Express News:
2026-07-24@13:07:18 GMT

وفاق ، آئین اور وحدتیں

اشاعت کی تاریخ: 23rd, November 2025 GMT

آئین ایک عمرانی معاہدہ ہوتا ہے جو مخصوص زمانوں میں اور مخصوص حالات میں بنتا ہے۔ پاکستان میں جو آئین 1947 میں بننا تھا، وہ 1971 کے حالات کے پس ِ منظرمیں بنا،اگر یہ آئین 1947میں بن جاتا تو یہ ملک دو لخت نہ ہوتا۔

ہندوستان کے آئین میں صوبائی خود مختاری یا یوں کہیے کہ وحدتوں کا اختیار اتنا واضح نہیں ہے۔ ہندوستان کے آئینی ماہر بی، این، باسو اس کا سبب یہ بیان کرتے ہیں کہ پاکستان کی وحدتیں اپنا جدا گانہ تشخص اور تاریخ رکھتی ہیںجب کہ موجودہ ہندوستان کی ریاستیں صدیوں سے ایک سلطنت ہیں اور مسلسل ساتھ ساتھ رہی ہیں۔

ہندوستان کے ماہر قانون امبیدکر کے سامنے ہندوستان کی تاریخ اور حقیقتیں تھیں اوراسی طرح جب ہمارے آئین کی بنیاد رکھی گئی تو یہی حقیقت ہمارے آئینی ماہرین کے سامنے تھی۔1940 قرارداد پاکستان کا پس منظر کیا تھا؟

کیا وجہ تھی کہ شیر بنگال فضل حق اور قائد اعظم نے ایک ساتھ آل انڈیا مسلم لیگ 1940 کے سالانہ اجلاس کی صدارت کی۔ خاکسار جماعت کے جتھوں نے دونوں کو سلامی دی تھی۔ہمار ا آئین 1973 میںتشکیل پایا لیکن اس آئین نے 1940 کی قرارداد پاکستان کی حقیقت کو تسلیم کیا ہے۔

ایسا بھی نہیں کہ جو آپ نے مانا وہ آئین ہوگیا مگر جو آئین کا بین الاقوامی معیار ہے، وہ آئین کا حصہ ہو جیسا کہ بنیادی حق۔آئین ، ملک میں تمام بسنے والی اقوام ، ان کی ثقافت، زبان ،تاریخی تشخص کا ترجمان ہے اور یہ آئین ان تمام اقوام کے درمیان افہام و تفہیم اور رضامندی سے تحریر کیا جاتا ہے جس کو انگریزی میں Consensus Document  کہا جاتا ہے۔

آئین کی ترامیم وقتی تقاضوں کے مطابق کی جاتی ہیں لیکن اس کا ہرگز یہ مطلب نہیں ترامیم کے ذریعے آئین کے بنیادی ڈھانچے کو ہی ہلا دیا جائے۔آئین بنانا اور ترامیم کرنا دونوں ہی الگ الگ حقیقتیں ہیں۔نہ ہی 1956کے آئین نے پاکستان کو وفاق مانا تھا اور نہ ہی1962 کے آئین نے۔

1973 کے آئین پاکستان کی تاریخی حیثیت ظاہر کی اور پاکستان کو وفاق مانا۔وفاق کے معنی کیا ہیں؟ جب مختلف اقوام تاریخی اعتبار سے اپنی جداگانہ حیثیت سے دستبردار ہو کر ، ایک ساتھ اور جڑ کر ایک ملک بنائیں۔

1947 میں ہندوستا ن بنا نہیں تھا بلکہ آزاد ہوا تھا جب کہ پاکستان بنا تھا۔ پاکستان کی بنیاد وہ ریاستیں بنیں جو ہندوستان سے الگ ہوئیں۔یعنی 1947 ہم بھی آزاد ہوئے تھے اور ہم سب نے مل کر ایک آزاد ملک بنایا اور ہندوستان ایک ملک تھا جو 1947 میں آزاد ہوا۔

اکبر بادشاہ کے دور میں سندھ اور بنگال کو فتح کر کے ہندوستان کا حصہ بنایا گیا اور پنجاب پہلے سے ہی حصہ تھا۔ان ادوار میں مغل ، ترخان ، ترک اور ارغون حملہ آور درہ خیبر سے داخل ہو تے تھے، پانی پت کے میدانوں میں جنگیں ہوتی تھیں اور جو فاتح ہوتا، دہلی کا تخت نشین ہوجاتا تھا۔

اورنگزیب بادشاہ کے دور حکومت میں جب دلی کی حکومت کمزور ہوئی تو سندھ اور پنجاب نے اپنا آزادانہ تشخص دوبارہ بحال کیا۔ رنجیت سنگھ نے کشمیر، شمال مغربی علاقے اور پنجاب و پشاور تک کے علاقوں کو اکٹھا کرکے ایک سلطنت قائم کردی۔

نیچے خان آف قلات نے ڈیرہ ٖ غازی خان کا علاقہ فتح کیا۔انگریزوں کے تقسیم کے وقت ان تمام علاقوں کی حدود کو ایسے ہی برقرار رکھا سوائے فرنٹیئر کے جس کو انھوں نے NWFP قرار دیا۔

اسی لیے ہمارا 1973 وفاق کے معاملے میں انتہائی حساس ہے،جو بھی ترامیم آئین میں کی جائیں گی اس کے لیے دو تہائی اکثریت درکار ہے مگر کوئی نیا صوبہ بنانے کے لیے صوبائی اسمبلی کی دوتہائی اکثریت کی بھی ضرورت ہوتی ہے، یہ ہمارا آئین کہتا ہے۔

ہندوستان کے آئین میں ایسی شقیں موجود نہیں،اس کی وجوہات ڈاکٹر باسو اور بہت سے آئینی و تاریخی ریسرچرز اور اسکالرز سمجھا سکتے ہیں۔بنگال کی تاریخی حقیقتیں ہمارے سامنے ہیں جب پاکستان کے ابتدائی حکمرانوں نے بنگالی قوم پر اردو زبان مسلط کرنا چاہی تو، اس کے نتائج کیا نکلے؟ وہ ہم سب کے سامنے ہیں۔

پی ٹی آئی، پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) وفاقی جماعتیں نہ سہی لیکن بڑی سیاسی جماعتیں ہیں۔ان تینوں پارٹیوں کی تین صوبوں میںمضبوط بنیادیں ہیں۔

مسلم لیگ (ن) کی پنجاب میں، پی ٹی آئی کی خیبر پختونخوا میں، پیپلز پارٹی کی سندھ میں مگر تینوں ہی پارٹیاں وفاق میں سیاست کرتی ہیں بلکہ اقتدار کی سیاست کرتی ہیں۔

پی ٹی آئی اس وقت اپنی بقاء کی جنگ لڑ رہی ہے،یہ جنگ پی ٹی آئی اپنی ضد اور غیر دانستگی کے باعث تیزی سے ہار بھی رہی ہے،وہ اس لیے کہ 2024 میں خیبر پختونخوا میں ہونے والے انتخابات شفاف نہ تھے، مگرمسلسل دوحکومتیں خان صاحب کے پاس رہیں۔

مگر خیبر پختونخوا میں قوم پرستوں کی حمایت خان صاحب کو حاصل نہ تھی ۔ ان کو پنجاب میں مقبولیت حاصل تھی۔ چاروں صوبوں میں سے اگر کسی صوبے میں علیحدگی پسند تحریک ہے تو وہ بلوچستان میں ہے مگر وہ بھی گمراہ کن ہے جو خود بلوچ قوم کے لیے مسائل پیدا کر رہی ہے۔

خیبر پختونخوا میں طالبان یا پھر اثر و رسوخ رکھنے والے افغانی لوگ کارروائیاں کرتے ہیں۔ان تمام حالات میں اگر ہم نئے صوبے یا پھر اٹھارہویں ترمیم کی بات کرتے ہیں جس میں آئین کے طریقہ کار کے مطابق صوبائی اسمبلی سے دوتہائی اکثریت درکار ہے وہ ناممکن ہے۔

فروغ نسیم صاحب، جب ایم کیو ایم میں شمولیت رکھتے تھے ، تو وہ یہ ترمیم اسمبلی میں لے کر آئے تھے کہ الگ صوبے بنائے جائیں جو کہ آئین کے آرٹیکل 39 میں طریقہ کار موجود ہے اس میں تبدیل لائی جائے۔وہ اس بات کا نعم البدل لائے تھے کراچی میں ریفرنڈم کر وایا جائے کہ کیا لوگ نیا صوبہ چاہتے ہیں؟

اگر اس بات پر غورو فکر کیا جائے تو چاروں صوبوں میں نئے صوبے بنانے کی بازگشت موجودہے۔ پنجاب میں سرائیکی صوبہ، بلوچستا ن میں پشتو بیلٹ کا نیا صوبہ، سندھ میں مہاجروں کا نیا صوبہ اور خیبرپختونخوا میں میں ہزارہ ، ہند کواور گوجری بولنے والوں کا نیا صوبہ۔اگر یہ تمام صوبے بن جائیں تو کیا سینیٹ میں ان کو برابری کے تناسب سے نشستیں میسر ہوںگی؟


صوبے کا ہونا وحدت نہیں ہوتا۔افغانستان میں کئی صوبے ہیں اور ان کے گورنر مقرر ہیں یہ اور بات ہے کہ افغانستان میں کبھی کسی آئین کا وجود نہ تھا اور اگر تھا بھی تو کیا وہ آئین کے وضع کردہ پیمانوں پر کبھی پورے اترے جو کہ مہذب دنیا میں مروج ہیں۔

افغانستان میں صوبے محض انتظامی ہیں، نہ وہ وحدتیں ہیں اور نہ ہی Federating Units  ہیں۔وہاں ڈویژن کو صوبہ کہا جاتا ہے۔جب کہ ہمارے آئین میں صوبہ معنی وحدت جو پاکستان بننے سے پہلے اور ہزاروں سال سے اپنا تشخص رکھتے تھے۔

ان تمام وحدتوں نے مل کر پاکستان بنایا۔جب اس ملک کو آئین دے پائے تو اس کا اثر بلآخر وفاق پر پڑا۔پھر آئین کی تشکیل کے بعد دو دہائیوں تک آمریتوں کا راج رہا، وہ اس آئین کو ختم نہیں کر سکے اور وہ کر بھی نہیں سکتے تھے کیونکہ یہ آئین 1956 کے آئین کی طرح کسی افسر شاہی نے ترتیب نہیں دیا تھا بلکہ یہ عوام کے نمائندوں کا متفقہ دستور تھا۔ 

مگر انھوں نے ترامیم کے ذریعے آئین میں بگاڑ پیدا کیا،آج جس تیزی سے آئین میں ترامیم لائی جا رہی ہیں مجھے پھر سے ایک پنڈورا باکس کھلتا ہوا نظر آ رہا ہے،جس کے ذریعے اٹھارہویں ترمیم کو رول بیک کیا جائے گا اور اگر اس طرح کا کوئی ایڈوینچر کیا جاتا ہے تو یہ ایڈوینچر وفاق کو نقصان پہنچائے گا۔ 
 

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: خیبر پختونخوا میں ہندوستان کے پاکستان کی پی ٹی ا ئی نیا صوبہ ا ئین کے کے ا ئین ا ئین کی جاتا ہے

پڑھیں:

دہشتگردی میں بھارت کا کردار واضح، بلوچستان کے عوام کی قربانیاں رائیگاں نہیں جائیں گی،وزیراعظم شہباز شریف

اسلام آباد وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ پاکستان میں ہونے والی دہشت گرد کارروائیوں میں بھارت کا کردار بالکل واضح ہے، جبکہ افغان عبوری حکومت دہشت گرد عناصر کو اپنی سرزمین استعمال کرنے سے روکنے میں ناکام رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت دہشت گردی کے مکمل خاتمے اور ملک میں پائیدار امن کے قیام کے لیے ہر ممکن اقدامات جاری رکھے گی۔

بلوچستان نیشنل ورکشاپ کے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ بلوچستان رقبے کے لحاظ سے پاکستان کا سب سے بڑا جبکہ آبادی کے اعتبار سے سب سے چھوٹا صوبہ ہے، تاہم ملکی استحکام، دفاع اور قومی یکجہتی میں اس کا کردار انتہائی اہم رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان کی سیاسی قیادت نے ہمیشہ قومی مفاد کو ترجیح دی اور قیامِ پاکستان میں بھی بلوچستان کے عوام نے تاریخی کردار ادا کیا۔

وزیراعظم نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان نے بے مثال قربانیاں دی ہیں اور 90 ہزار سے زائد پاکستانی اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کر چکے ہیں۔ انہوں نے مستونگ میں سیشن جج پر حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ شہداء کی قربانیاں رائیگاں نہیں جائیں گی اور دہشت گردوں کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔

شہباز شریف نے کہا کہ ایک وقت ایسا تھا جب ملک سے دہشت گردی کا تقریباً مکمل خاتمہ ہو چکا تھا، تاہم ایک منظم سازش کے تحت دہشت گردی نے دوبارہ سر اٹھایا۔ انہوں نے زور دیا کہ اس چیلنج کا مقابلہ پوری قوم کو متحد ہو کر کرنا ہوگا تاکہ پاکستان کو امن، استحکام اور ترقی کی راہ پر گامزن رکھا جا سکے۔

وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان کی حالیہ سفارتی کامیابیاں عالمی سطح پر ملک کے مثبت تشخص کی عکاس ہیں۔ انہوں نے نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار اور عسکری قیادت، بالخصوص فیلڈ مارشل کی خدمات کو سراہتے ہوئے کہا کہ خطے میں امن و استحکام کے لیے پاکستان کی سفارتی کوششوں کو عالمی برادری قدر کی نگاہ سے دیکھ رہی ہے۔

انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ وفاق اور چاروں صوبوں کے باہمی تعاون سے دہشت گردی کا مکمل خاتمہ کیا جائے گا اور پاکستان کو معاشی ترقی، امن اور خوشحالی کی نئی منزلوں تک پہنچایا جائے گا۔

متعلقہ مضامین

  • دہشتگردی میں بھارت کا کردار واضح، بلوچستان کے عوام کی قربانیاں رائیگاں نہیں جائیں گی،وزیراعظم شہباز شریف
  • پاکستان میں دہشت گردی کے پیچھے بھارت کا کردار واضح ہے، وزیراعظم
  •  بلوچستان کے عوام کی قربانیوں کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا:شہباز شریف
  • فیلڈ مارشل عاصم منیر پھر مرکز نگاہ
  • خارجہ کامیابیاں یا داخلی استحکام؟
  • سلامتی کونسل میں پاکستان نے بھارت کو لاجواب کر دیا
  • بھارت امن دشمن ہے، جموں و کشمیر نہ اُس کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ ہی داخلی معاملہ، پاکستان
  • مسجد اقصیٰ کی حرمت پر کوئی سمجھوتہ نہیں، پاکستان سمیت 8 ممالک کے وزرائے خارجہ کا دوٹوک اعلان
  • 5 اگست کو پاکستان تحریک انصاف کیا کرنے جا رہی ہے؟
  • پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا