قطر کی ثالثی میں کانگو حکومت اور باغیوں کے درمیان امن معاہدہ
اشاعت کی تاریخ: 23rd, November 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کنشاسا (انٹرنیشنل ڈیسک) قطر کی ثالثی میں کانگو حکومت اور باغیوں کے درمیان امن کے لیے بڑی ڈیل ہو گئی ۔ خبررساں اداروں کے مطابق قطر کے امیر شیخ تمیم بن حمد الثانی نے کانگو جمہوریہ کا دورہ کیا ہے، جس کے چند دن بعد حکومت اور روانڈا کے حمایت یافتہ ایم 23باغی گروپ نے ملک کے مشرق میں لڑائی ختم کرنے کے لیے امن معاہدے کے فریم ورک پر دستخط کر دیے۔ قطری امیر شیخ تمیم بن حمد الثانی کا یہ افریقی ممالک کا پہلا سرکاری دورہ تھا۔ وہ پہلے روانڈا اور اس کے بعد جمعہ کے روز جمہوریہ کانگو گئے، جہاں صدر فیلکس تشیسکیدی نے ائرپورٹ اور صدارتی محل میں امیر قطر کا استقبال کیا۔ مشرقی کانگو میں دہائیوں سے جاری لڑائی کے خاتمے کی کوششیں تیز ہو گئی ہیں۔ امریکی و قطری حکام کا کہنا ہے کہ یہ معاہدہ اہم پیش رفت ہے تاہم امن کے لیے مزید مراحل درپیش ہیں۔ شیخ تمیم نے کانگو کا دورہ روانڈا کے بعد کیا، جہاں انہوں نے صدر پال کاگامی سے ملاقات کی تھی۔ روانڈا طویل عرصے سے یہ الزامات مسترد کرتا رہا ہے کہ اس نے ایم 23 کی مدد کی، جس نے کانگو میں پہلے سے کہیں زیادہ علاقے پر قبضہ جما لیا ہے۔واضح رہے کہ حالیہ برسوں میں قطر اور جمہوریہ کانگو کے درمیان سفارتی تعلقات میں وسعت آ گئی ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
ایران-امریکا مجوزہ معاہدہ، عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت میں کمی
ایران کی جانب سے امریکا کے ساتھ مجوزہ معاہدے پر نظرثانی کی رپورٹس کے بعد عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت گر گئی ہے۔
غیرملکی خبرایجنسی نے بتایا کہ ایران کی جانب سے امریکی مجوزہ معاہدے کا جائزہ لینے کی ایرانی میڈیا کی رپورٹس کے بعد عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتیں کم ہوگئی ہیں جو پہلے سیشن میں بلند ہوگئی تھیں۔
عالمی مارکیٹ میں برینٹ خام تیل کی قیمت 0.69 ڈالر یا 0.7 فیصد کمی کے ساتھ 94.29 ڈالر فی بیرل اور ویسٹ ٹیکساس کی قیمت 0.82 ڈالر یا 0.9 فیصد کمی کے بعد 91.34 ڈالر فی بیرل کی سطح پر آگئی ہے۔
گزشتہ کے اواخر میں امریکا اور ایران کے درمیان امن معاہدے کی امیدوں کی توقعات پر تیل کی قیمت 16 فیصد سے زیادہ کمی آئی تھی لیکن گزشتہ روز برینٹ اور ویسٹ ٹیکساس کی قیمتوں میں بالترتیب 3 اور 5 فیصد اضافہ ہوگیا تھا۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بیان میں کہا تھا کہ ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں اور اگلے ہفتے کے بعد جنگ بندی میں توسیع اور آبنائے ہرمز کی بحالی کے لیے معاہدہ ہوسکتا ہے۔
ایرانی میڈیا نے رپورٹ کیا کہ عارضی امریکا تجاویز پر تاحال ایران کی جانب سے کوئی جواب نہیں دیا گیا ہے تاہم جائزہ لیا جا رہا ہے۔
امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات میں پیش رفت کی رپورٹس کے باوجود آبنائے ہرمز سے تیل کی سپلائی بدستور محدود ہے اور ماہرین نے تیل کے سرمایہ کاروں کے لیے یہ خطرناک قرار دیا ہے۔