غیر اخلاقی ویب سائٹ کے سابق مالک کی روسی آئل کمپنی خریدنے میں دلچسپی کیوں؟
اشاعت کی تاریخ: 4th, December 2025 GMT
آسٹریا کے معروف بزنس مین بَرنڈ برگمائر جو کبھی غیراخلاقی مواد کی حامل ویب سائٹس کے مشہور گروپ کے بڑے حصے کے مالک تھے، اب پابندیوں کی شکار روسی آئل انڈسٹری میں سرمایہ کاری کا ارادہ رکھتے ہیں۔
برنڈ نے امریکی محکمۂ خزانہ سے رابطہ کیا ہے تاکہ روس کی بڑی تیل کمپنی لُک آئل (Lukoil) کے بین الاقوامی اثاثے خریدنے کی اجازت حاصل کی جا سکے۔
بین الاقوامی خبر رساں ایجنسی ‘رائٹرز’ نے معاملے سے باخبر دو ذرائع کے حوالے سے بتایا کہ برنڈ نے امریکی حکام کو اس بارے میں ابتدائی اشارہ دیا ہے۔
امریکہ نے یوکرین جنگ کی وجہ سے روس پر دباؤ بڑھانے کے لیے لُک آئل سمیت کئی روسی اداروں پر سخت پابندیاں لگا رکھی ہیں۔ ان پابندیوں کے باعث لُک آئل کو اپنے غیر ملکی اثاثے بیچنے کا اعلان کرنا پڑا ہے۔
اس صورتحال کا فائدہ اٹھاتے ہوئے دنیا کی کئی بڑی کمپنیاں جن میں ایکسون موبل اور شیورون بھی شامل ہیں، امریکی محکمۂ خزانہ سے اجازت لے کر لُک آئل سے بات چیت کی خواہش مند ہیں۔
برنڈ برگمائر نے اپنے وکیل کے ذریعے کہا کہ وہ یہ نہیں بتا سکتے کہ ان کی کن مخصوص اثاثوں میں دلچسپی ہے، اور نہ ہی یہ بتاسکتے ہیں کہ لُک آئل سے ان کا رابطہ ہو چکا ہے یا وہ کسی سرمایہ کار گروپ کا حصہ ہیں۔ تاہم انہوں نے یہ ضرور کہا کہ “لُک آئل انٹرنیشنل جی ایم بی ایچ میں سرمایہ کاری شاندار ثابت ہو سکتی ہے، اور جسے بھی یہ اثاثے ملیں گے وہ خوش قسمت ہوگا۔”
لُک آئل انٹرنیشنل جی ایم بی ایچ کا ہیڈکوارٹر ویانا میں ہے اور اس کے پاس دنیا بھر میں بڑے اثاثے موجود ہیں، جن میں یورپ میں آئل ریفائنریز، قازقستان، ازبکستان، عراق اور میکسیکو میں آئل فیلڈز اور دنیا بھر میں سیکڑوں فیول اسٹیشن شامل ہیں۔
2024 کے اعداد و شمار کے مطابق یہ تمام اثاثے مجموعی طور پر تقریباً 22 ارب ڈالر مالیت کے ہیں۔
امریکی محکمۂ خزانہ نے گزشتہ ماہ کمپنیوں کو 13 دسمبر تک لُک آئل سے بات چیت کی اجازت دی ہے، تاہم کسی بھی حتمی سودے کے لیے واشنگٹن سے باضابطہ منظوری لینا ضروری ہوگی۔
برنڈ برگمائر کون ہیں؟
برگمائر نے 1990 کی دہائی میں نیویارک میں گولڈ مین سیکس کے ساتھ بطور انویسٹمنٹ بینکر کام کیا۔ اس کے بعد وہ نجی سرمایہ کاری کی دنیا میں داخل ہوئے اور کچھ سال بعد وہ مائنڈگیک (MindGeek) کے بڑے شیئر ہولڈر بن گئے۔
مائنڈ گی وہی کمپنی ہے جو پورن ہب، ریڈ ٹیوب اور یوپورن جیسی غیر اخلاقی مواد کی ویب سائٹس چلاتی تھی۔
مائنڈگیک کو 2023 میں ایک کینیڈین پرائیویٹ ایکویٹی فرم نے خرید لیا تھا۔
2021 میں برطانیہ کے “سنڈے ٹائمز رچ لسٹ” میں برگمائر کی مجموعی دولت کا تخمینہ کم از کم 1.
فی الحال یہ واضح نہیں کہ امریکہ برگمائر کو لُک آئل کے اثاثے خریدنے کی اجازت دے گا یا نہیں، لیکن عالمی تیل مارکیٹ میں اس سودے کے ممکنہ اثرات کو بڑا اور غیر معمولی قرار دیا جا رہا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
بلوچستان کے نام پر علیحدگی پسند سیاست کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی، جمال رئیسانی
پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے رکن قومی اسمبلی نوابزادہ جمال رئیسانی نے کہا ہے کہ پاکستان کے خلاف ایک خاموش جنگ لڑی جا رہی ہے جو بارود سے زیادہ نوجوانوں کے ذہنوں کو نشانہ بنا رہی ہے۔ بلوچستان کے نام پر علیحدگی پسند سیاست کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
صوبائی وزرا علی مدد جتک اور عاصم کرد گیلو کے ہمراہ کوئٹہ میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے نوابزادہ جمال رئیسانی نے کہاکہ دشمن پاکستان اور بلوچستان کو توڑنے کی کوشش کر رہا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ 2018 میں بشیر زیب نے جب ایک کالعدم تنظیم کی کمان سنبھالی تو حالات مزید خراب ہوئے، جبکہ جنید بشیر زیب کا رائٹ ہینڈ ہے۔
انہوں نے کہاکہ آج کی جنگ ڈیجیٹل پلیٹ فارمز پر لڑی جا رہی ہے اور کالعدم تنظیموں کے کارندے زنگی ایپ کے ذریعے ایک دوسرے سے رابطے میں رہتے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ کالعدم تنظیمیں سنگل ایپ کے ذریعے آپریشنل منصوبہ بندی جبکہ ڈیلٹا چیٹ کے ذریعے خفیہ بھرتیاں کرتی ہیں۔
نوابزادہ جمال رئیسانی نے کہاکہ آج دشمن صرف گولی کا استعمال نہیں کر رہا بلکہ سوشل میڈیا پر ٹرینڈز چلا کر بھی اپنا ایجنڈا آگے بڑھا رہا ہے۔ ہم نہیں چاہتے کہ نوجوان پہاڑوں کا رخ کریں۔
انہوں نے دعویٰ کیاکہ کالعدم تنظیموں نے اپنی سرگرمیوں میں خواتین کا استعمال بھی شروع کر دیا ہے۔ شہناز بلوچ بلوچ یکجہتی کمیٹی کے جلسوں میں شرکت کرتی تھیں اور ان کا باہوٹ کے ذریعے کالعدم تنظیم سے رابطہ ہوا۔
نوابزادہ جمال رئیسانی نے مزید کہاکہ بلوچ یکجہتی کمیٹی بلوچستان کی قیادت ڈاکٹر صبیحہ کر رہی ہیں اور ان کا بھائی ایک کالعدم تنظیم کا حصہ ہے۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ بلوچ یکجہتی کمیٹی کے کراچی سیل کی قیادت فوزیہ شاہوانی کررہی ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews بلوچستان سیاست خاموش جنگ نوابزادہ جمال رئیسانی وی نیوز