہالت کا یہ بہت بڑا ثبوت ہے، خود اسلام آباد ہائیکورٹ میں عافیہ کے مقدمے میں اٹارنی جنرل آفس برسوں حاضری دیتا رہا ہے، اس کے نمائندے خود عدالت سے جھڑکیاں کھاتے رہے، اپنی نا اہلی سے حکومت کے خلاف توہین عدالت کا نوٹس جاری کروا دیا، اور عدالت کا کوئی حکم تسلیم نہیں کیا، اب عافیہ کو امریکی شہری قرار دیکر اسلام آباد ہائی کورٹ کی بھی توہین کی ہے کہ وہ کئی سال سے مقدمے کو سمجھے بغیر احکامات جاری کرتی رہی۔ جب سنگل بنچ، اور جسٹس اعجاز اسحاق نے احکامات دیے اس وقت بھی اٹارنی جنرل آفس نے عافیہ کے امریکی ہونے کی بات نہیں کی، اور اب جبکہ لارجر بنچ نے بھی ایمائکس بریف تیار کرنے کا حکم دے دیا تو کہا جارہا ہے کہ عافیہ امریکی شہری ہے، اگر ایسا ہوتا تو عافیہ کے گھر والے اور عافیہ موومنٹ پاکستانی عدالتوں میں کیوں درخواست دیتے، یہاں سر پھوڑنے کے بجائے، براہ راست امریکا کی عدالت چلے جاتے اور اب تک عافیہ رہا بھی ہوچکی ہوتی۔ اکثر دیکھا گیا ہے کہ جو لوگ، ادارے یا مدعا الیہ کمزور موقف رکھتے ہوں، دلائل نہ ہوں یا ان کی نیت میں خرابی ہو تو وہ اچانک عدالت کے دائرہ اختیار ہی کو چیلنج کردیتے ہیں، اس معاملے میں تو ساری ہی چیزیں لگ رہی ہیں، موقف مضبوط بلکہ ہے ہی نہیں، دلائل بھی تب ہی لاتے جب موقف مضبوط ہوتا بلکہ حقیقت یہی ہے کہ نیت ہی میں خرابی ہے۔ اس معاملے میں ہم نے عافیہ موومنٹ سے رابطہ کیا تو جواب ملا کہ نہایت نامعقول بات کہی گئی ہے اس کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں۔ عافیہ موومنٹ کے ترجمان نے کہا کہ معاملہ عدالت میں ہے اور ہمیں یقین ہے کہ عدالت اٹارنی جنرل آفس کا ریکارڈ بھی درست کروادے گی۔ لہٰذا کہیں بھی جذبات کو قابو سے باہر نہ ہونے دیا جائے۔
پاکستان کے تناظر میں دیکھا جائے تو اسے سازش بھی کہا جاسکتا ہے کیونکہ اٹارنی جنرل آفس حکومت کا ترجمان ہے، اس کے افسران حکومت کی زبان ہوتے ہیں از خود کچھ نہیں بولتے لہٰذا ایڈیشنل اٹارنی جنرل کے بیان کو صرف حماقت نہیں سمجھا جاسکتا، سازش کا پہلو پیش نظر رہنا چاہیے۔ کیونکہ حکومت عافیہ کیس سے پہلے ہی جان چھڑانا چاہتی ہے، بہت کچھ کرلیا اور سب کچھ کرلیا بھی کہہ چکی ہے۔ چنانچہ اس غیر حقیقی بیان کے ذریعے شبہات پیدا کیے گئے ہیں، ہوسکتا ہے یہ کوشش بھی کی جائے کہ عافیہ کے پاکستانی شہری ہونے کا ثبوت طلب کیا جائے اور اس چکر میں مزید وقت ضائع کردیا جائے۔ ڈاکٹر عافیہ کے ساتھ بائیس برس سے ظلم جاری ہے اس کی باگرام میں موجودگی کا انکشاف کرنے والے عمران خان وزیراعظم بھی بنے ساڑھے تین سال پارلیمنٹ سے جی ایچ کیو تک سب کی مکمل سرپرستی کے باوجود عافیہ ان کی ترجیح نہیں رہی، ان کے علاوہ پیپلزپارٹی کو اور نواز شریف کو بھی دودو مواقع ملے اب شہباز شریف دوسری مرتبہ وزیر اعظم ہیں، لیکن سب نے بالاتفاق بار بار عافیہ میری بیٹی میری بیٹی کی تکرار کی، لیکن عافیہ کو کوئی نہ لاسکا۔ البتہ پیپلز پارٹی کے وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی نے یہی فرمایا تھا کہ عافیہ امریکی شہری ہے پھر بھی ہم نے اسے وکیل کرکے دیا تھا، یہ اور بات ہے کہ وکیل شاید سزا یقینی بنانے کے لیے تھا عافیہ کو رہا کرانے کے لیے نہیں، چنانچہ عافیہ کو چھیاسی برس کی سزا ہوگئی۔ مسلم لیگ کی حکومت ہے میاں نواز شریف نے ڈاکٹر عافیہ کے گھر آکر ان کی والدہ سے کہا تھا کہ عافیہ میری بچی ہے اسے میں لاؤں گا۔ لیکن بار بار موقع ملنے کے باوجود وہ عافیہ کو نہیں لائے، تو ڈاکٹر عافیہ کی والدہ نے توجہ دلائی کہ میاں صاحب جہاں تشریف رکھتے تھے، ان کے سر کے عین اوپر قرآن کی یہ آیت درج تھی کہ ’’تم وہ بات کیوں کہتے ہو جو کرتے نہیں‘‘ اور میاں صاحب اس آیت کے مصداق یہی کرتے رہے۔ اب بھی اگر حکومت مین ذرہ برابر بھی حیا ہو تو فوری طور پر انسانی ہمدردی کی بنیاد پر رہائی کی درخواست، ایمائکس بریف تیار کرے اور امریکی عدالت میں جمع کرادے۔
چند حقائق تازہ کر لیے جائیں: 1، عافیہ پاکستانی شہری ہے، اس نے امریکی شہریت کی درخواست بھی نہیں دی۔ 2، عافیہ کا پاکستانی پاسپورٹ اور قانونی دستاویزات جیو ٹی وی کے حامد میر کے پروگرام اور عدالتوں میں بھی پیش کی جاچکیں۔ 3، عافیہ کو پاکستان سے بچوں سمیت اغوا کیا گیا۔ 4، جنرل پرویز مشرف نے عافیہ کی فروخت کا خود اعتراف کیا۔ 5، عافیہ پر جو الزامات لگے امریکی عدالت میں بھی ان مین سے کوئی ثابت نہ ہوسکا۔
نہ بندوق پر کوئی نشان، نہ ٹرائگر پر کوئی نشان، کسی فوجی کو گولی نہیں لگی، کمرے میں گولیوں کے کوئی نشان نہیں، گن سے گولیاں فائر کرنے کا ثبوت بھی نہیں ملا، اور حیرت انگیز طور پر عافیہ کو گولیاں لگ گئیں۔ امریکی عدالت میں بھی دفاع کی کوئی اجازت نہیں ملی اور یکطرفہ طور پر 86 سال کی سزا سنادی گئی۔ ویسے ایڈیشنل اٹارنی جنرل کا یہ کہنا درست ہے کہ ہم امریکی نظام میں مداخلت نہیں کرسکتے، ان سے یہ سوال بھی پوچھا جاسکتا ہے کہ پھر پاکستان میں امریکی مداخلت کیوں قبول کی جاتی ہے۔

ڈاکٹر محمد طیب خان سنگھانوی.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: ایڈیشنل اٹارنی جنرل اٹارنی جنرل ا فس پاکستانی شہری ڈاکٹر عافیہ عدالت میں کی عدالت عافیہ کے عافیہ کی عافیہ کو

پڑھیں:

جدہ قونصل خانے میں اہم انتظامی تبدیلی، فرینہ ارشد نے ڈپٹی قونصل جنرل کا عہدہ سنبھال لیا

جدہ قونصل خانے میں اہم انتظامی تبدیلی، فرینہ ارشد نے ڈپٹی قونصل جنرل کا عہدہ سنبھال لیا WhatsAppFacebookX 0 23 July, 2026 سب نیوز

جد ہ (خالد نواز چیمہ )قونصل خانہ جنرل پاکستان، جدہ میں ڈپٹی قونصل جنرل کے عہدے پر اہم انتظامی تبدیلی عمل میں آ گئی ہے۔ وزارتِ خارجہ پاکستان کی جانب سے محترمہ فرینہ ارشد کو ڈپٹی قونصل جنرل، جدہ تعینات کیا گیا ہے، جنہوں نے اپنی ذمہ داریاں باقاعدہ طور پر سنبھال لی ہیں۔

محترمہ فرینہ ارشد ایک سینئر اور تجربہ کار کیریئر سفارت کار ہیں، جنہیں سفارتی خدمات کا پندرہ سال سے زائد کا وسیع تجربہ حاصل ہے۔ اپنے پیشہ ورانہ کیریئر کے دوران وہ مختلف اہم سفارتی اور انتظامی ذمہ داریوں پر خدمات انجام دے چکی ہیں اور اپنی صلاحیتوں کے باعث وزارتِ خارجہ کے ممتاز افسران میں شمار ہوتی ہیں۔

قونصل خانہ جنرل پاکستان، جدہ کی جانب سے محترمہ فرینہ ارشد کا خیرمقدم کرتے ہوئے ان کے لیے نیک تمناں کا اظہار کیا گیا ہے۔ قونصل خانے نے امید ظاہر کی ہے کہ وہ اپنی پیشہ ورانہ مہارت، تجربے اور قائدانہ صلاحیتوں کو بروئے کار لاتے ہوئے پاکستانی کمیونٹی کو فراہم کی جانے والی قونصلر خدمات کو مزید مثر، تیز رفتار اور عوام دوست بنانے کے ساتھ ساتھ پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان دوطرفہ تعلقات کے فروغ میں بھی اہم کردار ادا کریں گی۔

دوسری جانب، سابق ڈپٹی قونصل جنرل محترمہ سعدیہ وقار النسا کو فوری طور پر پاکستان واپس رپورٹ کرنے کی ہدایت جاری کر دی گئی ہے۔ انہوں نے اپنے دورِ تعیناتی کے دوران پاکستانی کمیونٹی کی خدمت، قونصلر امور اور عوامی مسائل کے حل کے لیے قابلِ قدر خدمات انجام دیں، جنہیں کمیونٹی کی جانب سے سراہا گیا۔

واضح رہے کہ قونصل خانہ جنرل پاکستان، جدہ میں ڈپٹی قونصل جنرل کا منصب انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔ اس عہدے پر تعینات افسر سعودی عرب کے مغربی ریجن میں مقیم لاکھوں پاکستانیوں کو قونصلر خدمات کی فراہمی، کمیونٹی ویلفیئر، عوامی رابطوں اور پاکستان و سعودی عرب کے برادرانہ تعلقات کے استحکام میں کلیدی کردار ادا کرتا ہے۔

روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔

WhatsAppFacebookX پچھلی خبرمقبوضہ کشمیر میں 1989 سے اب تک 96 ہزار 499 شہادتیں، ایک لاکھ 84 ہزار سے زائد گرفتاریاں: رپورٹ اگلی خبرامریکا کی جانب سے ایران پر بمباری کیلئے برطانوی ائیربیس کا استعمال، پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو سخت ردعمل کی دھمکی پاکستان میں اسمارٹ فون کا استعمال 62 سے بڑھ کر 72 فیصد تک پہنچ گیا، وزیراعظم کو بریفنگ پاکستان کو درپیش خطرات کا باعث بننے والے دہشتگردوں اور ان کے سہولتکاروں کا ہر قیمت پر خاتمہ کیا جائے گا، فیلڈ مارشل سید... صدر ٹرمپ کی پالیسی آنکھ کے بدلے سرکی ہے، ایران کو ہر گزرتی رات کیساتھ بھاری قیمت چکانا ہوگی: مارکو روبیو کا انتباہ ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدے کو معاہدہ ابراہیمی میں شمولیت سے مشروط کردیا آزاد کشمیر کے شہر میرپور میں 45 روز بعد موبائل فون اور انٹرنیٹ سروس بحال ہونا شروع امریکا کی جانب سے ایران پر بمباری کیلئے برطانوی ائیربیس کا استعمال، پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو سخت ردعمل کی دھمکی TikTokTikTokMail-1MailTwitterTwitterFacebookFacebookYouTubeYouTubeInstagramInstagram

Copyright © 2026, All Rights Reserved

رابطہ کریں ہماری ٹیم

متعلقہ مضامین

  • مشرق وسطیٰ کی صورتحال کنٹرول سے باہر ہوتی جارہی ہے، سیکریٹری جنرل اقوام متحدہ
  • کراچی: زیادتی کی شکار غیرملکی خاتون نے ملزم کو معاف کردیا
  • کوہستان مالیاتی اسکینڈل، عدالت کا 21 کروڑ 13 لاکھ سے زائد ضبط کرنے کا حکم
  • نذیر احمد جنجوعہ قائم مقام سیکرٹری جنرل جماعت اسلامی پاکستان مقرر
  • ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل خیبر پختونخوا اپنے عہدے سے مستعفی
  • برطانیہ؛ 70 ارکانِ کا نئے وزیراعظم کو خط؛ اسرائیل کیخلاف سخت اقدامات کا مطالبہ
  • جدہ قونصل خانے میں اہم انتظامی تبدیلی، فرینہ ارشد نے ڈپٹی قونصل جنرل کا عہدہ سنبھال لیا
  • جماعت اسلامی کے سیکریٹری جنرل امیرالعظیم انتقال کرگئے
  • ایک ملک نے پاکستانیوں کیلیے ویزہ فیس ختم کردی
  • خیبرپختونخوا؛ کوہستان مالیاتی اسکینڈل، عدالت کا 21 کروڑ 13 لاکھ سے زائد ضبط کرنے کا حکم