سابق صدر عارف علوی کے بیٹے کا نام پی این آئی ایل میں شامل کرنے پر وفاقی حکومت کو نوٹس
اشاعت کی تاریخ: 28th, November 2025 GMT
کراچی:
سابق صدر عارف علوی کے بیٹے کا نام پی این آئی ایل میں شامل کرنے پر وفاقی حکومت کو نوٹس جاری کردیا گیا۔
سندھ ہائیکورٹ کے آئینی بینچ نے سابق صدر پاکستان عارف علوی کے بیٹے اواب علوی اور آفتاب جہانگیر کا نام پی این آئی ایل میں شامل کرنے کے خلاف دائر درخواست پر وفاقی حکومت اور دیگر فریقین کو نوٹس جاری کردیے۔
عدالت کے روبرو دونوں شخصیات کی جانب سے پی این آئی ایل میں نام شامل کرنے کے فیصلے کو چیلنج کیا گیا، جس کی سماعت آئینی بینچ نے کی۔
سماعت کے دوران بیرسٹر علی طاہر نے موقف اختیار کیا کہ عدالت نے قبل ازیں دونوں کے نام پی این آئی ایل سے خارج کرنے کا حکم دیا تھا، جس پر عمل بھی کیا گیا، تاہم عدالتی حکم پر نام نکالنے کے صرف 2 گھنٹے بعد دوبارہ دونوں کے نام اسی فہرست میں شامل کردیے گئے۔
درخواست گزاروں نے مؤقف اختیار کیا کہ یہ اقدام عدالتی حکم کی خلاف ورزی کے مترادف ہے۔
بعد ازاں عدالت نے دلائل سننے کے بعد وفاقی حکومت سمیت تمام متعلقہ فریقین کو نوٹس جاری کرتے ہوئے 10 دسمبر تک جواب طلب کر لیا۔ آئینی بینچ نے ہدایت کی کہ اگلی سماعت پر فریقین وضاحت پیش کریں کہ عدالتی حکم کے باوجود درخواست گزاروں کے نام دوبارہ فہرست میں کیوں شامل کیے گئے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: پی این آئی ایل میں نام پی این آئی ایل وفاقی حکومت کو نوٹس
پڑھیں:
داتا دربار کے نذرانوں میں کروڑوں کا غبن کرنے والے 5 افسران کو سزا
اوقاف بورڈ نے زائرین کے نذرانوں میں کروڑوں روپے کی کرپشن کرنے کے الزام میں داتا دربار کے 5 سینئر افسران کو سزا سنادی۔
ملزمان میں سابق ایڈمنسٹریٹر داتا دربار شیخ جمیل احمد، سابق مینجر طاہر مقصود، سابق اسٹینو گرافر ثاقب نسیم سمیت دیگر ملازمین شامل ہیں۔
محکمہ اوقاف بورڈ کی ہدایات کی روشنی میں مجاز اتھارٹی نے انکوائری کے بعد سابق ایڈمنسٹریٹر داتا دربار شیخ جمیل احمد کو انکے اصل مستقل عہدے سے 5 سال کی مدت کے لئے کم درجے کے عہدے (BS-15) اور پے اسکیل پر تنزلی کا حکم دیا ہے۔
شیخ جمیل احمد کی 5 سال کی پچھلی سروس بھی ضبط کر لی گئی ہے، انہیں 9,265,800 روپے ادا کرنے ہوں گے جبکہ انکے سروس ریکارڈ میں منفی اندراج بھی کیا جائے گا، مستقبل میں اُنہیں کسی بھی کیش ہینڈلنگ آفس یا فیلڈ ریونیو پوسٹ پر تعینات کرنے پر مستقل پابندی عائد کردی گئی ہے۔
اسی طرح سابق مینیجر داتا دربار طاہر مقصود کو سرکاری ملازمت سے برطرفی کی سزا دی گئی ہے، اسکے ساتھ 11,324,867 روپے (ان کا 55 فیصد واجب الادا حصہ) کی انفرادی مالیاتی ریکوری اور مستقبل میں فیلڈ پوسٹنگز پر مستقل پابندی عائد کی گئی ہے۔
سابق اسٹینو گرافر ایڈمنسٹریٹر آفس ثاقب نسیم کو 4 سال کی مدت کےلئے پچھلی سروس ضبط کرنے کی سزا دی گئی ہے اور ان پر انتظامی پابندی عائد کرتے ہوئے انہیں کسی بھی خفیہ برانچ ایڈمنسٹریٹر دفاتر اور حساس دفاتر یا سی سی ٹی وی سیکیورٹی سے متعلقہ سائنمنٹس پر تعینات کرنے سے روک دیا گیا ہے۔
سابق کیئر ٹیکر نور حسین کو تین سال کی مخصوص مدت کےلئے سالانہ ترقیاں روکنے کی سزا دی گئی ہے اور انہیں داتا دربار یا کسی بھی بڑے کیش جنریٹنگ مزار پر مستقبل میں تعینات کرنے پر پابندی لگا دی گئی ہے۔
سابق کیئر ٹیکر محمد شریف اگرچہ اس مخصوص انکوائری رپورٹ کے الزامات سے بری ہو گئے ہیں لیکن مزار پر ایک زائر سے نقدی چوری کرنے کی وائرل ویڈیو کلپ سامنے آنے کے بعد انکے خلاف فوری طور پر علیحدہ اور آزادانہ تادیبی کارروائی شروع کرنے کی ہدایت کی گئی ہے، انہیں داتا دربار یا کسی بھی دوسرے بڑے مزار پر تعیناتی سے مستقل طور پر روک دیا گیا ہے۔
اس حوالے سے سیکرٹری و چیف ایڈمنسٹریٹر اوقاف پنجاب ڈاکٹر احسان بھٹہ کا کہنا تھا کہ حکومت پنجاب کے غیر متزلزل عزم کا اعادہ کرتے ہوئے مقدس مذہبی اداروں کے اندرکرپشن عوامی اعتماد کی سنگین خلاف ورزی کارروائیوں کا آغاز کردیا ہے، کرپشن کے ناسور کو جڑ سے اکھاڑ پھینک دیا جائے گا۔