چیئرمین ایچ ای سی کا انتخاب یا خالد مقبول کا امتحان؛ ٹاپ امیدواروں کے حتمی انٹرویوز جمعہ کو ہونگے
اشاعت کی تاریخ: 4th, December 2025 GMT
کراچی:
اعلیٰ تعلیمی کمیشن آف پاکستان کے چیئرمین کی تقرری کے لیے شارٹ لسٹڈ 5 امیدواروں کے حتمی انٹرویوز جمعہ کو ہوں گے جسے انٹرویو دینے والے امیدواروں کے ذہانت و مہارت کے امتحان سے زیادہ تلاش کمیٹی search committee کے کنوینر اور وفاقی وزیر تعلیم ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی کا امتحان قرار دیا جارہا ہے۔
اس عہدے کے لیے آنے والی ساڑھے 5 سو درخواستوں کی اسکروٹنی اور ازاں بعد پہلے مرحلے میں کیے گئے 30 امیدواروں کے انٹرویوز میں سے نکالے گئے 5 امیدواروں میں سے "ٹاپ آف دی ٹاپ" دو امیدوارہیں۔ یہ امیدوار سندھ سے پروفیسر ڈاکٹر سروش حشمت لودھی جبکہ پنجاب سے پروفیسر ڈاکٹر محمد علی شاہ ہیں۔
اعلیٰ تعلیمی حلقوں کا خیال ہے کہ ان دونوں امیدواروں کی تعلیمی قابلیت و پیشہ ورانہ مہارت کے درمیان ہی اصل مقابلہ ہے تاہم ایک تیسرے امیدوار قائد اعظم یونیورسٹی اسلام آباد کے وائس چانسلر ڈاکٹر نیاز احمد بھی قابل ذکر امیدوار ہیں۔ اس لیے اول الذکر دونوں امیدواروں کے مابین بہتر سے بہترین کا انتخاب ہی دراصل ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی کا امتحان ہوگا اور دیکھنا ہوگا کہ چیئرمین ایچ ای سی کے لیے قرعہ فال کس کے نام نکلتا ہے۔
واضح رہے کہ ڈاکٹر سروش حشمت لودھی 8 برس تک این ای ڈی یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی کے وائس چانسلر رہنے کے بعد اب تقریباً ایک برس سے چارٹر انسپیکشن اینڈ ایویلیوایشن کمیٹی کے چیئرمین کی حیثیت سے خدمات انجام دے رہے ہیں جو سندھ ایچ ای سی کا ہی حصہ ہے۔
انھوں نے این ای ڈی یونیورسٹی کی کمان 2015ء میں ایسے وقت میں سنبھالی تھی جب یونیورسٹی شدید مالی بحران کا شکار تھی اور 8 برس میں وہ نہ صرف 440 ملین روپے سے زائد کے خسارے پر قابو پانے میں کامیاب رہے بلکہ 11,400 ملین روپے کی مجموعی سرمایہ کاری بھی یونیورسٹی کے لیے چھوڑی جس میں ساڑھے 3 ہزار ملین روپے کا پنشن فنڈ اور 5 ہزار ملین روپے سے زائد کا انڈومنٹ فنڈ شامل ہے۔
ڈاکٹر سروش لودھی جب این ای ڈی یونیورسٹی کے وائس چانسلر مقرر ہوئے تو اس وقت یونیورسٹی کے پاس کل تعلیمی پروگراموں کی کل تعداد 88 تھی جبکہ ان کی سبکدوشی کے وقت یونیورسٹی 117 تعلیمی ضابطوں کے ساتھ کام کررہی ہے جبکہ سندھ کے دور دراز اور پسماندہ ترین علاقے تھر میں "تھر انسٹی ٹیوٹ آف انجینئرنگ، سائنس اینڈ ٹیکنالوجی" بھی قائم کیا۔
ڈاکٹر سروش لودھی نے 24 ارب روپے سے پاکستان کے پہلے ٹیکنالوجی پارک کا منصوبہ پیش کیا پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے تحت یہ منصوبہ اب آغاز کے قریب ہے۔
ادھر پنجاب یونیورسٹی کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر محمد علی شاہ بطور سائنسدان مالیکیولر بائیولوجسٹ دو قومی اعزازات حاصل کرچکے ہیں ان کی تحقیقی سرگرمیوں کا دائرہ کار اطلاقی حیاتیات، انسانی جینیات، وبائیات ، خرد حیاتیات، نیورو سائنسز اور بائیو ٹیکنالوجی ہے وہ 40 طلبہ کو پی ایچ ڈی اور 100 کو ایم فل کراچکے ہیں۔
انھوں نے سرچ کمیٹی کو دیے گئے اپنے انٹرویو میں ایسے ڈگری پروگرام متعارف کرانے کی بات کی ہے جو عالمی سطح پر تسلیم اور ملکی ترقی کی ضروریات کے مطابق ہوں جبکہ دہرے نظام کے بجائے بی پی ایس اور ٹی ٹی ایس کے لیے یکساں پالیسی مرتب کرنے کی بات کی ہے۔
علاوہ ازیں ڈاکٹر نیاز احمد اس وقت قائد اعظم یونیورسٹی کے وائس چانسلر ہیں وہ پنجاب یونیورسٹی، یونیورسٹی آف ساہیوال کے وائس چانسلر، نیشنل ٹیکسٹائل یونیورسٹی فیصل آباد کے ریکٹر، یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی، ٹیکسلا کے وائس چانسلر اور انفارمیشن ٹیکنالوجی یونیورسٹی لاہور کے وائس چانسلر رہ چکے ہیں۔
علاوہ ازیں دیگر دو امیدواروں میں ڈاکٹر سرفراز خالد اور ڈاکٹر خالد حفیظ شامل ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: کے وائس چانسلر امیدواروں کے یونیورسٹی کے ڈاکٹر سروش ملین روپے کے لیے
پڑھیں:
مولانا محمد علی جوہر یونیورسٹی کو بچانے کیلئے طلباء کا احتجاج جاری، ہزاروں طلباء کا احتجاج
طالب علم نے سوال کیا کہ اگر یونیورسٹی کے خلاف کارروائی ہوئی تو ہمارے مستقبل کی ذمہ داری کون لے گا، ہم صرف حکومت، ضلعی انتظامیہ اور عدالت سے اپیل کررہے ہیں کہ ہماری یونیورسٹی کو نہ گرایا جائے۔ اسلام ٹائمز۔ انتظامیہ نے جوہر یونیورسٹی کی 40 میں سے 38 عمارتوں کو منہدم کرنے کے احکامات جاری کئے ہیں۔ یونیورسٹی میں زیر تعلیم اور فارغ طلباء ان احکامات کی مخالفت میں سڑکوں پر آگئے ہیں۔ یونیورسٹی کے روبرو گزشتہ کئی دن سے طلباء احتجاج کررہے ہیں۔ احتجاج میں شریک بی اے ایل ایل بی کی تیسرے سال کی طالبہ لائبہ نے کہا کہ تمام طلبہ اپنے پرامن مظاہرے کو لے کر متحد ہیں اور جب تک ان کی اپیل کی سماعت نہیں ہو جاتی اپنا دھرنا جاری رکھیں گے۔ لائبہ نے کہا "یہ بلڈوزر صرف یونیورسٹی کی عمارتوں پر نہیں چلے گا، یہ ہمارے مستقبل، ہمارے خوابوں اور ہماری ڈگریوں کو کچل دے گا"۔ طالبہ نے زور دے کر کہا "ہر مسئلے کا حل ہوتا ہے لیکن یونیورسٹی کو گرانا اس کا حل نہیں ہے"۔ لائبہ نے بتایا کہ طلباء کا ابتدائی مطالبہ کونسلنگ کیمپ کو ہٹانے کا تھا، انتظامیہ نے اس کی درخواست پوری کر دی ہے۔
اب ان کی بنیادی فکر یونیورسٹی کی عمارتوں کو برقرار رکھنے کو یقینی بنانا ہے تاکہ ان کی تعلیم میں خلل نہ پڑے۔ ایک طالبہ نے کہا کہ بہت سے والدین نے یونیورسٹی کے نظام اور ماحول پر بھروسہ کرتے ہوئے اپنی بیٹیوں کا داخلہ یہاں کرایا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر یونیورسٹی کے خلاف کارروائی کی گئی تو سب سے زیادہ نقصان ان طلبہ کا ہوگا جن کے اہل خانہ انہیں دوسرے شہر بھیجنے کو تیار نہیں۔ ایک طالب علم نے کہا "میں فی الحال اپنے تیسرے سال میں ہوں، پہلے ہی دو سال کی تعلیم مکمل کر چکا ہوں"۔ طالب علم نے سوال کیا کہ اگر یونیورسٹی کے خلاف کارروائی ہوئی تو ہمارے مستقبل کی ذمہ داری کون لے گا، ہم صرف حکومت، ضلعی انتظامیہ اور عدالت سے اپیل کر رہے ہیں کہ ہماری یونیورسٹی کو نہ گرایا جائے۔ فی الحال طلباء کا احتجاج جاری ہے کیونکہ وہ ضلعی انتظامیہ اور عدالت کے فیصلوں کا انتظار کر رہے ہیں۔ دیکھنا یہ ہے کہ انتظامیہ اس معاملے میں کیا فیصلہ کرے گی اور طلبہ کی جذباتی اپیل کے جواب میں کیا اقدامات کیے جائیں گے۔
دوسری جانب طلباء کی اس تحریک کو سماجوادی پارٹی کا ساتھ مل رہا ہے۔ امروہہ صدر کے ایس پی ایم ایل اے، سابق کابینہ وزیر، اور پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے موجودہ چیئرمین محبوب علی کو رام پور پہنچنے سے پہلے ہی پولیس نے جمعرات کو ان کی امروہہ کی رہائش گاہ پر روک لیا۔ اس کارروائی سے ایس پی کارکنوں میں خاصی ناراضگی پھیل گئی۔ حامیوں کی ایک بڑی تعداد ان کے گھر کے باہر احتجاج کے لیے جمع ہوئی اور حکومت کے خلاف شدید نعرے بازی کی۔ محبوب علی نے الزام لگایا کہ وہ جمعرات کو صبح 11 بجے کے قریب اپنے حامیوں کے ساتھ رام پور کے لیے روانہ ہونے والے تھے۔ ان کا منصوبہ تھا کہ وہ رات 12 بجے تک جوہر یونیورسٹی پہنچ جائیں گے۔ تاہم امروہہ پولیس اس سے پہلے ہی ان کی رہائش گاہ پر پہنچ گئی اور انہیں باہر نکلنے سے روک دیا۔
انہوں نے کہا کہ انہیں بغیر کوئی واضح وجہ بتائے اپنا گھر چھوڑنے کی اجازت دینے سے انکار کر دیا گیا۔ اس کارروائی کو جمہوری حقوق کی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے، ایس پی ایم ایل اے نے کہا کہ حکومت سیاسی مخالفین کی آوازوں کو دبانے کی کوشش کر رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ عوامی نمائندے کو پرامن سفر کرنے اور اپنے خیالات کا اظہار کرنے سے روکنا جمہوری نظام کے لیے نامناسب ہے۔ کارکنوں نے اس کارروائی کے خلاف احتجاج کیا اور حکومت کے خلاف نعرے لگائے اور اسے سیاسی انتقام کی کارروائی قرار دیا۔ صورتحال کو دیکھتے ہوئے پولیس کی بھاری نفری رہائش گاہ کے باہر متعین کر دی گئی تاکہ رونما ہونے والے واقعات پر نظر رکھی جا سکے۔
اس دوران محبوب علی نے بھی جوہر یونیورسٹی کے حوالے سے اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ یونیورسٹی کی 38 عمارتوں کو گرانے کے مجوزہ اقدام کو فوری طور پر روکا جانا چاہیئے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ اس پورے معاملے کا غیر جانبدارانہ اور شفاف جائزہ لیا جائے، اس بات کو یقینی بناتے ہوئے کہ تمام متعلقہ فریقین کو اپنا کیس پیش کرنے کا پورا موقع دیا جائے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ کوئی بھی انتظامی یا قانونی کارروائی یونیورسٹی میں زیر تعلیم طلباء کو سب سے زیادہ متاثر کرتی ہے۔ اس لئے ان کی پڑھائی، امتحانات اور دیگر تعلیمی سرگرمیوں میں کسی بھی طرح رکاوٹ نہیں ڈالی جانی چاہیئے، کیونکہ کہ یہ صرف عمارتوں کا مسئلہ نہیں ہے بلکہ ہزاروں طلباء کے مستقبل کا سوال ہے۔