۔ 27ویں ترمیم آئین و پارلیمنٹ کی روح کے منافی ہے‘ کاشف سعید شیخ
اشاعت کی تاریخ: 10th, November 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
251110-08-30
کراچی‘ ٹنڈوآدم (اسٹاف رپورٹر) امیر جماعت اسلامی سندھ کاشف سعید شیخ نے کہا ہے کہ26 ویں ترمیم کے زخم ابھی ختم نہیں ہوئے تو بڑی عجلت میں27 ویں ترمیم کے ذریعے عدلیہ کو ہی ختم کیا جا رہا ہے جبکہ اس سے قبل پارلیمنٹ کو ربڑ اسٹمپ بنا دیا جا چکا ہے، حقیقت یہ ہے کہ 27 ویں ترمیم آئین و پارلیمنٹ کی روح کے منافی ہے، یہ صورتحال اسلامی جمہوری و فلاحی ملک کے لیے تشویشناک ہے، جماعت اسلامی کا کل پاکستان اجتماع عام فرسودہ و ظالمانہ، جاگیردارانہ نظام کی تبدیلی کا پیش خیمہ ثابت ہوگا، اس اجتماع میں ملک بھرسے لاکھوں افراد مرد و خواتین شریک ہوںگے اور دنیا بھر کی اسلامی تحریکوں کے نمائندے اس میں شریک ہوںگے، یہ اجتماع عام بدل دو نظام غریب و محروم طبقات، خواتین کے حقوق کے تحفظ اور نوجوانوں میں امید کی شمع روشن کرنے کا لائحہ عمل دے گا، دنیا بھر میں تبدیلی کی لہر کے اثرات ہیں، محب وطن قوتیں نئے عزم سے ملک و ملت کی ترقی کا عہد کریں، اجتماع عام کا مقصد نوجوانوں کو مایوسی سے نکالنا ہے، جماعت اسلامی ہمیشہ عوام کے ساتھ ان کے حقوق کی جد و جہد میں شانہ بشانہ کھڑی رہی ہے اور عوامی مسائل کے حل کے لیے اپنا کردار ادا کر رہی ہے، ہمارا ایمان ہے کہ دکھی انسانیت اور عوام کی خدمت بہترین عبادت ہے، اجتماع عام معاشی، معاشرتی، تعلیمی و سیاسی شعبوں میں بڑی تبدیلی کا ذریعہ بنے گا۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے اقبال کالونی ٹنڈوآدم میں جماعت اسلامی پاکستان کے کل پاکستان اجتماع عام کی تیاریوں کے جائزے کے لیے جماعت اسلامی ضلع سانگھڑ کے ذمے داران کے اہم اجلاس سے خطاب کے دوران کیا، جس میں ارکان ضلعی شوریٰ، امرا تحصیل، مقامات ، ضلعی صدر جے آئی یوتھ، سوشل میڈیا، نشر و اشاعت انچارجز اور برادر تنظیمات کے ذمے داران شریک تھے جبکہ صوبائی نائب امیر افضال احمد آرائیں، صوبائی ڈپٹی سیکرٹری سہیل احمد شارق، ضلعی امیر محمد رفیق منصوری، جنرل سیکرٹری ارشد خاصخیلی، ضلعی نائب امیر ظہیر الدین جتوئی بھی اس موقع پر موجود تھے۔
ٹنڈوآدم :امیر جماعت اسلامی سندھ کاشف سعید شیخ ضلع سانگھڑ کے ذمے داران سے خطاب کر رہے ہیں
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: جماعت اسلامی
پڑھیں:
ٹرمپ کے وار پاورز محدود؛ امریکی پارلیمان نے ایران جنگ روکنے کی قرارداد منظور کرلی
امریکی ایوانِ نمائندگان نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران کے ساتھ جاری فوجی تنازع سے امریکی افواج واپس بلانے کی ہدایت دینے والی وار پاورز قرارداد دوبارہ منظور کرلی۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق یہ قرارداد اپوزیشن جماعت ڈیموکریٹ کی رکنِ کانگریس پرامیلا جے پال کی جانب سے پیش کی گئی جس کے حق میں 214 جب کہ مخالفت میں 208 ووٹ پڑے۔
رائے شماری میں اپوزیشن جماعت ڈیموکریٹ کے تمام اراکین نے قرارداد کی حمایت کی جب کہ حکمراں جماعت ریپبلکن کے 5 ارکان نے بھی پارٹی پالیسی کے برعکس ووٹ دیتے ہوئے قرارداد کے حق میں رائے دی۔
خیال رہے کہ یہ دوسری بار ہے کہ ایوانِ نمائندگان نے اسی نوعیت کی قرارداد منظور کی ہے۔ گزشتہ ماہ بھی ایوان نے ایسی ہی ایک قرارداد منظور کی تھی جسے بعد میں سینیٹ نے بھی منظور کر لیا تھا۔
اگرچہ قرارداد کی منظوری سیاسی لحاظ سے اہم سمجھی جا رہی ہے تاہم اس کی قانونی حیثیت محدود ہے۔ ٹرمپ انتظامیہ کا مؤقف ہے کہ اس قسم کی وار پاورز قراردادیں آئین سے مطابقت نہیں رکھتیں اور صدر بطور کمانڈر اِن چیف قومی سلامتی کے معاملات میں فوجی فیصلے کرنے کا اختیار رکھتے ہیں۔
ووٹنگ سے قبل ہونے والی بحث میں ایوانِ خارجہ امور کمیٹی کے سرکردہ ڈیموکریٹ رکن گریگ میکس نے کہا کہ صدر ٹرمپ نے کانگریس کی پیشگی منظوری کے بغیر ایران کے خلاف فوجی کارروائی کر کے امریکی قانون اور آئینی تقاضوں کی خلاف ورزی کی ہے۔
یہ قرارداد ایسے وقت منظور ہوئی جب یمن کے حوثیوں کے بحیرہ احمر میں سعودی آئل ٹینکرز پر حملوں کے بعد عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کرچکی ہیں۔