data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

پیرس: فرانس میں ایک حیران کن واقعہ پیش آیا، جہاں پرانی اور خستہ حال جیل میں قید 2 افراد اچانک غائب پائے گئے۔

میڈیا ذرائع کے مطابق جیل حکام معمول کی طرح قیدیوں کی گنتی کر رہے تھے کہ انہیں پتا چلا کہ 2 قیدی لاپتا ہیں۔ غیر متوقع صورتحال پر عملہ فوراً الرٹ ہوا  اور تفتیش پر پتا چلا کہ کوٹھڑی کی کھڑکی کی موٹی اور مضبوط سلاخیں کاٹی جا چکی تھیں جب کہ باہر لٹکی ہوئی بیڈ شیٹس سے پتا چلا کہ قیدیوں نے ان سے رسی بنا کر نیچے اترنے میں کامیابی حاصل کی اور فرار ہو گئے۔

تحقیقات کے دوران پتا چلا کہ فرار ہونے والے قیدیوں میں سے ایک 19 برس کا نوجوان ہے جو گزشتہ برس اکتوبر سے قتل کی کوشش کے الزام میں زیر حراست تھا اور مقدمہ ابھی چل رہا تھا۔ دوسرا قیدی اپنے شریک حیات پر تشدد اور دھمکیاں دینے کے جرم میں سزا کاٹ رہا تھا۔

حکام کے مطابق دونوں قیدی نہ صرف ایک دوسرے کو اچھی طرح جانتے تھے بلکہ کافی عرصے سے اپنی رہائی کا راستہ تلاش کر رہے تھے۔ ان کے پاس سے کوئی جدید اوزار نہیں ملے، تاہم انہوں نے پرانی طرز کی دستی آریاں استعمال کی گئیں، جن کے ذریعے انہوں نے مہینوں کی محنت کے بعد آہستہ آہستہ سلاخوں کو کاٹا اور مناسب وقت دیکھ کر رات کی تاریکی میں بھاگ نکلے۔

واضح رہے کہ یہ جیل انیسویں صدی میں تعمیر ہوئی تھی اور برسوں سے مرمت کی منتظر ہے۔ یہاں قیدیوں کی تعداد بھی گنجائش سے کہیں زیادہ ہے۔ جس جگہ صرف 100 قیدی رکھنے کی صلاحیت تھی، وہاں 300 سے زائد افراد کو رکھا گیا ہے، جس کے باعث نگرانی مؤثر انداز میں ممکن نہیں رہتی۔

علاوہ ازیں خستہ حالی، عملے کی کمی اور حفاظتی نظام کی کمزوری نے قیدیوں کے فرار کو آسان بنانے میں اہم کردار ادا کیا۔ حکام کا کہنا ہے کہ وہ اس بات کا بھی جائزہ لے رہے ہیں کہ آیا وہاں تعینات اہلکاروں کی جانب سے کوئی غفلت تو نہیں برتی گئی۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

پڑھیں:

فیفا ورلڈ کپ دیکھنے کیلیے کینیڈا جانیوالے 175 غیر ملکیوں نے سیاسی پناہ مانگ لی

فیفا ورلڈ کپ دیکھنے کے لیے وزٹ ویزہ پر کینیڈا پہنچنے والے درجنوں افراد نے اسائلم کی درخواستیں دائر کر دیں۔

کینیڈا میں ورلڈ کپ کے 13 میچ منعقد ہوئے جن کے لیے حکام نے مجموعی طور پر 26 ہزار سیاحتی ویزے جاری کیے تھے۔ ہزاروں درخواستوں میں سے 50 فیصد سے زائد مسترد کر دی گئی تھیں۔

کینیڈین حکام کے مطابق اب تک 175 افراد سیاسی پناہ کی درخواستیں جمع کرا چکے ہیں جن کا جائزہ امیگریشن اور مہاجرین سے متعلق قوانین کے تحت لیا جائے گا۔

حکام نے یہ واضح نہیں کیا کہ درخواست گزاروں میں کتنے کھلاڑی شامل ہیں، تاہم دستیاب اعداد و شمار کے مطابق گھانا کے 25 جبکہ مصر اور کولمبیا کے 15، 15 شہریوں نے اسائلم کی درخواستیں دی ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ اس تعداد میں مزید اضافہ بھی ہو سکتا ہے۔

اس سے قبل کینیڈین حکومت خبردار کر چکی تھی کہ فیفا ورلڈ کپ کے لیے جاری کیے گئے سیاحتی ویزے کینیڈا میں مستقل قیام یا سیاسی پناہ حاصل کرنے کا ذریعہ نہیں ہیں اور ہر درخواست کا فیصلہ صرف ملکی قوانین کے مطابق کیا جائے گا۔

 

متعلقہ مضامین

  • ایرانی اثاثے ضبط کرنے کی ٹرمپ کی دھمکی خطرناک نظیر ہے، عباس عراقچی کا سخت ردعمل
  • بیوٹی انفلوئنسر کاسمیٹک سرجری کے دوران چل بسی
  • جارحیت کی قیمت واشنگٹن کو بہت مہنگی پڑے گی، عباس عراقچی
  • کیا فواد خان نے بھی سرجری کروالی؟ نئی تصاویر پر سوشل میڈیا پر بحث
  • فیفا ورلڈ کپ دیکھنے کیلیے کینیڈا جانیوالے 175 غیر ملکیوں نے سیاسی پناہ مانگ لی
  • فرانس؛ جیفری ایپسٹین کا قریبی ساتھی بھی پراسرار حالت میں مردہ پایا گیا
  • فیفا نے ورلڈ کپ 2026 کی ٹیم آف دی ٹورنامنٹ کا اعلان کر دیا
  • جیفری ایپسٹین کیس سے جڑے معروف نام ڈینیئل سیاد کی فرانس میں پراسرار موت
  • کراچی: ڈاکٹر آکاش قتل کیس میں گرفتار تینوں ڈاکو اپنے ساتھیوں کی فائرنگ سے ہلاک
  • ولیکا اسپتال میں ایچ آئی وی کا ایک اور کیس رپورٹ، 18 ماہ کے بچے میں بیماری کی تصدیق