ماحولیاتی بحران اور اس کے عالمی مضمرات
اشاعت کی تاریخ: 22nd, November 2025 GMT
دنیا کے شمالی نصف کُرے میں وہ خطے، جنھیں کبھی صنعتی ترقی، ٹیکنالوجیکل برتری اور حکمرانی کے عالمی ماڈل کی حیثیت حاصل تھی، آج موسمیاتی تبدیلی کے ایسے بحران سے گزر رہے ہیں جس سے ان کے اپنے سیاسی، معاشی اور سماجی نظام ہل کر رہ گئے ہیں۔
امریکا سے لے کر یورپ، اور برطانیہ سے آرکٹک تک، موسمیاتی تبدیلی اب کسی مستقبل کا خطرہ نہیں رہی، یہ ایک روزانہ کی حقیقت ہے، جو انسانی زندگی، قومی سلامتی، معیشت اور عالمی توازن تک کو تبدیل کر رہی ہے۔
اس حوالے سے سوال یہ ہے کہ جب احتساب کا وقت آیا ہے توکیا مغربی دنیا خود اس بحران سے نمٹنے کی اہلیت رکھتی ہے اور اگر نہیں، تو اس کے جھٹکے پاکستان اور گلوبل ساؤتھ کو کس طرح متاثر کریں گے؟
امریکا میں 2024/25کے تین برس مسلسل ایسے رہے کہ کئی ریاستیں 50 ڈگری سینٹی گریڈ تک کے درجہ حرارت کو ریکارڈ کرتی رہیں۔ ’’ ہیٹ ڈوم ‘‘ ناقابلِ برداشت گرمی کو کئی دنوں تک علاقے پر جما دیتا ہے اور نہ بجلی کا نظام اسے برداشت کر پاتا ہے، نہ ہی انسانی جسم۔
یہ تین حقائق امریکا کے بحران کو واضح کرتے ہیں کہ شدید گرمی سے اموات جنگلاتی آگ کے مقابلے میں کئی گنا زیادہ ہیں۔ اس سے کم آمدنی والے طبقے سب سے زیادہ متاثر ہوتے ہیں اور ایئرکنڈیشننگ کی سہولت نہ رکھنے والے لوگ ان ’’ خاموش ہلاکتوں‘‘ کا بڑا حصہ بنتے ہیں۔
کیلیفورنیا، اوریگن اور نیواڈا میں جنگلاتی آگ اب سیزن کے تابع نہیں رہی، وہ سال کے کسی بھی مہینے پھوٹ پڑسکتی ہے۔ تازہ ترین تحقیق بتاتی ہے کہ انسانی سرگرمی نے مغربی امریکا میں’’ میگا فائرز‘‘ کا خطرہ تین گنا بڑھا دیا ہے۔
خشک سالی، شدید گرمی، تیز ہوائیں مل کر ایک ایسا ماحولیاتی ’’پرفیکٹ اسٹورم ‘‘ تشکیل دے رہی ہیںجو قابو سے باہر ہے۔
یہ ماحولیات کا مسئلہ کم اور ماحولیاتی انصاف (Climate Justice) کا مسئلہ زیادہ بنتا جا رہا ہے،کیونکہ بدترین گرمی غریب اور پسماندہ آبادیوں کو نشانہ بناتی ہے جب کہ امریکی انفرا اسٹرکچرگرم مستقبل کے لیے بنایا ہی نہیں گیا۔
دوسری جانب بیمہ کمپنیاں آگ اور طوفان زدہ علاقوں سے باہر نکل رہی ہیں، جس سے گھر بیچنا تک مشکل ہوجاتا ہے۔
یورپ کے اہم دریا رائن، ڈینیوب، پو جن پر زراعت، تجارت اور توانائی کا پورا نظام کھڑا ہے جو مسلسل کم بہاؤ کا شکار ہیں۔ جس کے نتیجے میں زراعت میں 30/40 فیصد تک کمی، شپنگ لائنز کے راستے متاثر، خوراک کی قیمتوں میں اضافہ اور صنعتی پیداوار سست ہونے کے امکانات میں اضافہ ہو رہا ہے۔
الپس میں برف تیزی سے کم ہو رہی ہے۔ سائنسی ماڈل کہتے ہیں کہ2050 تک یورپی گلیشیئرزکا نصف حصہ ختم ہو جائے گا جس کی وجہ سے سیاحت، پانی اور توانائی تینوں بڑے شعبے خطرے میں پڑجائیں گے۔
پچھلے دو سال میں یورپ نے سیکھا کہ گرین ٹرانزیشن چاہے جتنی ضروری ہو، مگرگیس کی عدم دستیابی، سردیوں میں ایندھن کی کمی اور بڑھتی ہوئی قیمتیں پورے براعظم کو غیر معمولی دباؤ میں ڈال دیتی ہیں۔
موسمیاتی تبدیلی نے یورپ کے لیے ایک نئی حقیقت لکھ دی ہے کہ اب بحران صرف موسم کا نہیں، توانائی کے وجود کا بھی ہے۔
برطانیہ نے 2024 کی قومی رپورٹ میں اعتراف کیا ہے کہ اس وقت 6.
انگلینڈ کی مشرقی ساحلی پٹی دنیا کی تیزی سے کٹتی ہوئی لائنوں میں شامل ہے۔ اندازے کے مطابق 2055 تک 3,500 گھر براہ راست سمندری کٹاؤ میں ضایع ہونے کے خطرات سے دوچار ہوں گے، جس کی وجہ سے کئی ساحلی قصبے نقشے سے مٹ سکتے ہیں۔
دوسری جانب ثقافتی ورثہ بھی خطرے میں ہے۔ ایڈنبرا کیسل سے لے کر تاریخی لائٹ ہاؤسز تک، برطانوی شناخت کے نشانات پانی اورکٹاؤ کے سامنے کمزور پڑ رہے ہیں۔
مغرب نے ماحولیاتی قیادت کا دعویٰ کیا ہے، لیکن حقیقت چند کمزوریوں سے پردہ اٹھا رہی ہے کیوں کہ کاربن نیوٹرل کا نعرہ لگایا جا رہا ہے، مگر تیل و گیس پر سبسڈیز بھی برقرار ہیں۔ یہ تضاد بحران کو مزید بڑھا رہا ہے۔ کلائمیٹ فنانس میں وعدے پورے نہیں کیے جا رہے ہیں۔
گلوبل ساؤتھ کو ہر سال 100 بلین ڈالر دینے کا وعدہ کیا گیا، مگر رقم مکمل نہیں پہنچی، پاکستان جیسے ممالک اس کا سب سے بڑا نقصان اٹھا رہے ہیں۔ ماحولیاتی انصاف کا مسئلہ ابھی تک حل نہیں ہوا۔
امریکا میں سیاہ فام، ہسپانوی اور غریب کمیونٹیز سیلاب اورگرمی کا سب سے بڑا نقصان اٹھا رہی ہیں۔ مغربی دنیا کا انفرا اسٹرکچر پرانی دنیا کا ہے جب موسمیاتی تبدیلی رونما نہیں ہوئی تھی۔ مغربی فنِ تعمیر اور سڑکیں اس موسمی شدت کے لیے بنائی ہی نہیں گئیں جو اب روز کا معمول بنتی جا رہی ہے۔
یورپ کی خشک سالی اور امریکا کی گرمی عالمی زرعی قیمتیں بڑھا رہی ہیں، جس کی وجہ سے پاکستان جیسے ممالک مزید مہنگائی کا شکار ہوں گے، اگر مغرب اپنے داخلی بحران میں پھنس جاتا ہے تو پاکستان کو گرین فنڈنگ، ٹیکنالوجی اور موسمیاتی مدد مزید کم ہو سکتی ہے۔
سمندری سطح میں ہونے والے اضافے کے نتیجے میں کراچی، ٹھٹھہ اورگوادر خطرے میں ہیں۔ برطانیہ کے ساحلی ماڈل اور سیلابی نقشے پاکستانی ساحلی علاقوں کے لیے بھی انتباہ بن رہے ہیں۔ عالمی سیاست میں’’ کلائمیٹ سیکیورٹی ‘‘ کا نیا تصور ابھرکر سامنے آرہا ہے۔
اب موسمیاتی تبدیلی قومی سلامتی کا مسئلہ بن چکی ہے، پانی، خوراک، توانائی، سرحدی ہجرت سب اس سے جڑتے جا رہے ہیں۔
مغرب اس وقت ایسے موسمیاتی طوفان میں ہے جسے اس نے خود جنم دیا، مگر اب وہی طوفان اس کی سیاسی معیشت کو کمزورکررہا ہے، مگر اصل سوال یہ نہیں کہ مغرب کیا کرے گا؟
اصل سوال یہ ہے کہ اس کی قیمت کون چکائے گا؟ گلوبل ساؤتھ اور پاکستان پہلے ہی اس بحران کے اثرات کا بوجھ اٹھا رہے ہیں جب کہ ہماری کاربن شراکت دنیا کی مجموعی آلودگی کا 1 فیصد سے بھی کم ہے۔
پاکستان کے لیے یہ وقت دو اقدامات اٹھانے کا ہے۔ گرین ڈپلومیسی میں تیزی لانا اورکلائمیٹ ایمرجنسی کو قومی سلامتی کے طور پر دیکھنا کیونکہ موسمیاتی بحران اب عالمی شمال اور جنوب، امیر اور غریب، طاقتور اورکمزور ، سب کے درمیان ایک نئی سیاسی لکیرکھینچ رہا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: موسمیاتی تبدیلی کا مسئلہ ا رہا ہے رہے ہیں رہی ہیں رہی ہے کے لیے
پڑھیں:
امریکا کی جانب سے ایران پر بمباری کیلئے برطانوی ائیربیس کا استعمال، پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو سخت ردعمل کی دھمکی
امریکا کی جانب سے ایران پر بمباری کیلئے برطانوی ائیربیس کا استعمال، پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو سخت ردعمل کی دھمکی WhatsAppFacebookX 0 23 July, 2026 سب نیوز
لندن (آئی پی ایس )امریکا کی جانب سے ایران پر بمباری کے لیے برطانوی ائیربیس کے استعمال پر ایرانی پاسداران انقلاب نے برطانیہ کو سخت ردعمل کی دھمکی دی ہے۔برطانوی میڈیا کے مطابق نئے وزیراعظم اینڈی برنہم کے عہدہ سنبھالنیکے بعد امریکی فوج نے گلوسیسٹرشائر میں واقع رائل ائیر فورس کے آر اے ایف فیئرفورڈ فضائی اڈے سے ایران کے خلاف B-1 اسٹریٹجک بمبار طیاروں سے بمباری کی۔
ایرانی میڈیا کے مطابق اس حملے میں امریکی طیاروں نے ایران عراق سرحدی علاقے شلمچہ بارڈرکراسنگ کو نشانہ بنایا جس میں 2 افراد شہید اور 11 زخمی ہوئے۔ ایران نے اس کے جواب میں آنکھ کے بدلے آنکھ کی بنیاد پر جوابی کارروائیوں کی دھمکی دی۔
ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نیکہا کہ ہماری دفاعی پالیسی واضح ہے، آنکھ کے بدلے آنکھ۔ جو لوگ کسی بھی قسم کی مدد کے ذریعے ایران کیخلاف جارحیت میں شریک ہوں گے، انہیں بھی جائز ہدف سمجھا جائیگا۔اب ایرانی پاسداران انقلاب نے امریکی طیاروں کے برطانوی فضائی اڈوں کے استعمال پر برطانیہ کو خبردار کیا ہے۔
پاسداران انقلاب کا کہنا ہیکہ حالیہ کارروائیوں میں امریکی افواج نے ابتدا میں بحر ہند میں موجود بحری جہازوں سے کروز میزائل داغے اور جب ان کے ذخائر کم ہوگئے تو برطانیہ کے آر اے ایف فیئرفورڈ فضائی اڈے سے اڑنے والے B-1 بمبار طیاروں کا استعمال کیا۔پاسداران انقلاب نے خبردار کیا ہیکہ ایران کے خلاف کسی بھی جارحیت میں استعمال ہونے والا ہر فوجی اڈہ ایک جائز فوجی ہدف سمجھا جائے گا۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookX پچھلی خبرجدہ قونصل خانے میں اہم انتظامی تبدیلی، فرینہ ارشد نے ڈپٹی قونصل جنرل کا عہدہ سنبھال لیا اگلی خبرآزاد کشمیر کے شہر میرپور میں 45 روز بعد موبائل فون اور انٹرنیٹ سروس بحال ہونا شروع پاکستان میں اسمارٹ فون کا استعمال 62 سے بڑھ کر 72 فیصد تک پہنچ گیا، وزیراعظم کو بریفنگ پاکستان کو درپیش خطرات کا باعث بننے والے دہشتگردوں اور ان کے سہولتکاروں کا ہر قیمت پر خاتمہ کیا جائے گا، فیلڈ مارشل سید... صدر ٹرمپ کی پالیسی آنکھ کے بدلے سرکی ہے، ایران کو ہر گزرتی رات کیساتھ بھاری قیمت چکانا ہوگی: مارکو روبیو کا انتباہ ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدے کو معاہدہ ابراہیمی میں شمولیت سے مشروط کردیا آزاد کشمیر کے شہر میرپور میں 45 روز بعد موبائل فون اور انٹرنیٹ سروس بحال ہونا شروع جدہ قونصل خانے میں اہم انتظامی تبدیلی، فرینہ ارشد نے ڈپٹی قونصل جنرل کا عہدہ سنبھال لیاCopyright © 2026, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم