وفاق صوبائی اخراجات مطالبے سے پہلے آئی ایم ایف رپورٹ کا جائزہ لے: رضا ربانی
اشاعت کی تاریخ: 25th, November 2025 GMT
اسلام آباد(نیوزڈیسک)سابق چیئرمین سینیٹ میاں رضا ربانی کا کہنا ہے کہ نیشنل فنانس کمیشن کی دسمبر کے پہلے ہفتے میں میٹنگ ہونے والی ہے، وفاقی حکومت کو صوبوں کو وفاقی اخراجات بانٹنے کے مطالبے سے پہلے آئی ایم ایف رپورٹ کا جائزہ لینا چاہیے۔
ایک بیان میں ان کا کہنا ہے کہ آئی ایم ایف نے اندرونی مالیاتی کنٹرولز، اندرونی و بیرونی آڈٹ سسٹم کی کمزوریوں کی نشاندہی کی ہے، آئی ایم ایف نے آڈیٹر جنرل آف پاکستان کے انتظامیہ کے تابع ہونے کی کمزوریوں کی نشاندہی کی۔
رضا ربانی نے کہا کہ پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے ذریعے پارلیمانی نگرانی کی صلاحیت اور کردار بھی ناکافی ہیں، وفاقی حکومت نے 2019ء کے پبلک فنانس مینجمنٹ ایکٹ پر بھی عمل درآمد نہیں کیا ہے۔
انہوں نے کہا ہے کہ آڈیٹر جنرل براہِ راست پارلیمنٹ کو رپورٹ نہیں کرتے، وہ ایک وفاقی سیکریٹریٹ، وزیرِاعظم اور صدر کے ذریعے رپورٹ کرتے ہیں، رپورٹنگ کا یہ بالواسطہ ڈھانچہ واضح طور پر عمل کی آزادی اور غیر جانبدارانہ پن کو مجروح کرتا ہے۔
سابق چیئرمین سیینٹ نے کہا کہ انتظامیہ آئین کے تحت یا اس کے ذریعے کام کرنے والے تمام اداروں، بشمول عدلیہ پر اپنا کنٹرول مسلط کرنا چاہتی ہے، وفاقی حکومت ان وزارتوں کو منتقل کرے جو اٹھارہویں ترمیم کے نتیجے میں تحلیل ہونا تھیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: ا ئی ایم ایف
پڑھیں:
سپریم کورٹ: اے پی ایس شہداء لواحقین کو پیکیج نہ ملنے پر وفاقی حکومت سے جواب طلب
فائل فوٹوسپریم کورٹ نے اے پی ایس شہداء لواحقین کو پیکیج نہ ملنے پر وفاقی حکومت سے جواب طلب کرلیا۔
کیس کی سماعت جسٹس محمد علی مظہر کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے کی، جسٹس عرفان سعادت نے کہا کہ درخواست 25 دن تاخیر سے دائر کی گئی۔
پشاور ہائیکورٹ فیصلے پر توہین عدالت کی درخواست شہداء کےلواحقین کی جانب سے دائر کی گئی تھی، پشاور ہائیکورٹ نے توہین عدالت کی درخواست خارج کردی تھی۔
درخواست گزار کے وکیل نے کہا کہ شہداء کے لواحقین کو اعلان کردہ پیکیج نہیں ملا۔
جسٹس محمد علی مظہر نے کہا کہ اگر کوئی پیکیج ملا ہے تو سب کو دیں، وفاقی حکومت بتائے کہ پشاور ہائیکورٹ فیصلے پر عملدرآمد ہوا یا نہیں۔
کیس کی مزید سماعت غیر معینہ مدت کیلئے ملتوی کردی گئی۔