صدر پاکستان کیلئے تاحیات استثنیٰ ہر اعتبار غلط و شرمناک ہے، حافظ نعیم الرحمنٰ
اشاعت کی تاریخ: 9th, November 2025 GMT
لاہور(نیوزڈیسک ) ایرجماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمٰن نے صدر پاکستان کے لیے تاحیات استثنیٰ کو غلط اور شرمناک قرار دے دیا۔
سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر اپنے ردعمل میں امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمٰن نے کہا کہ صدر پاکستان کے لیے تاحیات استثنیٰ دینی، آئینی، جمہوری،سماجی و سیاسی ہر اعتبار سے غلط اور شرمناک ہے۔
انہوں نے کہاکہ یہ نظام انصاف پر شب خون مارنے کے مترادف ہے،پی ڈی ایم اور پیپلزپارٹی کی جمہوریت کیا کیا گُل کِھلائے گی، وصیت، وراثت اور وڈیرہ شاہی پر پارٹی چلانے سے لے کرممبران پارلیمنٹ کی خریدوفروخت، میئر شپ پر قبضے اور فارم 47 کے ذریعے سیاست کو آگے بڑھانے والےعوام کے بعد اب عدالتوں کو بھی جوابدہ نہیں رہنا چاہتے۔
امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ 27 ویں ترمیم کی جو تفصیلات سامنے آرہی ہیں وہ ہولناک ہیں، اپوزیشن کو اسے کلیتاً مسترد کرنا چاہیے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
ٹرمپ کے وار پاورز محدود؛ امریکی پارلیمان نے ایران جنگ روکنے کی قرارداد منظور کرلی
امریکی ایوانِ نمائندگان نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران کے ساتھ جاری فوجی تنازع سے امریکی افواج واپس بلانے کی ہدایت دینے والی وار پاورز قرارداد دوبارہ منظور کرلی۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق یہ قرارداد اپوزیشن جماعت ڈیموکریٹ کی رکنِ کانگریس پرامیلا جے پال کی جانب سے پیش کی گئی جس کے حق میں 214 جب کہ مخالفت میں 208 ووٹ پڑے۔
رائے شماری میں اپوزیشن جماعت ڈیموکریٹ کے تمام اراکین نے قرارداد کی حمایت کی جب کہ حکمراں جماعت ریپبلکن کے 5 ارکان نے بھی پارٹی پالیسی کے برعکس ووٹ دیتے ہوئے قرارداد کے حق میں رائے دی۔
خیال رہے کہ یہ دوسری بار ہے کہ ایوانِ نمائندگان نے اسی نوعیت کی قرارداد منظور کی ہے۔ گزشتہ ماہ بھی ایوان نے ایسی ہی ایک قرارداد منظور کی تھی جسے بعد میں سینیٹ نے بھی منظور کر لیا تھا۔
اگرچہ قرارداد کی منظوری سیاسی لحاظ سے اہم سمجھی جا رہی ہے تاہم اس کی قانونی حیثیت محدود ہے۔ ٹرمپ انتظامیہ کا مؤقف ہے کہ اس قسم کی وار پاورز قراردادیں آئین سے مطابقت نہیں رکھتیں اور صدر بطور کمانڈر اِن چیف قومی سلامتی کے معاملات میں فوجی فیصلے کرنے کا اختیار رکھتے ہیں۔
ووٹنگ سے قبل ہونے والی بحث میں ایوانِ خارجہ امور کمیٹی کے سرکردہ ڈیموکریٹ رکن گریگ میکس نے کہا کہ صدر ٹرمپ نے کانگریس کی پیشگی منظوری کے بغیر ایران کے خلاف فوجی کارروائی کر کے امریکی قانون اور آئینی تقاضوں کی خلاف ورزی کی ہے۔
یہ قرارداد ایسے وقت منظور ہوئی جب یمن کے حوثیوں کے بحیرہ احمر میں سعودی آئل ٹینکرز پر حملوں کے بعد عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کرچکی ہیں۔