اس وقت دنیا کے سب سے بڑے کاروباری میگزینز کی سرخیاں ایک ہی نام سے جگمگارہی ہیں اور وہ ترقی کی بلندیوں کو چھونے والے لوآنا لوپز لارا ہیں۔

محض 29 سال عمر میں لوآنا لوپز لارا نے شہرت، بزنس اور پیسا سب کچھ ہی کمالیا ہے۔ یہ وہی  نوجوان لڑکی ہے جو کبھی اپنا گھر بار بیلے ڈانس سے چلانے پر مجبور تھی۔

آج وہی لڑکی ٹیکنالوجی کی دنیا میں سب سے کم عمر ارب پتی کاروباری شخصیت بن کر ابھری ہیں۔

اس کے عزائم پختہ تھے، حوصلے بلند تھے اور مقاصد واضح تھے۔ بیلے ڈانس کو چھوڑ کر معروف تعلیمی ادارے MIT سے کمپیوٹر سائس کی ڈگری لینے کی ٹھانی۔

وہ ذہین تو تھی ہی، ایم آئی ٹی نے اس کی مہارت میں مزید اضافہ کردیا اور صرف چھ برس کے اندر اندر لوآنا لوپز نے ایسی کمپنی کھڑی کر دی جس کی مالیت آج 11 ارب ڈالر ہے۔

وہ برازیل کے ایک شہر میں پیدا ہوئی اور کم عمری ہی سے پیٹ پالنے کے لیے بیلے ڈانس کی کی دنیا میں قدم رکھا۔

ایک انٹرویو میں لوآنا لوپز لارا نے بتایا کہ بیلے ڈانس نے مجھے وہ سکھایا جو کسی بزنس اسکول نے نہیں سکھایا ہوگا اور وہ ہے پرفیکشن، برداشت اور بار بار گر کر دوبارہ اٹھنے کا حوصلہ۔

لوآنا نے ایم آئی ٹی میں کمپیوٹر سائنس کی دنیا میں قدم رکھا اور یہاں سے ان کا ایک نیا سفر شروع ہوا۔ جہاں طارق منصور نامی شخص سے ملاقات ہوئی۔

دونوں نے مل کر ایک انوکھا خیال پیش کیا: ایک ایسا پلیٹ فارم جہاں لوگ عالمی، معاشی اور سیاسی واقعات کے ممکنہ نتائج پر سرمایہ کاری کر سکیں۔

یوں شہرہ آفاق کمپنی Kalshi کا آغاز ہوا جو ایک ریگولیٹڈ پریڈکشن مارکیٹ کی طرز پر ہے اور جسے آہستہ آہستہ سرمایہ کاروں کی توجہ ملتی رہی۔

صرف 6 سال میں Kalshi ایک چھوٹے اسٹارٹ اپ سے 11 ارب ڈالر کی دیوہیکل کمپنی بن گئی۔

اس طرح لوآنا لارا 29 سال کی عمر میں فوربز کی فہرست میں دنیا کی کم عمر ترین ’’سیلف میڈ‘‘ ارب پتی خاتون بن گئیں۔

لوآنا لارا نہ صرف کاروباری دنیا میں ایک نئی مثال بن چکی ہیں بلکہ نوجوان خواتین کے لیے ایک مثبت پیغام بھی بن گئی ہیں کہ راستے بدلنے میں حرج نہیں۔

جب ایک کم عمر لڑکی ڈانس اسٹوڈیو سے نکل کرمنافع بخش کمپنی کھڑی کرسکتی ہے تو یہ اس بات کی جیتی جاگتی دلیل ہے کہ خواب پورے ہوتے ہیں۔

بس لگن، جستجو اور محنت کی ضرورت ہے۔ راستے خود بن جاتے ہیں۔

 

 

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: دنیا میں

پڑھیں:

ایران کا بحرین میں ایمیزون کے ڈیٹا سینٹر کو نشانہ بنانے کا بڑا دعویٰ

تہران / منامہ: ایران کی فوج نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے بحرین میں امریکی ٹیکنالوجی کمپنی ایمیزون کے ایک ڈیٹا سینٹر کو نشانہ بنایا ہے۔ ایرانی حکام کے مطابق یہ کارروائی امریکا کے خلاف جاری جوابی اقدامات کا حصہ ہے۔

ایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق پاسدارانِ انقلاب نے ایک بیان میں کہا کہ حملے کا ہدف امریکی کمپنی ایمیزون کی وہ ڈیٹا تنصیب تھی جو ان کے بقول امریکی فوج کو معلوماتی معاونت فراہم کرنے میں کردار ادا کر رہی تھی۔

بیان میں دعویٰ کیا گیا کہ مذکورہ ڈیٹا سینٹر کو نشانہ بنا کر تباہ کر دیا گیا تاہم ایرانی حکام نے اس دعوے کے حق میں فوری طور پر کوئی شواہد یا مزید تفصیلات پیش نہیں کیں۔

دوسری جانب خبر شائع ہونے تک امریکی کمپنی ایمیزون، بحرین کی حکومت یا امریکی حکام کی جانب سے ایران کے اس دعوے پر کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا، جبکہ آزاد ذرائع سے بھی اس حملے یا اس کے ممکنہ نقصانات کی تصدیق نہیں ہو سکی۔

ایران نے ایک بار پھر اپنے مؤقف کا اعادہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں وہ تمام فوجی اڈے یا تنصیبات جو امریکا ایران کے خلاف کارروائیوں کے لیے استعمال کرتا ہے، ایران کی نظر میں جوابی حملوں کے لیے جائز ہدف ہیں۔

تجزیہ کاروں کے مطابق اگر ایران کے دعوے درست ثابت ہوتے ہیں تو یہ پہلی بار ہوگا کہ کسی بڑی عالمی ٹیکنالوجی کمپنی کی تنصیب کو ایران نے براہِ راست اپنی فوجی کارروائی کا ہدف قرار دیا ہے۔ تاہم اس معاملے کی آزادانہ تصدیق کا انتظار کیا جا رہا ہے۔

متعلقہ مضامین

  • بھارت کا سندھ طاس معاہدہ یکطرفہ طور پر معطل کرنا اشتعال انگیز ہے، اسحاق ڈار
  • ایران کا بحرین میں ایمیزون کے ڈیٹا سینٹر کو نشانہ بنانے کا بڑا دعویٰ
  • بجلی تقسیم کار کمپنیوں کی جانب سے ایک ماہ میں47ارب81کروڑ روپے کی اووربلنگ کا انکشاف
  • میں نے اپنی قبر تیار کروا رکھی ہے، لیجنڈ گلوکار عطا اللہ عیسیٰ خیلوی کا انکشاف
  • بيزوس، مسک اور زکربرگ جیسے ارب پتی ہر سال ایک خفیہ سمر کیمپ میں کیوں اکٹھے ہوتے ہیں؟
  • کراچی، نوجوان لڑکی کو گھر میں گھس کر اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنا ڈالا، والد کی مدعیت میں مقدمہ درج
  • کارگو طیارہ حادثے میں جاں بحق عملے کے اہل خانہ کو کمپنی مالکان سے عدم تعاون کی شکایت
  • میڈ اِن پاکستان الیکٹرک گاڑی کی مارکیٹ میں آمد جلد متوقع، بی وائی ڈی نے اہم اعلان کردیا
  • ٹیسلا نے بچوں کے لیے نئی بیلنس بائیک متعارف کرا دی، قیمت کتنی ہے؟
  • وزیراعظم سے چینی کمپنی کے وفد کی ملاقات، غذائی تحفظ کے منصوبوں پر تبادلہ خیال