Jasarat News:
2026-07-24@14:48:56 GMT

رشتوں کا انتخاب

اشاعت کی تاریخ: 5th, December 2025 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

رشتوں کے انتخاب کا معیار کیا ہو، اس بارے میں قرآن مجید کی ایک آیت سے ہمیں بہت واضح اور فیصلہ کن رہنمائی ملتی ہے، سورہ تحریم میں اللہ تعالی ازواج مطہرات کو مخاطب کرکے فرماتا ہے کہ اگر نبی تم کو طلاق دے دیں تو بہت ممکن ہے کہ اللہ تمہاری جگہ انہیں تم سے بہتر بیویاں عطا کردے، جو مسلمہ ہوں، مومنہ ہوں، قانتہ ہوں، تائبہ ہوں، عابدہ ہوں، سائحہ ہوں، اور غیر کنواری بھی ہوں اور کنواری بھی ہوں (التحريم: 5)۔

مفسرین کو اس مقام پر سخت حیرانی ہوئی کہ جب موجودہ بیویوں کی نعم البدل بیویوں کی بات کی جارہی ہے تو ثیبات کا ذکر کیوں کیا گیا، صرف کنواری کا ذکر کیوں نہیں کیا گیا، مردوں کی رغبت تو کنواری عورت کی طرف زیادہ ہوتی ہے، اور کسی کا ثیب ہونا تو ایک عیب قرار پاتا ہے، اس حیرانی کو دور کرنے کے لیے امام رازی نے عجیب وغریب بات کہی:
ثیبات کو مدح کے مقام میں ذکر کیا گیا، حالانکہ ان کی طرف تو مردوں کی رغبت کم ہوتی ہے، ہم کہتے ہیں: ہوسکتا ہے کہ بعض ثیبات رسول پاک کے نزدیک بعض کنواریوں سے بہتر ہوں مال یا جمال یا نسب یا ان سب کے مجموعے میں خصوصی مقام رکھنے کی وجہ سے، اور اگر ایسا ہے تو ثیبات کو مدح کے مقام پر ذکر کرنے میں کوئی عیب کی بات نہیں ہے، کیوں کہ ہوسکتا ہے ثیبات سے مراد ویسی ثیبات ہوں جن کا ہم نے ذکر کیا (تفسير الرازی)۔

گویا امام صاحب کے لیے یہ ماننا ممکن نہیں تھا کہ ثیب ہونا ایک خوبی بھی ہوسکتی ہے، یا کم از کم بکر کے درجے کی صفت تو ہو ہی سکتی ہے۔
امام ابن کثیر نے اس مشكل کو دوسرے طریقے سے حل کرنے کی کوشش کی ہے، وہ لکھتے ہیں:
کچھ ثیبات اور کچھ کنواریاں ہوں گی کہ یہ نفس کے لیے زیادہ لذت بخش ہے، کیونکہ تنوع سے نفس کو فرحت حاصل ہوتی ہے۔
امام ابن عاشور نے آیت کی روح برقرار رکھتے ہوئے دونوں کی خوبیوں پر گفتگو کی ہے، اور واضح کیا ہے کہ دونوں کیفیتیں اپنی اپنی جگہ خوبی قرار پاسکتی ہیں، وہ رقم کرتے ہیں:
آیت مذکورہ سے یہ بات تو بہت واضح ہوکر سامنے آجاتی ہے کہ قابل ترجیح وانتخاب خاتون دراصل وہ ہے جو دینی اوصاف سے مالا مال ہو، اس کے علاوہ وہ ثیب ہو یا بکر ہو، دونوں ہی موزوں اور لائق انتخاب ہوتی ہیں، شریعت کی نظر میں بھی اور عقل وخرد کی رو سے بھی دونوں میں کسی کو کسی پر ترجیح اور فوقیت حاصل نہیں ہے۔ اللہ تعالی نے اس آیت میں پہلے ثیبات کا تذکرہ کرکے بکر کو ثیب پر ترجیح دینے کا ایک ممکنہ راستہ بھی بند کردیا، ورنہ اگر ابکار پہلے ہوتا تو اس کے مقدم ہونے کو اس کی افضلیت پر محمول کیا جاسکتا تھا (التحرير والتنوير)۔

سورہ احزاب کی آیت نمبر (36) کی تفسیر کرتے ہوئے علامہ قرطبی بڑی قیمتی اور اہم حقیقت پر سے پردہ اٹھاتے ہیں:
س آیت میں صریح دلیل ہے کہ حسب ونسب میں کفائت معتبر نہیں ہے، بلکہ دین میں کفائت معتبر ہے، برخلاف مالک شافعی مغیرہ اور سحنون کے۔ اس لیے کہ موالی نے قریش میں شادیاں کیں، زید نے زینب بنت جحش سے، مقداد بن أسود نے ضباعہ بنت زبیر سے، ابوحذیفہ نے سالم کی شادی فاطمہ بنت ولید بن عقبہ سے کرادی، اور بلال نے عبدالرحمن بن عوف کی بہن سے شادی کی (تفسير القرطبي)۔
یہی وہ بڑی تبدیلی ہے جو اللہ کے رسولؐ کی اصلاحی جدوجہد کے نتیجے میں ظاہر ہوئی تھی۔ اس روشن تاریخی حقیقت کو بے غبار رکھنا ہماری ذمے داری ہے۔

رشتوں کے معیار انتخاب کے تعلق سے اسلامی لٹریچر میں بہت ساری باتیں ملتی ہیں، فقہاء نے روایات وآثار کی روشنی میں قواعد وضوابط اور آداب ومندوبات پر بھی گفتگو کی ہے، اس باب میں متعدد روایات وآثار ہیں، جن میں سے بعض کا یہاں ذکر کیا گیا ہے، تاہم اس بات پر ہمیں پورا اطمینان ہونا چاہیے کہ صالحیت اور دینداری کو معیار بنانے کا جن روایتوں میں تذکرہ ہے، وہی اس باب میں اصل الاصول کی حیثییت رکھتی ہیں، اور ان کے علاوہ جو روایتیں ہیں، وہ چونکہ اپنے مکمل سیاق کے ساتھ ہم تک نہیں پہنچی ہیں، اس لیے ان کے سلسلے میں توقف کرنا ہی محتاط رویہ ہے۔ ہم روایات کی تصحیح وتضعیف، اور ان کی توجیہ وتاویل سے متعلق جو رویہ بھی اختیار کریں، ہماری نظر سے یہ حقیقت اوجھل نہیں ہونا چاہیے کہ اللہ کے رسولؐ پوری امت کے خیرخواہ اور ہمدرد تھے، آپؐ کی پوری زندگی انسانوں سے ہمدردی کی تصویر تھی، اور آپ نے ایسے افراد تیار کیے تھے جو ذاتی مصالح سے زیادہ انسانی ہمدردی کے جذبے سے سرشار تھے، انسانی ہمدردی سیرت طیبہ کا بہت نمایاں امتیاز ہے۔ اس امتیاز پر کوئی آنچ نہیں آئے یہ ہم سب کی ذمے داری ہے۔

رشتوں کے انتخاب کا معیار ذکر کرتے ہوئے اخلاقی سطح پر دو باتوں کا خیال رکھنا ضروری ہے۔
اول، معیار وہ ہو جو ہر کسی کے لیے قابل حصول ہو، اور اس کے حصول کی سعی کرنا اور اس کے لیے مسابقت کرنا مطلوب اور پسندیدہ بھی ہو۔
دوم، معیار ایسا ہو کہ اس کو طے کرنا، اس کو رواج دینا اور اس کا اشتہار کرنا پورے معاشرے کے لیے خیر وبرکت کا باعث ہو، اور اس میں سب کے ساتھ ہمدردی وغمگساری کا تصور موجود ہو۔
ہمیں فخر ہے کہ ہم ایسے نبی کے امتی ہیں جس کی سیرت پاک میں ہمیں معیار انتخاب کے ان دونوں تقاضوں کا بھرپور خیال اور زبردست لحاظ نظر آتا ہے۔

ڈاکٹر محی الدین غازی گلزار.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: کیا گیا کے لیے بھی ہو

پڑھیں:

حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف

حیدرآباد الیکٹرک سپلائی کمپنی (حیسکو) میں تنخواہوں اور الاؤنسز کی مد میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کرپشن کا انکشاف ہوا ہے۔

قومی اسمبلی کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے اجلاس میں آڈٹ حکام نے انکشاف کیا کہ حیسکو میں گھوسٹ ملازمین، ڈبل تنخواہوں کے ذریعے قومی خزانے کو نقصان پہنچایا گیا اور وفاقی تحقیقاتی ادارہ (ایف آئی اے)99 کروڑ 62 لاکھ کی مبینہ کرپشن کی تحقیقات کر رہا ہے۔

آڈٹ حکام نے مزید انکشاف کیا کہ حیسکو کی اندرونی انکوائری میں مزید 6 کروڑ 78 لاکھ روپے کی مشتبہ ادائیگیاں ہوئی ہیں۔

چیئرمین کمیٹی شاہدہ اختر کی زیرصدارت اجلاس میں ایف آئی اے حکام نے بتایا کہ اس معاملے میں ایف آئی آرز کی تعداد 5 ہوگئی تھی، 151 ملزمان تھے جن میں سے 14 کو گرفتار کیا گیا جبکہ دیگر ضمانت پر ہیں، ایک ارب روپے میں سے 13 کروڑ روپے کی ریکوری ہوئی ہے۔

رکن کمیٹی قاسم نون نے کہا کہ 13 کروڑ روپے کچھ بھی نہیں ہیں، سخت ایکشن لیا جائے، سید امین الحق نے کہا کہ گھوسٹ ملازمین کی تصدیق بھی کی گئی کہ وہ موجود ہیں۔

سینیٹر افنان اللہ خان نے کہا کہ وزارت کو چاہیے کہ وہ مداخلت کرے اور ذمہ داران کا تعین کرے۔

چیئرمین کمیٹی شاہد اختر نے کہا کہ یہ تو آڈٹ نے نشان دہی کر دی ہے، لگتا ہے کہ پاور ڈویژن کا کوئی چیک اینڈ بیلنس نہیں ہے، جس پر سی ای او حیسکو نے بتایا کہ 756 ملین روپے کی ذمہ داری بھی فکس ہو چکی ہے۔

شاہدہ اختر نے کہا کہ عدالت کے حکم تک یہ آڈٹ پیرا زیر التوا رہے گا، رکن کمیٹی سید حسین طارق نے سوال کیا کہ حیسکو میں بائیو میٹرک سسٹم کیوں نہیں ہے۔

پاکستان پیپلزپارٹی (پی پی پی) کی رکن شازیہ مری نے کہا کہ ہم ڈسکوز کو یہاں کمنٹس کے لیے نہیں احتساب کے لیے بلاتے ہیں، یہ لوگوں کو چور کہتے ہیں اور اپنی پرفارمنس کے گیت گاتے نہیں تھکتے۔

پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نے ہدایت کی کہ 13 کروڑ روپے کی ریکوری کی آڈٹ سے تصدیق کرائی جائے، جو ریکوری رہ گئی ہے وہ معاملہ زیر التوا رہے گا۔

متعلقہ مضامین

  • اگر آپ ذہین ہیں تو اس لاکر کا درست کوڈ بتایئے؟
  • موضوع: کربلا میں خواتین کا کردار اور ھم
  • اسلامی اقدار اور جدید دور
  • گوگل کا نیا سیکیورٹی فیچر، کیا اب پاس ورڈ کی ضرورت ہی نہیں رہے گی؟
  • نیٹ فلکس کی پہلی پاکستانی اوریجنل سیریز ’جو بچے ہیں سنگ سمیٹ لو‘ کب ریلیز ہو گی؟
  • ’ابھی ہو گیا، بس‘، سونو نگم نے نیٹ احتجاج پر تبصرہ کرنے سے انکار کر دیا
  • قائداعظم کے بارے میں سازشی تھیوریز نہ گھڑیں
  • باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟
  • پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا
  • حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف