اجتماع عام ظلم کے نظام کیخلاف ایک نئی اور منظم تحریک کا آغاز ہوگا‘ منعم ظفر خان
اشاعت کی تاریخ: 10th, November 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کراچی (اسٹاف رپورٹر) امیر جماعت اسلامی کراچی منعم ظفر خان نے کہا ہے کہ جماعت اسلامی وہ واحد سیاسی و دینی قوت ہے جو شہر قائد اور ملک بھر میں ظلم، نا انصافی اور کرپٹ نظام کے خلاف ڈٹ کر کھڑی ہے، کراچی کے عوام اگر آج بجلی، پانی، ٹرانسپورٹ اور سیوریج جیسے سنگین مسائل سے دوچار ہیں تو اس کی اصل وجہ حکمران طبقے کی نا اہلی، بد عنوانی اور عوام سے بے حسی ہے، کراچی میں بجلی کا بحران، پانی کی قلت، سیوریج کی تباہ حالی اور سڑکوں کی خستہ حالی سب کے سامنے ہے، اگر کوئی آواز ان مسائل پر بلند ہوتی ہے تو وہ جماعت اسلامی کی آواز ہے، ہم نے کے الیکٹرک کے ظلم کے خلاف عوامی تحریک چلائی، ای چالان کے نام پر ہونے والے ناجائز جرمانوں کو عدالت میں چیلنج کیا اور ہر فورم پر شہریوں کے حقوق کا دفاع کیا، کراچی کی خواتین اور بچیاںآج ٹرانسپورٹ کے بد ترین بحران کا سامنا کر رہی ہیں، شہر کو’’چنگ چی رکشوں اور ڈمپر مافیا کے حوالے کر دیا گیا ہے، لاکھوں خواتین روزانہ غیر معیاری اور غیر محفوظ سواریوں میں سفر کرنے پر مجبور ہیں، حکمرانوں کے لیے یہ ڈوب مرنے کا مقام ہے کہ ساڑھے3 کروڑ آبادی والے شہر کے لیے صرف 300 بسیں ہیں، ہم سب کو اپنی کوششوں کو ایک بڑے مقصد کے ساتھ جوڑنا ہے اور وہ مقصد ہے پاکستان کے اندر نظامِ عدل و انصاف کا قیام، اسی جد و جہد کے تسلسل میں جماعت اسلامی نے 21، 22 اور 23 نومبر کو مینارپاکستان، لاہور میں عظیم الشان کل پاکستان اجتماعِ عام منعقد کرنے کا اعلان کیا ہے، جس کا مرکزی نعرہ ’’بدل دونظام ‘‘ ہے، یہ اجتماع ظلم کے نظام کے خلاف ایک نئی اور منظم تحریک کا آغاز ہوگا، یہ وہی مقام ہے جہاں23 مارچ 1940ء کو قرارداد پاکستان منظور ہوئی اور جہاں سے ایک آزاد اسلامی ریاست کا خواب تعبیر ہوا، اب وقت ہے کہ اسی مقام سے اسلامی نظامِ حیات کے نفاذ اور پاکستان کی حقیقی آزادی کی تحریک کا آغاز کیا جائے۔ پاکستان اللہ کی نعمتوں سے مالا مال ہے لیکن اس ملک کو وہ قیادت میسر نہیں جو امانت، دیانت اور خدمت کے جذبے سے نظام چلائے، جاگیردار، وڈیرے اور کرپٹ سرمایہ دار آج بھی عوام کے حقوق پر قابض ہیں لیکن جماعت اسلامی وہ قوت ہے جو عوام کے اعتماد اور اجتماعی طاقت سے اس نظام کو بدل کر رہے گی۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے جماعت اسلامی ضلع شرقی علاقہ صفورہ کے تحت ممبرکنونشن و عوامی کمیٹیز اور جماعت اسلامی ضلع شمالی کے تحت علاقہ سرجانی ٹاؤن میں فیملی ممبر کنونشن کی تقریبات سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔ تقریبات سے امیر ضلع شرقی نعیم اختر، امیر ضلع شمالی طارق مجتبیٰ و دیگر نے بھی خطاب کیا۔ منعم ظفر خان نے مزیدکہا کہ ای چالان کے نام پر کراچی کے شہریوں پر 5، 10 اور 15ہزار روپے تک کے غیر منصفانہ جرمانے عائد کیے جا رہے ہیں جبکہ لاہور، اسلام آباد اور ملتان جیسے شہروں میں یہی جرمانے 2 سو روپے تک محدود ہیں۔ یہ کھلا امتیاز ہے، یہ کراچی کے شہریوں سے نا انصافی ہے، جماعت اسلامی نے اس معاملے کو نہ صرف عدالت میں چیلنج کیا بلکہ عوامی سطح پر بھی بیداری پیدا کی۔ پارکوں کی کمرشلائزیشن، غیر قانونی تجاوزات اور شہری وسائل کی لوٹ مار کے خلاف بھی جماعت اسلامی میدان عمل میں ہے، ہم عدالتوں میں بھی موجود ہیں، گلیوں اور چوراہوں پر بھی احتجاج کر رہے ہیں تاکہ عوامی مسائل کا حل انصاف کے ذریعے ممکن بنایا جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ سرجانی ٹاؤن کے عوام اس شہر کے محنت کش، دیانت دار اور باہمت لوگ ہیں، یہاں کے نوجوانوں کے لیے روزگار کے مواقع کم اور منشیات کا خطرہ بڑھتا جا رہا ہے، جماعتِ اسلامی نے فیصلہ کیا ہے کہ منشیات کے خاتمے، نوجوانوں کی اصلاح اور خواتین کے حقوق کے تحفظ کے لیے محلہ سطح پر کمیٹیاں تشکیل دی جائیں گی، خواتین کے لیے فہمِ قرآن کے حلقے، درس و تدریس کے مراکز، دستکاری کی تربیت اور کردار سازی کے پروگرام شروع کیے جائیں گے تاکہ ایک صحت مند معاشرہ تشکیل پائے۔ انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی کی تشکیل کردہ عوامی کمیٹیاں صرف تنظیمی ڈھانچہ نہیں بلکہ شہری خدمت کا ایک نظام ہیں، ان کمیٹیوں کے ذریعے محلہ اور گلی کی سطح پر مسائل کی نشاندہی، یونین کمیٹیوں سے رابطہ، کوآرڈی نیشن اور اجتماعی حل نکالا جائے گا، جہاں ہمارے یو سی چیئرمین موجود ہیں وہاں براہِ راست عملی اقدام ہوگا اور جہاں نہیں ہیں وہاں عوامی مزاحمت اور اجتماعی آواز سے حکمرانوں کو ان کے فرائض یاد دلائے جائیں گے۔ منعم ظفر خان نے کہا کہ جماعت اسلامی اللہ کی زمین پر اللہ کے نظام کو غالب کرنے کے عزم کے ساتھ قائم کی گئی تحریک ہے۔ یہ سید ابوالاعلیٰ مودودیؒ کی اُس جد و جہد کا تسلسل ہے، جو انہوں نے برصغیر کے اندھیروں میں علم و ایمان کی شمع جلانے کے لیے کی۔ آپؒ نے غلامی کے ماحول میں امت مسلمہ کو یہ پیغام دیا کہ آزادی صرف سیاسی یا جغرافیائی نہیں بلکہ فکری اور نظریاتی بنیاد پر حاصل کی جاتی ہے، یہی وہ پیغام تھا جس کے تحت آپ نے 26 اگست 1941ء کو جماعت اسلامی کی بنیاد رکھی تاکہ انسانوں کو انسانوں کے رب سے جوڑنے اور اقامت دین کے عملی نظام کو قائم کرنے کی جد و جہد کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ آج کے کنونشن میں نوجوانوں، خواتین اور بزرگوں کی بڑی تعداد میں شرکت اس بات کا ثبوت ہے کہ کراچی کا باشعور طبقہ اپنے شہر اور ملک کی تعمیر و ترقی کے لیے جماعت اسلامی کے ساتھ کھڑا ہے۔ صفورہ ٹاؤن میں 64 کمیٹیاں قائم کی گئی ہیں جو اپنی اپنی آبادیوں میں اصلاحی، سماجی اور فلاحی سرگرمیوں کا آغاز کریں گی، ان کمیٹیوں کا مقصد صرف تنظیمی نہیں بلکہ معاشرتی بھلائی ہے، نوجوانوں کی کردار سازی، درس قرآن اور فہمِ دین کے حلقے، محلے کی اصلاح، منشیات کے خلاف عوامی مہمات اور شہری مسائل کے حل کے لیے اجتماعی کوششیں۔ انہوں نے کہا کہ آج منشیات فروشی شہر کا بڑھتا ہوا المیہ ہے، نوجوانوں کی نسل کو تباہ کرنے کے لیے زہر بیچا جا رہا ہے، اس ناسور کے خاتمے کے لیے بھی جماعت اسلامی عوامی سطح پر کمیٹیاں تشکیل دے رہی ہے تاکہ والدین، اساتذہ اور برادری مل کر اپنے بچوں کے مستقبل کو محفوظ بنا سکیں، اسلام ہمیں اجتماعیت اور تنظیم کی دعوت دیتا ہے، جیسے مسجد دن میں5 مرتبہ لوگوں کو جمع کرتی ہے، جمعے اور عیدین کے مواقع پر بڑے اجتماعات امت کے اتحاد کی علامت بنتے ہیں، اسی طرح جماعت اسلامی عوامی قوت کو منظم کر کے خیر کو غالب کرنے کے مشن پر گامزن ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی کا ا غاز کے خلاف کے لیے
پڑھیں:
ٹرمپ کے وار پاورز محدود؛ امریکی پارلیمان نے ایران جنگ روکنے کی قرارداد منظور کرلی
امریکی ایوانِ نمائندگان نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران کے ساتھ جاری فوجی تنازع سے امریکی افواج واپس بلانے کی ہدایت دینے والی وار پاورز قرارداد دوبارہ منظور کرلی۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق یہ قرارداد اپوزیشن جماعت ڈیموکریٹ کی رکنِ کانگریس پرامیلا جے پال کی جانب سے پیش کی گئی جس کے حق میں 214 جب کہ مخالفت میں 208 ووٹ پڑے۔
رائے شماری میں اپوزیشن جماعت ڈیموکریٹ کے تمام اراکین نے قرارداد کی حمایت کی جب کہ حکمراں جماعت ریپبلکن کے 5 ارکان نے بھی پارٹی پالیسی کے برعکس ووٹ دیتے ہوئے قرارداد کے حق میں رائے دی۔
خیال رہے کہ یہ دوسری بار ہے کہ ایوانِ نمائندگان نے اسی نوعیت کی قرارداد منظور کی ہے۔ گزشتہ ماہ بھی ایوان نے ایسی ہی ایک قرارداد منظور کی تھی جسے بعد میں سینیٹ نے بھی منظور کر لیا تھا۔
اگرچہ قرارداد کی منظوری سیاسی لحاظ سے اہم سمجھی جا رہی ہے تاہم اس کی قانونی حیثیت محدود ہے۔ ٹرمپ انتظامیہ کا مؤقف ہے کہ اس قسم کی وار پاورز قراردادیں آئین سے مطابقت نہیں رکھتیں اور صدر بطور کمانڈر اِن چیف قومی سلامتی کے معاملات میں فوجی فیصلے کرنے کا اختیار رکھتے ہیں۔
ووٹنگ سے قبل ہونے والی بحث میں ایوانِ خارجہ امور کمیٹی کے سرکردہ ڈیموکریٹ رکن گریگ میکس نے کہا کہ صدر ٹرمپ نے کانگریس کی پیشگی منظوری کے بغیر ایران کے خلاف فوجی کارروائی کر کے امریکی قانون اور آئینی تقاضوں کی خلاف ورزی کی ہے۔
یہ قرارداد ایسے وقت منظور ہوئی جب یمن کے حوثیوں کے بحیرہ احمر میں سعودی آئل ٹینکرز پر حملوں کے بعد عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کرچکی ہیں۔