جامعات، مدارس کے طلبہ کا پاکستان رینجرز کے ٹریننگ سینٹر اور اسکول کا دورہ
اشاعت کی تاریخ: 16th, November 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کراچی (مانیٹرنگ ڈیسک )کراچی کی مختلف جامعات اور مدارس کے 400 سے زائد طلبا و طالبات نے پاکستان رینجرز (سندھ)کے ٹریننگ سینٹر اور اسکول کا دورہ کیا۔تفصیلات کے مطابق شرکا کو پاکستان رینجرز (سندھ)کی بنیادی ذمہ داریوں اور پیشہ وارانہ صلاحیتوں سے آگاہ کیا گیا۔معلوماتی دورے کے دوران رینجرز کے اسپیشل دستوں نے دہشتگردی سے نبرد آزما ہونے کے لیے مختلف مشقوں اور ڈرلز کے مظاہرے پیش کیے۔بعد ازاں شرکانے رینجرز شوٹنگ اور سیڈل سینٹر کا بھی دورہ کیا جہاں انہیں بارڈر پر ہونے والی اونٹ بردار پیٹرولنگ اور فائرنگ کے مظاہرے دکھائے گئے۔خصوصی نشست میں شرکانے سیکیو رٹی کے حوالے سے ڈی جی رینجرز(سندھ)سے مختلف معاملات پر سوال و جواب بھی کیے۔طلبا و طالبات نے کراچی میں امن وامان کے قیام کے لیے سندھ رینجرز کے کردار کو سراہا اور منعقد کی گئی سر گرمیوں پر شکریہ ادا کیا۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
طلبہ اور بے روزگار نوجوانوں کو 50ہزار ای بائیکس ،5 ہزار ای ٹیکسیاں بلاسود دینے کا فیصلہ
لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 02 جون2026ء) پنجاب حکومت نے طلبہ اور بے روزگار نوجوانوں کے لیے ایک اہم اقدام کرتے ہوئے آئندہ مالی سال میں 50ہزار الیکٹرک بائیکس اور 5 ہزار الیکٹرک ٹیکسیاں بلاسود فراہم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔حکومتی ذرائع کے مطابق الیکٹرک بائیکس اور ای ٹیکسیوں کی بلاسود فراہمی کی تجویز کو آئندہ بجٹ میں شامل کرنے کی منظوری دے دی گئی ہے۔ اس اقدام کا مقصد نوجوانوں کو سستی اور ماحول دوست سفری سہولت فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ روزگار کے نئے مواقع پیدا کرنا ہے۔وزیر ٹرانسپورٹ پنجاب بلال اکبر خان کے مطابق ای ٹیکسی اسکیم کے تحت مستحق افراد کو آسان اقساط اور بلاسود فنانسنگ کی سہولت فراہم کی جائے گی جبکہ رجسٹریشن سمیت مختلف مراعات بھی دی جائیں گی۔(جاری ہے)
انہوں نے کہا کہ حکومت نوجوانوں کو بااختیار بنانے اور انہیں معاشی سرگرمیوں میں شامل کرنے کے لیے عملی اقدامات کر رہی ہے۔
بلال اکبر خان کا کہنا تھا کہ اس منصوبے سے ہزاروں نوجوانوں کو روزگار کے بہتر مواقع میسر آئیں گے اور الیکٹرک ٹرانسپورٹ کے فروغ سے ماحولیاتی آلودگی میں کمی لانے میں بھی مدد ملے گی۔حکومت کی جانب سے اس اسکیم کی مزید تفصیلات اور اہلیت کے معیار آئندہ بجٹ اور پالیسی دستاویزات میں جاری کیے جانے کا امکان ہے۔