الیکشن کمیشن کا بڑا اقدام، وزیر اعظم کے معاون خصوصی کو گھر تک محدود کر دیا گیا
اشاعت کی تاریخ: 22nd, November 2025 GMT
ڈیرہ غازی خان میں انتخابی عمل پر اثراندازی کی اطلاعات کے پیشِ نظر الیکشن کمیشن آف پاکستان نے بروقت اور ٹھوس اقدامات کرتے ہوئے حُذَیفہ رحمان ، معاون خصوصی کی سرگرمیوں کو مؤثر طور پر محدود کر دیا۔
رپورٹ کے مطابق قابلِ اعتماد ذرائع نے کہا کہ متعلقہ ڈسٹرکٹ ریٹرننگ آفیسر (DRO) اور دیگر ذمہ داران کی ہدایات کی روشنی میں کی جانے والی کارروائیوں کے نتیجے میں مذکورہ معاون خصوصی کو گھر تک محدود کر دیا گیا
اس اقدام کے بعد انہیں ضلع ڈیرہ غازی خان چھوڑنے پر مجبور ہونا پڑا، یہ اقدامات انتخابی عمل کی غیر جانب داری کو ہر قیمت پر یقینی بنانے کے لئے اٹھائے گئے۔
یہ امر قابلِ ذکر ہے کہ الیکشن کمیشن نے جناب اویس لغاری، رانا ثناءاللہ اور دیگر ذمہ داران کے خلاف بھی بلا امتیاز و بلا تخصیص کارروائیاں عمل میں لاتے ہوئے یہ واضح کر دیا ہے کہ ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی پر کمیشن کا رویّہ Zero Tolerance کا ہے۔
الیکشن کمیشن نے سیکریٹری الیکشن کمیشن کو سخت ہدایات دیں جن کے تحت تمام DROs اور ROs کو واضح طور پر خبردار کیا گیا کہ انتخابی عمل میں غیر جانب داری ہر صورت یقینی بنائیں۔
الیکشن کمیشن نے کہا کہ کسی دباؤ کو خاطر میں نہ لائیں، ورنہ ضابطۂ اخلاق کی کسی بھی خلاف ورزی پر متعلقہ افسران کو سخت تادیبی نتائج بھگتنا ہوں گے۔
دوسری جانب پی پی 116 فیصل آباد میں ضابطۂ اخلاق کی خلاف ورزی پر صوبائی وزیر رانا سکندر کو نوٹس جاری کردیا گیا۔
ترجمان صوبائی الیکشن کمشنر پنجاب نے کہا کہ رانا سکندر نے انتخابی امیدوار رانا شہریار کی انتخابی مہم میں شرکت کی، ڈسٹرکٹ مانیٹرنگ آفیسر نے وضاحت کیلئے آج طلب کیا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: الیکشن کمیشن کر دیا
پڑھیں:
واپڈا صارفین کے لیے خوشخبری، جون میں 20 پیسے فی یونٹ ریلیف برقرار
اسلام آباد،بجلی صارفین(awais laghari) کے لیے اچھی خبر سامنے آئی ہے کیونکہ جون 2026 کے دوران صارفین کو فی یونٹ 20 پیسے کا خالص ریلیف ملے گا جبکہ بجلی کی مجموعی قیمتوں میں کوئی اضافہ نہیں ہوگا۔
حکومتی ذرائع کے مطابق اس ریلیف کے نتیجے میں جون 2026 کے بجلی نرخ جنوری سے مئی 2026 کے مقابلے میں برقرار رہیں گے اور صارفین پر کوئی اضافی مالی بوجھ نہیں پڑے گا۔
پس منظر میں اپریل 2026 کے دوران عالمی توانائی منڈی کو شدید دباؤ کا سامنا رہا۔ ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی کے باعث آر ایل این جی کی قلت پیدا ہوئی جبکہ برینٹ خام تیل کی قیمت 70 ڈالر فی بیرل سے بڑھ کر 120 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی۔
ماہرین کے مطابق اگر بروقت اقدامات نہ کیے جاتے تو صارفین پر 5 سے 6 روپے فی یونٹ تک اضافی بوجھ پڑ سکتا تھا۔حکومت نے صورتحال سے نمٹنے کے لیے محدود لوڈ مینجمنٹ، مارکیٹوں کی جلد بندش، مقامی گیس کی اضافی فراہمی اور فرنس آئل کے محدود استعمال سمیت متعدد اقدامات کیے۔
، جس کے نتیجے میں فیول ایڈجسٹمنٹ کا اثر صرف 1.73 روپے فی یونٹ تک محدود رہا۔ حکام کا کہنا ہے کہ ان اقدامات سے تقریباً 38 ارب روپے کا ممکنہ اضافی بوجھ صارفین پر منتقل ہونے سے بچ گیا۔
دوسری جانب بہتر انتظامی اصلاحات، لائن لاسز میں کمی، بجلی کی طلب میں اضافے اور مختلف ٹیرف پیکیجز کے مثبت اثرات کے باعث سہ ماہی ایڈجسٹمنٹ میں 1.93 روپے فی یونٹ کمی ہوئی۔
مزید پڑھیں:وفاقی کابینہ، ادویات ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم نفاذ کی باقاعدہ منظوری دے دی
جس سے صارفین کو مجموعی طور پر 65 ارب روپے کا فائدہ پہنچا۔حکومت کا مؤقف ہے کہ توانائی کے شعبے میں بروقت فیصلوں اور مؤثر انتظامی حکمت عملی کے باعث عالمی اور علاقائی چیلنجز کے باوجود بجلی صارفین کو بڑے مالی بوجھ سے محفوظ رکھا گیا۔