پاکستان اور کرغزستان نے تجارتی حجم 20 کروڑ ڈالر تک بڑھانے پر اتفاق کیا ہے، وزیراعظم شہباز شریف
اشاعت کی تاریخ: 4th, December 2025 GMT
وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ پاکستان اور کرغزستان نے تجارتی حجم 20 کروڑ ڈالر تک بڑھانے پر اتفاق کیا ہے۔
وزیراعظم شہباز شریف نے اسلام آباد میں بزنس فورم سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ چین، کرغزستان، ازبکستان ریلوے منصوبہ خطے کے لیے اہم ہے، یہ منصوبہ خطے کے لیے اہم معاشی موقع ہے، کراچی اور گوادر کرغزستان کے لیے بہترین رسائی فراہم کرسکتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: کرغزستان کے ساتھ تعلقات کو نئی بلندیوں پر لے جائیں گے، وزیراعظم شہباز شریف
وزیراعظم نے کہا کہ کرغزستان کا وفد 20 سال بعد پاکستان آیا ہے، دونوں ممالک نے تجارتی حجم 20 کروڑ ڈالر تک بڑھانے پر اتفاق کیا ہے، ہم نے زراعت اور ٹورازم میں بھی باہمی تعاون بڑھانے پر اتفاق کیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان کے ساڑھے 8 ہزار طلبہ کرغزستان میں میڈیکل کی تعلیم حاصل کررہے ہیں، کاسا 1000 کے لیے پاکستان اپنی مکمل حمایت جاری رکھے گا۔
اس سے قبل وزیراعظم شہباز شریف سے کرغزستان کے صدر ژاپاروف نے ملاقات کی، ملاقات میں پاکستان اور کرغزستان نے مختلف شعبوں میں تعاون کو مزید بڑھانے کے عزم کا اعادہ کیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان اور کرغزستان کے درمیان متعدد شعبوں میں معاہدوں اور مفاہمتی یادداشتوں کا تبادلہ
ملاقات میں تجارت، توانائی، مواصلات اور دیگر مختلف شعبوں میں باہمی تعاون پر تفصیلی گفتگو کی گئی۔
وزیراعظم نے کہا کہ 20 سال بعد کرغزستان کے سربراہ کا پاکستان کا دورہ نہایت خوش آئند ہے اور دوطرفہ تعاون کو مزید فروغ دینے میں صدر ژاپاروف کا یہ دورہ انتہائی مفید ثابت ہوگا۔کرغزستان کے صدر ژاپاروف نے پرُتپاک استقبال پر وزیراعظم محمد شہباز شریف کا شکریہ بھی ادا کیا۔
ملاقات میں صدر ژاپاروف نے پاکستان کے ساتھ مختلف شعبوں میں تعاون کو مزید بڑھانے اور باہمی اشتراک کے نئے مواقع تلاش کرنے کی خواہش کا اظہار کیا۔
یہ بھی پڑھیں: کرغزستان کے صدر پاکستان پہنچ گئے، صدر مملکت و وزیراعظم نے خوش آمدید کہا
اس موقع پر چیف آف آرمی سٹاف فیلڈ مارشل جنرل سید عاصم منیر، نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ محمد اسحاق ڈار، نیشنل سیکیورٹی ایڈوائزر لیفٹیننٹ جنرل عاصم ملک اور معاون خصوصی طارق فاطمی بھی موجود تھے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
we news پاکستان شہباز شریف کرغزستان وزیراعظم.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: پاکستان شہباز شریف کرغزستان پاکستان اور کرغزستان وزیراعظم شہباز شریف کرغزستان کے کے لیے کہا کہ نے کہا یہ بھی
پڑھیں:
عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت 100 ڈالر فی بیرل سے بھی تجاوز کر گئی
امریکا ایران جنگ، آبنائے ہرمز کی بندش، مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی فوجی کشیدگی اور بحیرہ احمر میں تجارتی جہازوں پر حملوں کے بعد عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت نے سابقہ ریکارڈ توڑ دیا۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق یہ مئی کے بعد پہلی مرتبہ ہے کہ برینٹ خام تیل کی قیمت 100 ڈالر فی بیرل کی نفسیاتی حد بھی عبور کر کی گئی جس سے عالمی معیشت، مہنگائی اور توانائی کی فراہمی کے حوالے سے نئے خدشات جنم لے رہے ہیں۔
عالمی معیار کے خام تیل برینٹ کروڈ کی قیمت میں جمعرات کو چھ فیصد سے زیادہ اضافہ ریکارڈ کیا گیا جس کے بعد یہ 100 ڈالر فی بیرل سے اوپر چلی گئی کیوں کہ سرمایہ کاروں نے اس خدشے سے خریداری بڑھا دی کہ اگر خطے میں جنگ مزید پھیلی تو عالمی تیل کی سپلائی شدید متاثر ہو سکتی ہے۔
قیمتوں میں اس غیرمعمولی اضافے کی بڑی وجہ یمن کے ایران نواز حوثی گروپ کی جانب سے بحیرہ احمر میں تجارتی جہاز رانی پر حملے ہیں۔ حوثیوں نے حالیہ دنوں میں سعودی آئل ٹینکروں اور دیگر تجارتی جہازوں کو نشانہ بنایا۔
بحیرہ احمر اور باب المندب عالمی تجارت کے اہم ترین بحری راستوں میں شمار ہوتے ہیں جہاں سے یورپ، ایشیا اور مشرقِ وسطیٰ کے درمیان بڑی مقدار میں تیل اور تجارتی سامان کی ترسیل ہوتی ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے حملوں کے بعد سخت ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ امریکا حوثیوں کے ساتھ ساتھ ایران کو بھی ان حملوں کا ذمہ دار سمجھتا ہے کیونکہ ان کے بقول حوثی تہران کے حمایت یافتہ گروہ ہیں۔
صدر ٹرمپ نے اپنے بیان میں خبردار کیا ہے کہ اگر بحیرہ احمر میں جہاز رانی پر حملے جاری رہے تو امریکا جواب میں حوثیوں اور ایران دونوں کے خلاف بڑی فوجی سزا دینے سے گریز نہیں کرے گا۔
توانائی کے ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر خام تیل کی قیمتیں 100 ڈالر سے اوپر برقرار رہتی ہیں تو دنیا بھر میں ایندھن، بجلی اور ٹرانسپورٹ کے اخراجات میں نمایاں اضافہ ہو سکتا ہے جس سے مہنگائی کی نئی لہر پیدا ہونے کا خدشہ ہے۔
اگر کشیدگی بحیرہ احمر سے بڑھ کر آبنائے ہرمز تک پھیل گئی جہاں سے دنیا کی تقریباً پانچواں حصہ خام تیل کی ترسیل ہوتی ہے تو عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں مزید بلند ہو سکتی ہیں۔