وفاقی حکومت نے سونے کی درآمد اور برآمد پر عائد پابندی ختم کردی
اشاعت کی تاریخ: 23rd, November 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
اسلام آباد(آن لائن) وفاقی حکومت نے سونے کی درآمد اور برآمد پر عائد پابندی ختم کر دی، وفاقی کابینہ کی منظوری کے بعد وزارت تجارت نے حکم نامہ جاری کر دیا، سونے کی عالمی تجارت سے متعلق معطل شدہ ایس آر اوبحال کردیا گیا۔وفاقی حکومت نے قیمتی دھاتوں اور زیورات کی درآمد وبرآمد سے متعلق کچھ ترامیم بھی کی ہیں، قیمتی دھاتوں اور زیورات کی درآمد اور برآمد کا فریم ورک برقرار رہے گا، فریم ورک شفافیت اورخود کار نظام میں بہتری کے ساتھ جاری رہے گا۔اس سال مئی میں سونیکی ایکسپورٹ اورامپورٹ پر پابندی عائد کی گئی تھی، وزارت تجارت نے 6 مئی 2025 کو سونے کی تجارت منظم کرنے والا ایس آر او 60 روز کے لیے معطل کیا تھا۔ذرائع کا کہنا ہے کہ سونے کی ا سمگلنگ کی شکایت پر برآمد و درآمد پر پابندی لگائی گئی تھی، حالیہ مہینوں میں سونے کی اسمگلنگ کی کوئی شکایت موصول نہیں ہوئی تھی، جس کے بعد وفاقی کابینہ نے سونے کی درآمد اور برآمد پر عائد پابندی ختم کرنے کی منظوری دی تھی۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: کی درا مد اور برا مد سونے کی
پڑھیں:
گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
فیصل کریم کنڈی نے خط میں کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔ اسلام تائمز۔ گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے وزیراعظم پاکستان کے نام خط لکھ کر ضم شدہ قبائلی اضلاع اور پاٹا کے لیے وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے اور اس میں توسیع کی درخواست کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کر کے انضمام کے وقت کیے گئے وعدوں کی پاسداری کی جائے۔ گورنر فیصل کریم کنڈی نے خط میں مطالبہ کیا کہ قبائلی اضلاع اور پاٹا میں انکم ٹیکس، سیلز ٹیکس اور دیگر وفاقی محصولات کے نفاذ پر نظرثانی کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔
انہوں نے تجویز دی کہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں پر مشتمل مشترکہ کمیٹی قائم کر کے قبائلی اضلاع کی معاشی صورتحال کا جائزہ لیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ نئے ٹیکسوں کے نفاذ سے قبل ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کی معاشی و مالی صورتحال کا جائزہ لینا ضروری ہے، جبکہ ٹیکسوں کا معاملہ مشترکہ مفادات کونسل یا کسی مناسب آئینی فورم پر فوری طور پر پیش کیا جائے۔
گورنر خیبر پختونخوا نے کہا کہ قبائلی عوام نے پاکستان کے امن، استحکام اور سلامتی کے لیے بے مثال قربانیاں دی ہیں۔ وفاق اور صوبے کی یکساں ٹیکس پالیسی قبائلی عوام کا ریاست پر اعتماد بحال کرنے میں مددگار ثابت ہوگی، جبکہ ٹیکس ریلیف سے ضم شدہ اضلاع کی سماجی و معاشی ترقی اور قومی دھارے میں انضمام کا عمل مزید تیز ہوگا۔