فیک نیوز دنیا کا سب سے بڑا چیلنج ہے،عطاء تارڑ
اشاعت کی تاریخ: 23rd, November 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
باکو(آن لائن) وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ اور سیکرٹری جنرل ڈی ایٹ برائے اقتصادی تعاون ایمبیسیڈر اسیاکا عبدالقادر امام کے درمیان ملاقات ہوئی۔دونوں رہنماؤں نے ڈی ایٹ ممالک کے درمیان باہمی تعاون بالخصوص میڈیا کے شعبہ میں تعلقات، فیک نیوز سمیت اہم عالمی امور پر تبادلہ خیال کیا۔وزیراطلاعات عطاء تارڑ نے کہا کہ فیک نیوز دنیا کا سب سے بڑا چیلنج ہے،سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر مؤثر حکمت عملی کے تحت فیکٹ چیکنگ کا نظام وضع کرنا ضروری ہے،فیک نیوز پر مکمل کنٹرول کے بغیر ڈی ایٹ ممالک کا مشترکہ بیانیہ مضبوط نہیں ہوسکتا۔عطاء تارڑ نے کہا کہ ڈی ایٹ کے رکن ممالک کو اپنی متفقہ میڈیا پالیسی کے ذریعے غلط معلومات کا مقابلہ کرنا ہوگا۔ ملاقات میں ڈی ایٹ ممالک کے درمیان ثقافتی روابط کے فروغ پر بھی مفصل تبادلہ خیال ہوا۔وزیر اطلاعات نے کہا کہ ثقافتی تعاون سے خطے میں ہم آہنگی اور مثبت امیج کا فروغ ممکن ہے، ثقافت، ابلاغ اور ٹیکنالوجی کے اشتراک سے ڈی ایٹ ممالک کے عوام کو مزید قریب لایا جاسکتا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: فیک نیوز
پڑھیں:
مسجد اقصیٰ کی حرمت پر کوئی سمجھوتہ نہیں، پاکستان سمیت 8 ممالک کے وزرائے خارجہ کا دوٹوک اعلان
پاکستان سمیت آٹھ مسلم ممالک کے وزرائے خارجہ نے مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی آبادکاروں اور انتہا پسند عناصر کی حالیہ کارروائیوں کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ ایسے اقدامات نہ صرف مذہبی تقدس کی پامالی ہیں بلکہ پورے خطے میں کشیدگی کو خطرناک حد تک بڑھا رہے ہیں۔
مشترکہ اعلامیے پر پاکستان، سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، قطر، مصر، اردن، ترکیہ اور انڈونیشیا کے وزرائے خارجہ نے اتفاق کیا۔ اعلامیے میں کہا گیا کہ مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی آبادکاروں کی اشتعال انگیز کارروائیاں اور اسرائیلی انتہا پسند وزرا و گروہوں کی سرگرمیاں ناقابلِ قبول ہیں اور ان سے خطے میں امن و استحکام کو شدید خطرات لاحق ہو رہے ہیں۔
وزرائے خارجہ نے اس بات پر زور دیا کہ مسجد اقصیٰ کی تاریخی، قانونی اور مذہبی حیثیت کا ہر صورت احترام کیا جانا چاہیے اور اس میں کسی بھی قسم کی یکطرفہ تبدیلی ناقابلِ قبول ہے۔
مشترکہ اعلامیے میں مسجد اقصیٰ کے انتظامی اور مذہبی امور پر اردن کے محکمہ اوقاف کے خصوصی اختیار کا اعادہ کرتے ہوئے عالمی برادری سے مطالبہ کیا گیا کہ اس حیثیت کو برقرار رکھنے کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں۔
اعلامیے میں اسرائیل سے مطالبہ کیا گیا کہ مسلمانوں کو مسجدِ اقصیٰ میں عبادت سے روکنے کا سلسلہ فوری طور پر بند کیا جائے، مذہبی آزادی کا احترام کیا جائے اور ایسے تمام اقدامات سے گریز کیا جائے جو مزید کشیدگی اور تصادم کا سبب بن سکتے ہیں۔