28ویں آئینی ترمیم کے حوالے سے کوئی بات زیر غور نہیں، وفاقی وزیر
اشاعت کی تاریخ: 22nd, November 2025 GMT
وفاقی وزیر طارق فضل چودھری نے کہا ہے کہ 28 ویں آئینی ترمیم کے حوالے سے کوئی بھی بات زیر غور نہیں ہے تاہم27 ویں ترمیم میں رہ جانے والی ترامیم پر اگر اتفاق رائے ہوا تو 28 ویں لائیں گے
وفاقی وزیر ڈاکٹر طارق فضل چودھری نے پروگرام سینٹر اسٹیج میں گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ اٹھائہسویں ترمیم کے حوالے سے کوئی بھی بات زیر غور نہیں ہے، کچھ ترامیم ہم 27 ویں آئینی ترمیم میں لانا چاہ رہے تھے مگر وہ نہیں ہوئیں۔
انہوں نے کہا کہ 27 ویں ترمیم میں رہ جانے والی ترامیم پر اتفاق رائے ہوا تو 28 ویں لائیں گے ورنہ نہیں لائے جائے گی۔ انہوں نے دو ٹوک الفاظ میں اپنے موقف کو دہراتے ہوئے واضح کیا کہ اگر اتفاق رائے ہو گیا تو 28 ویں ترمیم بھی آجائے گی، ابھی فی الحال 28 ویں ترمیم کی کوئی بات نہیں ہوئی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ یہ غلط پروپیگنڈا ہے کہ ہم 18 ویں ترمیم کو رول بیک کرنا چاہتے تھے، ہم کوئی بھی اقدام اپنے اتحادیوں کو اعتماد میں لیے بغیر نہیں کریں گے۔
رہنما ن لیگ نے کہا کہ حکومت کا کام ہوتا ہے کہ اپوزیشن اور اتحادیوں کو ساتھ لے کر چلے، ہم نے کوشش کی اپوزیشن اور اتحادیوں کو ساتھ لے کر چلیں اور تناو کی صورتحال کو کم سے کم کیا جائے۔
اُن کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی نے اپنے دور حکومت میں یہ کلچر شروع کیا۔ طارق فضل چودھری نے کہا کہ ہم چاہتے ہیں کہ پالیمان میں وہ اپنا اپوزیشن کا کردار ادا کریں، حکومت چاہتی ہے کہ پی ٹی آئی ایوان میں اپنی تجاویز دے، ہمیں اس سے کیا غرض کہ کون اپوزیشن لیڈر لگایا جائے، رولز کی وضاحت ہم کر چکے ہیں، ان رولز کو فالو کریں، رولز فالو ہوں گے تو لگا دیا جائے گا۔
ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ بانی پی ٹی آئی اپوزیشن والوں سے ہاتھ تک نہیں ملاتے تھے، لیکن ہم سیاسی اختلافات کو ذاتی دشمنی نہیں سمجھتے، سابق وزیر اعلیٰ کے پی علی امین گنڈا پور جتنی دیر وزیر اعلیٰ رہے احتجاج کرتے رہے۔
انہوں نے کہا کہ سرکاری وسائل استعمال کر کے یلغار کی جاتی رہی ۔ لیگی رہنماوں کو الیکشن کمیشن کے نوٹس سے متعلق سوال کا جواب دیتے وفاقی وزیر نے کہا کہ یہ سب کی ذمے داری ہوتی ہے کہ ضابطہ اخلاق کی پاسداری کی جائے، الیکشن کمیشن نے خلاف ورزی پر ہمارے لوگوں کیخلاف بھی نوٹس لیے، ایکٹ کے مطابق کارروائیاں بھی ہوتی ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: وفاقی وزیر ویں ترمیم نے کہا کہ
پڑھیں:
ہمارا ایک مطالبہ ہے بانی کو شفا انٹرنیشنل منتقل کیا جائے، سہیل آفریدی
وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے کہا ہے کہ ہمارا ایک ہی مطالبہ ہے بانی پی ٹی آئی کو شفا انٹرنیشنل منتقل کیا جائے۔
راولپنڈی میں میڈیا سے گفتگو میں سہیل آفریدی نے کہا کہ چاہتے ہیں بانی پی ٹی آئی کا علاج ان کی فیملی اور ذاتی معالج کی موجودگی میں ہو۔
انہوں نے کہا کہ ان کے مقاصد کچھ اور ہیں اس لیے یہ ملنے نہیں دے رہے، مجھے اگر نہیں ملنے دیتے تو کم از کم فیملی کو ملنے دیا جائے۔
پاکستان تحریک انصاف ( پی ٹی آئی) رہنما جنید اکبر نے کہا ہے کہ جس دن بانی پی ٹی آئی محمود اچکزئی سےمطمئن نہیں ہوں گے ہٹادیے جائیں گے۔
وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا نے مزید کہا کہ بانی پی ٹی آئی نے کہا سہیل آفریدی وزیراعلیٰ ہوگا تو دنیا کی کوئی طاقت اس کو بدل نہیں سکتی۔
اُن کا کہنا تھا کہ جب تک بانی پی ٹی آئی کا کوئی نیا پیغام نہیں آئے گا میں ہی وزیراعلیٰ رہوں گا، کے پی میں ہماری حکومت فقط بانی چیئرمین ہی ختم کرسکتے ہیں۔
سہیل آفریدی نے یہ بھی کہا کہ کے پی میں فارورڈ بلاک پروپیگنڈا ہے، جو اس لیے کیا گیا کہ وفاقی بجٹ میں ایک بار پھر عوام کا خون چوسا جائے گا۔
اڈیالہ جیل میں بانی پی ٹی آئی اور اُن کی اہلیہ بشریٰ بی بی کی ہفتہ وار ملاقات کرادی گئی۔
انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت نے کابینہ سے بجٹ پیپر پاس کرالیا ہے، ہم نے کوئی سرپلس بجٹ نہیں دیا، کے پی حکومت عوام دوست بجٹ پیش کرے گی۔
وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا نے کہا کہ ہمارا سارا فوکس صحت، تعلیم، زراعت، نوجوان اور جنگلات پر ہے، ہم اپنے بجٹ میں بہت اچھی اور عوام دوست چیزیں لارہے ہیں۔